Home » سانحہ مری – فرح مصباح
بلاگز شاعری

سانحہ مری – فرح مصباح

ایک سفر تھا،
ایک داستان تھی
خوبصورت وادی تھی

موت رقصاں تھی
خوف کے اندھیرے تھے
موت کے ڈیرے تھے
معصوموں نے بلک بلک کر
مدد کو پکارا تھا
آئے گا کوئی مدد کو
لفظوں کا بس سہارا تھا
خوراک کی قیمت ہوشربا

چھت کا نہ کوئی آسرا
کفن تھا برف کا
مرجھایا تھا پھول چمن کا
کہانی تھی یہ قصہ تھا
تاریخ کا ایک حصہ تھا
کچھ فرشتے نما تھے انساں
کچھ شیطاں کے پیروکار

کسی نے مدد کی لوگوں کی
کسی نے پہنچایا نقصان
جو پہنچے تھے خوشیاں سجا کر
وہ لوٹے جانوں کو لٹا کر
کسی نے موت کو دیکھا پاس
کسی کو تھی بس واپسی کی اس
ایک سفر تھا

ایک داستان تھی
خوبصورت وادی تھی
موت رقصاں تھی