Home » خزاں موسمِ آگہی – رقیہ رمضان
بلاگز

خزاں موسمِ آگہی – رقیہ رمضان

ہمیشہ ہی سے لکھا، پڑھا، اور محسوس کیا جارہا ہے کہ خزاں پت جھڑ کا موسم ہے، خزاں جدائی کا موسم ہے، خزاں بے وفائی کا موسم ہے، خزاں ہجر کا موسم ہے۔ شامیں بہت خاموش سی ہو جاتی ہیں۔ ہوا کی آواز، کوئی اداس سا راگ معلوم ہوتی ہے اور اسی راگ پر زرد، سوکھے پتے اپنی بے وقعتی کے غم میں محوِ رقص ہوتے ہیں۔۔۔،

اس موسم میں ماحول پر اندر تک اتر جانے والی ایک عجیب سی اداسی اور ویرانی چھائی ہوتی ہے۔ وہ لوگ شدت سے یاد آنے لگتے ہیں، جو کبھی ساتھ ہوا کرتے تھے۔ چھوٹی بڑی خوشیوں کی یاد ایک کسک بن کر دل میں ڈیرہ جما لیتی ہے۔ گزر چکا خوبصورت وقت ایک حسرت بن کر یہ کہنے پر مجبور کردیتا ہے، کہ کاش وقت ہمیشہ ویسا ہی رہتا۔۔۔،
لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ خزاں امید کی نوید بھی تو ہے۔ خزاں نوید ہے دوبارہ “ہرا” ہوجانے کی، خزاں نوید ہے دوبارہ “کِھل” جانے کی، خزاں نوید ہے ہر طرف “رنگوں” کی، خزاں نوید ہے ” وقت” بدل جانے کی، خزاں نوید ہے “بہار” کی۔ خزاں نوید ہی تو لاتی ہے۔۔۔ کہ یہ ویرانی اور اداسی، گہماگہمی اور خوشیوں میں بدلنے والی ہے۔ کہ اب وقت بالکل پلٹنے ہی والا ہے۔۔۔،

تھوڑا سا دھیان دینے پر ظاہر ہوتا ہے کہ خزاں “جاذبِ نظر” موسم بھی تو ہے۔ اس رت میں کس قدر حسن پنہاں ہے۔ بہار کے مختلف رنگوں پر، خزاں کا صرف ایک زرد رنگ کتنی خوبصورتی سے حاوی ہوجاتا ہے۔ فطرت کے یہ حسین و جمیل مناظر دیکھ کر ہم مسمرائز ہوجاتے ہیں، خود کو اس میں کھوتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اور ہمارا دل اور دماغ بے اختیار یہ اعتراف کرتا ہے کہ یہ ویرانے دلچسپی کا کتنا سامان اپنے ہمراہ لئے ہوئے ہیں۔۔۔، ذرا توجہ دینے پر پتا چلتا ہے کہ خزاں “تخلیق” کا موسم بھی تو ہے۔ جب تخلیق کار ان تنہا، خاموش اور اداس، شاموں اور راتوں کو بالکل منہمک ہو کر محسوس کرتے ہیں تو کسی شاعر کے ذہن میں کوئی نظم، کوئی غزل الہام کی صورت اترتی ہے، کوئی مصنف اپنے کسی نئے ناول یا افسانے کی کہانی کے تانے بانے بُننے لگتا ہے، کسی مصور کو کینوس پر اپنے تخیل کے رنگ بکھیرنے میں مدد ملتی ہے، کوئی تصویر کش اپنے کیمرے سے خزاں کے مناظر کی عکس بندی کرتا ہے اور یوں خوبصورت تخلیقات منظرِ عام پر آتی ہیں۔۔۔،

سوچنے پر یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ خزاں “آگاہی” کا موسم بھی تو ہے۔ خزاں کی رت میں ذرد پتوں کا گرنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس قدر اہم ہے چیزوں کا ہماری زندگی سے جاتے رہنا، بدلاؤ ہمارے لیے کتنا ضروری ہے۔ ہم پر یہ راز کھلتا ہے کہ اس دیار میں ہر چیز کو فنا ہے، کوئی رنگ دیر پا نہیں، سو ہم یوں رنگ بدلتے بدلتے، ارتقاء کے منازل طے کرتے اپنی حقیقت کو پا لیتے ہیں۔ اور یہ خزاں کا موسم ہی تو ہمیں اپنے کتنے ہی خوبصورت اور مخفی پہلوؤں سے شناسائی دے جاتا ہے۔۔۔،

Add Comment

Click here to post a comment