Home » اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ۔۔۔ بنت عبدالقیوم
بلاگز

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ۔۔۔ بنت عبدالقیوم

علم بڑی دولت ہے ، قرآن واحادیث جہاں علم کی فضیلت سے روشناس کرواتے ہیں،معلم کی فضلیت بیان کرتے ہیں ،متعلم کی حیثیت مجاہد کی سی بتاتے ہیں ،وہیں اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ کرواتے ہیں کہ ایسی تعلیم باطل ہے جو خدا سے بیگانہ اور آخرت سے غافل کر دے۔

امام ابن خلدون ہوں یا کہ غزالی ۔۔۔ابن رشد ہوں یا اقبال کے علمی نظریات۔۔۔۔ہر ایک کے تعلیمی نظریے کا نچوڑ یہی ہے کہ تعلیم خود شناسی سے خدا شناسی تک کے سفر کا نام ہے ،عرفان ذات سے عرفان الٰہی تک رسائی علم کی بدولت ہی ممکن ہے، حقیقی علوم وہی ہیں جن سے واقف ہونا ہر ایک کے لئے ضروری ہے ۔۔۔ علوم اصلیہ ،یعنی قرآن واحادیث، تفاسیر و فقہ وغیرہ ۔۔۔۔باقی کو علوم نقلیہ کہا جاتا ہے ان میں سے بھی کچھ علوم مفید ہیں ، مثلاً ریاضی ،سائنس،فلکیات،فلسفہ،نفسیات اور کچھ غیر مفید یا نقصان دہ ہیں مثلا علم نجوم ،دست شناسی ، کہانت و سحر۔۔۔ بہرحال وہ علوم جو مفید ہیں ان کا حاصل کرنا فرض کفایہ کے درجہ میں ہے،لیکن عملا یہ ہو رہا ہے کی جن علوم کا حصول فرض عین کے درجہ میں آتا ہے ، ان سے تغافل برتا جا رہا ہے جبکہ وہ علوم جن کا حصول فرض کفایہ میں تھا ۔۔۔ہر چند کہ وہ بھی امت کی فلاح کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔ان کو فرض عین سمجھ کر حاصل کیا جا رہا ہے ،تا ہم ان کے حصول میں بھی نیت خالص ہو ،رضائے الٰہی کا حصول پیش نظر ہو،امت کی بھلائی کے لئے اپنا علم اور صلاحیتیں وقف کرنے کی نیت ہو تو جہاد فی سبیل اللہ کے زمرے میں آ جائے۔۔۔لیکن افسوس!

ان علوم کے حصول مقصد بھی نہایت گٹھیا ہے یعنی مادی فلاح ،اونچا سٹیٹس،برانڈڈ مصنوعات،گلیمر کے پیچھے اندھا دھند اور سخت مقابلے کی دوڑ ہے جو بنا سوچے سمجھے لگائی جا رہی ہے۔۔۔ دراصل یہ وہ تعلیم ہے جس کی قلعی اقبال اور مودودی کے ہاں بخوبی کھلی ملتی ہے، مولانا مودودی صاحب دو ٹوک کا دو ٹوک علمی نظریہ تھا کہ جو تعلیم بندے کو اپنے رب سے نہیں ملواتی اور حلال وحرام کا تصور نہیں دیتی وہ تعلیم نہیں جہالت ہے۔۔۔ اسی طرح اقبال نے بھی میکالے کی تعلیمی پالیسی کی حقیقت کو بخوبی سمجھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے علمی تصورات اس سلسلے میں زبان زد عام ہیں۔۔۔وہ بجا طور پر فرماتے ہیں
ہم سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
کہیں اپنی کڑھن کا اظہار یوں کرتے ہیں۔۔۔
یوں قتل سے بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا
افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

کبھی بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات کہ کر اس تعلیم کی حقیقت سے روشناس کرواتے ہیںمغربی اداروں کے تعلیم یافتہ اقبال اس نظام تعلیم سے بجا طور پر سیکولر پود کے جنم لینے پر دل گرفتہ تھے،خود اپنے بارے میں ان کے کہے گئے ایک مصرعے میں ماہرین تعلیم کے لئے ایک اہم نکتہ ہے۔۔۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ تھا مری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

گویا ایسے مضبوط ایمان کی آبیاری کرنے والا انہیں نئی نسل میں کوئی نہیں نظر آتا تھا،جو تعلیم مغربی کے منفی اثرات سے انھیں محفوظ رکھ سکے اور اس کے تباہی کن فتنوں سے بچا سکے۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ سر سید کا خیال ۔۔۔کہ ،ہمارے طلباء کے دائیں ہاتھ میں فلسفہ ،بائیں میں سائنس اور لا الہ الااللہ کا تاج سر پر ہو گا۔۔۔خام ہی ثابت ہوا۔۔۔گویا اللہ سے دور کرنے والی ہر تعلیم فتنہ ہے خواہ یہ خالص مغربی اداروں یعنی ایچی سن اور بیکن ہاؤس میں دی جائے ، دیسی لبرل اداروں میں میکالے کے نصاب پڑھایا جائے یا مذہب کا دلدادہ جدید طبقہ آکسفورڈ کا نصاب اپنے اداروں میں نافذ کرے ۔۔۔مثبت نتائج اقبال اور مودودی کی دانش کے عین مطابق تا حال موصول نہیں ہوئے۔۔۔ظاہر ہے سیکولر نصاب کو مذہب کا تڑکہ لگا کر ابن تیمیہ ، ابن خلدون ، امام غزالی جیسے با کردار ماہر تعلیم تو پیدا نہیں کیے جاسکتے اور نہ خدا پرست کردار۔۔۔البتہ عامر لیاقت بجا طور پر پیدا ہو گے۔۔۔اللہ ہمیں اس تعلیم اور اس کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔۔۔ آمین

Add Comment

Click here to post a comment