Home » سب سے بڑا جہا د – لطیف النساء
بلاگز حالات حاضرہ

سب سے بڑا جہا د – لطیف النساء

سب سے بڑا جہاد کیا ہوتا ہے؟ آسان زبان میں دیکھا جائے تو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے “کلمۂ حق بولنا” سب سے بڑا جہاد ہے۔ واقعی یہ بات جتنی آسان لگتی ہے مگر اتنی ہے نہیں بھلا کیوں؟ پہلے تو آپ یہ سمجھ لیں کہ حق کیا ہے؟ سچ کیا ہے؟ دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرلینے کے بعد حق پر اس پیج پر ہر حال میں ڈٹے رہنا جہاد ہے۔

جہاد صرف زبانی یا بیان بازی نہیں بلکہ صبر آزما اور مشقت طلب کام ہے۔ جان جھونکوں میں ڈالنے کی بات ہے۔ آج فتنوں کے دور میں بے ایمانی اور کرپشن اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ بندہ غلط اور صحیح کا فیصلہ ہی نہیں کر پا رہا۔ وہی حدیث کا مفہوم یاد آتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا ایک زمانہ وہ آئے گا کہ لوگ ہزاروں برائیاں کرینگے مگر حق نہ پہچانیں گے۔ لوگوں نے کہا کیا ایسا وقت بھی آئے گا آپؐ نے فرمایا ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب لوگ اچھائی کرتے ڈریں گے اور برائیوں پر تلے ہونگے۔ لوگوں نے کہا کیا اتنا برا وقت بھی آئے گا یا رسول اللہ؟ آپ ؐ نے فرمایا اس سے بھی برا وقت آئے گا جب لوگ برائی کو بھلائی پر ترجیح دیں گے مگر کوئی روکنے والا نہ ہو گا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ایسا بھی ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا اس وقت جب لوگ کھل کر برائیاں کریں گے بلکہ حق کو باطل بنا دینگے یعنی برائی کو اچھائی سمجھا جا ئے گا اور برائی برائی نہ رہے گی بلکہ اچھائی عیب لگے گی۔ اس وقت لوگ دعائیں مانگ کر تھک جائیں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہونگی۔

واقعی کتنا برا ہوگا وہ وقت! اگر دیکھا جائے تو یہ فتنوں کا وقت موجودہ دور ہی ہے۔ یہاں لوگوں کی نگاہیں اور عقلیں اکثر پلٹی ہوئی دیکھی جا رہی ہیں اس لئے فیصلے غلط سلط ہو رہے ہیں؟ کوئی حق بات کرنا تو درکنار سننا بھی پسند نہیں کرتا۔ ڈنکے کی چوٹ پر برائی کرتا جا رہا ہے۔ شادیاں دیکھ لیں لوگوں کی بے جا تکلفات دیکھ لیں۔ کاروباری معاملات دیکھ لیں، ملبوسات دیکھ لیں، حلیے دیکھ لیں۔ گھروں اور بازاروں کے مناظر دیکھ لیں اور تو اور لوگوں کی آزادی، کمائی کے ذرائع، بے ایمانیاں، عریانیاں اور فحاشیاں دیکھ لیں، آئے دن ہونے والے المناک جرائم دیکھ لیں، میڈیا دیکھ لیں، کیا پروگرامز، کیا ڈرامے، کیا اشتہارات دیکھ لیں۔ کہیں بھی آپ کو حق نظر نہ آئے گا ہر جگہ خاص کر خریدو فروخت کے معاملات دیکھ لیں! آدمی آدمی کا دشمن بنتا جارہا ہے۔ اشیاء خوردنی کے معیار میں گراوٹ، ملاوٹ، بے جا مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ہر لیول پر ہر سطح پر بے ایمانی اور کرپشن!!! کیا برائیاں ہیں؟ کوئی قابل بھروسہ نظر نہیں آتا، حد تو یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ڈر تا ہے۔ دو نمبری کیا خوبی ہے؟ استغفر اللہ۔ ہماری دعائیں کیسے قبول ہوں؟ کوئی سچ ماننے کو تیار نہیں۔

دس گیارہ دن کا دھرنا، صبر استقلال اور برداشت کی، اس المناک معاشرے میں جن کی مثال بھی لوگوں کے دلوں کو جب نہ گرمائے تو مردہ ضمیروں پر صد افسوس! کہ حق کی خاطر اپنے بچوں کے پر امن اور تحفظ کی خاطر انکے حق کی خاطر یہ مٹھی بھر لوگ کتنی محنت مشقت سے اس دھرنے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور باقی ان کا ساتھ تک دینا نہیں چاہتے جبکہ ہر طرف آستینوں کے سانپ ناگ بن کر ڈستے جا رہے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کر رہا! اتنی تباہیاں ہورہی ہیں روٹی کپڑا مکان تو کیا اب تو بجلی گیس پانی جیسی چیزیں۔ ان کی عدم دستیابی ٹریفک کی سنگین صورت حال پکارپکار عوام کی بے کسی اور بے بسی کا ثبوت دے رہی ہے۔ اس جان لیوا صورتِ حال میں بھی حق کیلئے حق کا ساتھ نہ دینا “ظلم “ہے اور بہت بڑا ظلم ہے جو جہاد کا تضاد ہے یہ تو وقت کی پکار ہے۔ یہ برا اور برا وقت ہم سے کیا چاہتا ہے سدھار، یا بگاڑ؟ خود فیصلہ کریں اپنی نسلوں کو کیا دو گے؟ اگر آج خود ا پنے حق گنوا بیٹھیں؟ حق کی خاطر، اپنوں کی خاطر کیا ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ ظلم کو کسی بھی طرح سے روکنے کی کوشش نہ کرو گے؟ مسلمان ہونے کا ثبوت نہ دو گے؟ ظالم سیاستدانوں اور ظالم لوگوں کے خلاف آواز نہ اٹھاؤ گے؟ اچھائی اور سچائی کا ساتھ نہ دو گے؟ تو آنے والے کل سے کیا چاہو گے؟ شکوے شکایت ازالے کے لئے ہوتی ہیں تفریح کیلئے نہیں، آج کا کام ہمیں آج ہی کرنا ہوگا ورنہ یقین جانیں وقت آپ کو شرمندہ ہونے کا بھی موقع نہ دے گا۔

        وقت کی بات گر وقت پہ نہ مانی تم نے 
        وقت پر وقت نہ دیگا تمہیں پچھتانے کا 

یا پھر افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جاؤگے
اب پچھتاوے کیا ہوت ……….. جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

جی کھیت! کیا سمجھے آہستہ آہستہ پانی سر سے گزر چکا ہے ابھی بھی اگر ہم کرا چی (پاکستان کا دل و دماغ) برائی سے بدکرداری سے اور اسلامی فرائض سے دینی تقاضوں سے بے بہرہ رہے تو کیا ہوگا؟ اللہ نہ کرے ہماری دعائیں بھی قبول نہ ہونگی۔ عالمی بیماریاں رسوائیاں، مالی کمزوریاں، جدید ٹیکنالوجی منہ کھولے ہمیں دیکھ رہی ہیں اور ہم مظلوم بنے پھرتے ہیں۔ مسلمانوں والی نہ پُھرتی ہے نہ دینی علمی غیرت نہ پختہ ایمانی طاقت کہ باطل کا مقابلہ کرسکیں۔ سستی اور کاہلی میں ہم آگے زوال کے وقت بستروں سے اٹھنے والے لوگ واقعی زوال کی جانب دوڑے جارہے ہیں۔ اپنی دینی، اخلاقی قوتوں کومجتمع کرکے دوبارہ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھ کر برائی ہر طرح کی برائی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کے وقت کو ضائع کئے بغیر دل و جان، مال و اسباب کی قربانیاں دے کر صرف کراچی کو ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور پوری امت مسلمہ کو اسکا جائز حق اور مقام دلانا ہوگا۔ میری رب سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک ہدایت دے۔ نیک کردے، ایک کردے کہ ہم کبھی کہیں اپنے برے کرتوتوں یا ماحول کی وجہ سے رسوا نہ ہوسکیں۔ ہمارے بھائی بندے 12دن سے دن رات دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔

سردی، گرمی، بارش بنا وسائل کے بیٹھے ہیں کام بھی کر رہے ہیں، نوکری پر بھی جارہے ہیں اور واپس آکر پھر احتجاج کر رہے ہیں مگر سندھ حکومت یا اسکا بڑا بھائی وفاقی حکومت یا دوسرے صوبے کے لوگ ہوں کوئی بھی پرواہ نہیں کر رہا۔ آج معلوم ہو رہا ہے نا، آج پتا چل رہا ہے نا کھوٹے کھرے کا؟ اسلامی ملک کے تمام بھائیوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح بنیان مرصوص کی طرح مل جل کر مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے۔ اخوت کا علمبردار ہونا چاہئے یا خود غرض؟ آئیں اپنے حقوق کی خاطر اپنے بلند عزائم کی خاطر اور آنے والی نسلوں کی بقا کی خاطر ایک ہوجائیں اور ترقی کی جانب بڑھیں اس امید کے ساتھ ہم مسلم ہیں امن ہمارا پیغام، بھائی چارگی انعام اور فلاح اور صلاح ہمارا کام ہو۔ رب کو ہر لمحہ راضی رکھنا اور بندے ہونے کا مشن ہمارا مقصدِ حیات ہو تو یقینا کامیابی ہی ہمارا مقدر ہوگی۔ انشا ء اللہ العزیز

Add Comment

Click here to post a comment