بلاگز

صدائے کراچی – زینب جلال

تم کو بتاوں بچو آو
قصہ کالے قانون کا
اسپتالوں میں بے دوا
مریض زندگی کو ترستا ہو

سڑک بچہ پہ رولتا
سکول میں جانور بندھتا ہو
بجلی مہنگی پانی عنقا
ہر چولھا جہاں پرٹھنڈا ہو

گروی رکھ کربچہ میرا
اناج ادھار میں ملتا ہو
جیب میں اپنی میری روٹی
رکھے کوئی ان داتا ہو

لاین لگے سب ماڑو ماٹھی
اور کرسی بیٹھا اقا ہو
راج کرے ڈنڈا لاٹھی
ہر عامی بلکتا ہو

حق پر سر اٹھے نہ کوئی
بس شملہ پگڑ اونچا ہو
وقت چلا دے ایسی چکی
سب گھن گیہوں ساتھ پستا ہو

Add Comment

Click here to post a comment