Home » کراچی بیدار ہوگیا ہے – نصرت مبین
بلاگز نوک قلم

کراچی بیدار ہوگیا ہے – نصرت مبین

امی آج شادی میں چلیں گے نا ؟
ہاں بھئی اس طرح سب رشتہ داروں سے ملاقات ہو جاتی ہے”

رات کے وقت برقی روشنیوں میں حال بقائے نور بنا ہوا تھا۔ سب انتہائی اہتمام سے تیار ہوئے تھے، ایک دوسرے سے مل رہے تھے ،اتنےمیں فرح دور سے چلتی ہوئ آئ اور بڑے پر تپاک انداز میں ملی۔کیسی ہو کب آئیں پنجاب سے؟کل آئ ہوں شادی میں شرکت کرنے۔اچھا کل رات کا کھانا میرے ساتھ کھاؤ ۔ کھانا کھاتے ہوئے فرح نے انتہائی افسوس سے کہا یہ کراچی کا کیا حال ہو گیا ہے؟ اس قدر گندگی ، ٹوٹی پھوٹ سڑ کیں۔ آپ لوگ کچھ کرتے کیوں نہیں،کوئی احتجاج کریں،کوئ آوازبلند کریں، کیا کریں ، ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔آپ ٹیکس دیتے ہیں نا ؟ہاں تو پھر سہولتوں پر بھی آپ کا حق ہے۔۔فرح آج رات میرے گھر رک جاو ڈھیر ساری باتیں کریں گے۔ماضی کے قصے یاد کریں گے۔ ٹھیک ہے مجھے کچھ خریداری بھی کرنی ہے۔ دوپہر کے وقت دونوں بازار گئیں دکان کے سامنے گندا پانی کھڑا تھا،فرح نے فورً دکان دار سے سوال کیا بھیا یہ کیا آپ شکایت کیوں نہں کرتے ۔دکاندار ہمیں اپنی جان اور اپنے کاروبار کی حفاظت عزیز ہے،آپ اپنے رشتہ داروں سے یہ کام کروائیں۔چلو فرح،میں ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔فرح اپنے گھر واپس چلی گئ کراچی کا حال مزید خراب ہونے لگا۔

نئے سال کی مبارک باد دینے کے لئے فرح کا فون آیا تواس نے مجھ سے دھرنے کی تفصیل پوچھی کہ میں نے سنا ہے جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنا دیا ہے۔ ہاں فرح کراچی بیدار ہوگیا ہے،ہمرے رشتے دار آگئے جن سے ہمارا ایمان کا رشتہ ہے ،اسلام کا رشتہ ہے، دین کا رشتہ ہے۔نظریہ کا تعلق ہے۔جو اپنے نفع و نقصان سے بالاتر ہوکر ہمارے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ آواز تو بلند کر رہیں مگر آواز کیا ہے ؟با اختیار شہری حکو مت …… دستور میں ایک باب جس میں تفصیل سے شہری حکومت کے حقوق و فرائض درج ہوں، براہ راست مئیر کا انتخاب ہو،وہ تمام صحت مراکز،اسپتال جو پہلے شہری حکومت کی تحویل میں تھے اب صوبائی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں۔ باجی یہ تو بنیادی حقوق ہیں۔ ہاں ہیں تو مگر جمہریت کی علمبردار حکومت عوام الناس کو یہ جمہوری حق دینے کے لئے تیار نہیں۔

پورے کراچی کو ان کا ساتھ دینا چاہئے ۔ اللّٰہ انھیں اپنے نیک مقاصد میں کامیاب کرے۔آمین

Add Comment

Click here to post a comment