Home » کراچی کے حقوق اور عوامی بیداری – صائمہ وحید
بلاگز

کراچی کے حقوق اور عوامی بیداری – صائمہ وحید

یہ آپ اپنے موبائل اسٹیٹس پر روز کیا لگارہی ہیں۔دھرنا۔۔۔ دھرنا۔۔۔ حقوق۔ میری ہمسائی، عزیز سہیلی انوشہ پوری آنکھیں پھیلائے، مسکراہٹ لئے سوال کررہی تھی۔ چونکہ اکثر انوشہ کے لگائے اسٹیٹس پر مجھے اعتراض ہوتا تھا۔ سو آج محترمہ حساب برابر کرنا چاہ رہی تھیں۔ میرا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ اسٹیٹس بامقصد ہو۔ ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے سیلفی لی اور سٹیٹس لگا دیا۔ گھر میں پکوڑے، مچھلی، بسکٹ بنائے تو اسٹیٹس پر۔ میں کہتی ہوں اگر کوئی تمھاری طرح لذت کام و دہن کے مزے نہیں اڑا سکتا، آپ کا اسٹیٹس دیکھ کر مایوس ہو، اشتعال میں منفی سوچے، نقصان کرلے۔ اس برائی، تباہی میں تمھارا حصہ ہوگا۔ انوشہ بڑا فروختہ ہوتی۔ ٹی وی پر کھانے کے اتنے چینلز روز یہی دکھاتے ہیں۔

آج پھر انوشہ کا کہنا تھا۔ میڈیا پر دھرنے کی کوریج نہ ہونے کے برابر۔۔نہ کراچی کے حقوق کا پتہ چلتا ہے۔ تمھارے موبائل پر دھرنا زیادہ پتہ چل رہا ہے۔ اتنی سخت سردی اور بارش میں دھرنا کیا ضروری ہے؟؟ “تو پیاری انوشہ! دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی۔ تم نے علامہ اقبال رح کی شاعری پڑھی ہیں؟” انوشہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ہمارا میڈیا تو حق اور سچ کے لئے اندھا گونگا ہے۔ بے مقصد، تہذیب سے عاری زندگیوں، موج مستی، جیسے چاہے جیو۔۔ میڈیا تو یہی سکھا رہا ہے۔ عوامی مسائل کے لئے دھرنے کی دھرنے کی کوریج اور اہمیت نہ دینا میڈیا کی غیر زمہ دادی اور غیر سنجیدگی ہے۔ کتنے برسوں سے کراچی کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان گنت مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، صفائ کا فقدان، ٹرنسپورٹ کا مسئلہ، کے الیکٹرک کی دہشت گردی، مہنگائی۔۔۔ کوئ مسائل حل کرنے والا نہیں۔” روبیہ نے کہا تو انوشہ نے تاسف سے بتایا: “ہاں، میری بھتیجی چند دن پہلے ٹوٹی سڑک پر گر گئ اسکول سے واپسی میں۔ گٹر کا پانی بھرا تھا۔ پتھر رکھے تھے۔ کتے بھی ٹہل رہے ہوتے وہ ڈر کر تیز چلی تو گر گئ۔ سر پر ٹانکیں آئے ہیں۔”

“بہت افسوس ہوا۔ پہلے بھی تو سڑکیں بھی بنتی تھیں ۔نہ گٹر ابلتے تھے۔ نہ کتے آزاد گھومتے تھے۔ اب نہ بلدیاتی انتخابات کرارہے ہیں۔ اور اختیارات بھی ہضم کرلئے۔ اسی لئے تو دھرنا دیا ہے۔ پڑوس کی سائرہ باجی کو درد تھا۔ سرکاری ہسپتال گئیں۔ ہاں درد کا انجکشن نہیں لگایا۔ درد سے تڑپ رہی ہیں۔ کوئ خیال نہیں۔ مجبورا پرائیویٹ ہسپتال گئیں۔ نہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم ہے، نہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج ہے۔ کراچی کے بلدیاتی ختیارات بحال ہوں اور یہ اختیارات کرپشن سے پاک ،اہل نمائندوں کے پاس ہوں۔ تب ہی عوام کے یہ مسائل حل ہوں گے۔ اب کراچی کے عوام کا فرض ہے۔ وہ ان مخلص، باہمت لوگوں کا ساتھ دیں جو سخت سردی میں، مشقت میں عوام کے حقوق کے لئے ڈٹے ہیں۔” ثوبیہ نے کہا تھا۔
“چلو نگہت باجی کے پاس چلتے ہیں۔جنکے گھر درس قرآن ہوتا ہے۔ ان سے کہیں کہہمیں بھی دھرنے میں شرکت کرنی ہے اور ان غاصبوں کا دھڑن تختہ کرنا ہے۔ دھرنا، دھرنا، دھرنا۔۔۔” انوشہ ،ثوبیہ دونوں ہنسی تھیں۔

اللہ کراچی کو پھر سے پرامن، پرفضا، عروس البلاد بنائے اور کراچی کے عوام کو مخلص، امانت دار نمائندوں، حق کو پہچاننے، ساتھ دینے کا شعور عطا فرمائے۔آمین۔

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。