بلاگز

حادثہ مری – ہمایوں مجاہد تارڑ

دُکھ صرف اِس بات کا نہیں کہ معاملات کی درستگی، انصاف، اور کرپشن فری تبدیلی جیسے دعووں کے ساتھ تختِ حکومت پر براجمان ہوئے خان اور بُزدار کے عہدِ زرّیں میں ہم نے انتظامی نااہلی کو اپنے عروج پر پایا، بلکہ ہر سانحے کے بعد کچھ سیکھ کر آگے بڑھنے والی حکمت و دانائی کے مظاہرے بھی شاندار ہیں۔ حماقتوں کا بازار گرم ہے۔

ہجومِ آدم تو خیر اسی طرح ہے۔ پانی والے سیلاب کی طرح۔ اِسے پائپوں میں بھر کر تہذیب دینا، اور nuts and bolts کسنا، جا بجا اخراج کے لیے ٹوٹیاں لگانا حکومت ہی کا کام ہے۔ سڑک پر اکثریتی آبادی اگر ہیلمٹ نہیں پہنتی تو 100 فیصد حکومت ہی ذمّہ دار ہے کہ انسان بنیادی طور پر غافل اور سہل پسند ہے۔ چیونگم چبا کر سڑک پر پھینک دینے کی پاداش میں 50 ڈالرز جرمانے کا تھپّڑ پڑے، تب یہ سُدھرتا اور مائل بہ تہذیب ہوتا ہے۔ اور پھر رفتہ رفتہ ڈسٹ بِن کا استعمال اس کا کلچر بن جاتا ہے۔قانون کا اطلاق ہی انسان کی سہل پسندی اور غفلت کو احساسِ ذمہ داری والے کلچر میں بدلتا ہے۔ تھوڑا پریشر،چالان ، جرمانہ ، سزا ۔۔۔قبل از وقت خصوصی انتظام اور ڈیوٹی پر متعیّن مستعد عملہ ۔۔۔ اور یہ رہا ایک یکسر بدلا ہوا ماحول۔ جیسے موٹروے پر چڑھتے ہی، یا ترقی یافتہ ملکوں کے ائیر پورٹس پر اترتے ہی ہماری نفسیات، ہمارے رویے بدل جاتے ہیں۔ مری میں سارا سارا دن، ساری ساری رات پھنسے رہنے والوں کے انٹرویوز سنیں۔ وہ کون سا ادارہ تھا جسے کال نہیں کی گئی!ادارہ اَین ڈی اَیم اے منظر سے غائب۔ لوکل پولیس غائب، ٹریفک پولیس غائب، انتظامیہ غائب، فوج نے تو خیر بلانے پر ہی آنا تھا، واپڈا والے غائب۔ بہت سے افراد نے ہوٹلز اس لیے چھوڑے کہ بجلی چلی گئی تھی۔

جب بجلی چلی گئی تو متبادل کوئی انتظام موجود نہ تھا۔ نہ کوئی محکمہ کام کر رہا تھا۔ بچے ڈر گئے، بڑے گھبرا گئے۔ اُدھر بہت سے ہوٹلوں والے بیس، پچیس، تیس ہزار تک کرائے طلب کر رہے تھے۔ یعنی انہیں کسی خدا، کسی قانون، کسی حکومت کا کوئی خوف نہ تھا۔ دنیا باہر مرتی رہے۔ کس کی ذمہ داری ہے یہ؟ انصاف دلانے اور مُلک ٹھیک کردینے کی دعوے دار حکومت کی ذمہ داری!!اوپر گنجائش سے زیادہ گاڑیاں کیوں پہنچیں؟ کس کی ذمہ داری ہے؟؟ انصاف دلانے اور مُلک ٹھیک کر دینے کی دعوے دار حکومت کی ذمہ داری!!جب پتہ تھا یہاں بھاری مقدار میں سنو فال ہونے والا ہے، تو وہ مشینری جو بعد میں لا کر رکھی گئی، اُسے دو دن پہلے کیوں نہ پہنچایا گیا تا کہ راستے بند نہ ہو ں اور ساتھ ساتھ کام ہو؟ وہ مشینری بھی کسی سے کرائے پر نہ لینا تھی، بلکہ خرید کر دے رکھی ہے اِن اداروں کو۔اَینکر عمران خان نے پوچھا ہے کہ “ریسکیو آپریشن کے بعد ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر فضائی معائنہ کیوں، اور کس کام کا؟ یہاں کیا عمارتیں گری پڑی ہیں جو آپ دیکھنے نکلے ہو؟ اور اب مری کو ضلع قرار دینے میں کیا مصلحت ہے؟ ایک عدد مزید ڈی سی مسلط کر دینے میں کیا دانائی ہے؟”نری شوبازی۔پچھلے تین برسوں میں مری کی سڑکیں مزید اُدھڑ چکی ہیں۔

توجہ بھی دلائی گئی مگر بات ہنسی مذاق میں اڑا دی گئی۔ پھر کہوں گا۔ مری حادثہ ہو، یا سانحہ سیالکوٹ، یا سانحہ ساہیوال جیسے بلاک بسٹر وقوعے، یا وطنِ عزیز کے طول و عرض پر محیط اوور آل انتظامی نااہلی ۔۔۔ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آیا کرتی۔ اس خاطر کسی مہاتیر محمد کو 17 سے 22 برس محنتِ شاقّہ و بے مثل ایثار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔”آج بھی سب سے مقبول” خان کا بے حِسی، اور بے حمیتی سے عبارت یہ “عہدِ سعید” ایک طویل جدوجہد کا شاخسانہ ہے۔ عقل سے پیدل یہ پنجاب چِیف منسٹر ہمارے ماتھے کا جُھومر ہے۔”ایک ہی پیج پر ہیں” والی ریاست کے کندھوں پر سوار.بس کسی طور کُرسی سے چمٹے رہنے پر مصر یہ دانشمندانہ سیاست اَپن کی کُل فراست ہے۔ ریاست کی گود میں آ بیٹھنے کے متمنّی دیگر “جمہوری جدوجہد” والے نیلسن منڈیلے بھی سب ایسا ہی سٹَف ہیں ۔۔۔ اور ہر طوفان کے بعد گریہ و ماتم کے لیے طنز وتشنیع کے نت نئے انداز اور الفاظ اپنا کر، رو دھو کر اگلے حادثے تک چپ ہو رہنا ہی ہم کیڑے مکوڑوں کا مقدّر ہے ۔۔۔۔ اپنے مقدّر پر شاکر رہیں ـــــــــ کہ بقولِ واصف: ‘خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔’

Add Comment

Click here to post a comment