Home » پھر نہ کہنا کہ قافلہ چلا گیا – عالیہ زاہد بھٹی
بلاگز

پھر نہ کہنا کہ قافلہ چلا گیا – عالیہ زاہد بھٹی

صبح امید کی روشنی بہت پر نور اجالے لے کر آئی ہے موسم کی خنکی اپنے اندر اک عجیب سی مٹھاس لئے موجود تھی ہوا کی شبنمی آہٹیں نئے موسموں کی نوید دے رہی تھیں. خیال آیا کہ جس صبح میں رب العالمین نے اس قدر برکتیں رکھ دی ہوں اس کی تو کبھی رات ہو ہی نہیں سکتی.

گردشِ ایام میں موج بڑھے یا آندھی آ جائے مگر شبِ ظلمت کی تاریکی کبھی نہیں آئے گی کیونکہ اس سحر کے سورج کے ساتھ ساتھ وہ افراد چلنے نکل پڑے ہیں جو افق تا افق دور تک چلتے چلے جائیں گے نہ سورج ڈوبتا ہے نہ یہ ڈوبیں گے. سورج بھی اپنے مدار کے گرد منازل طے کرتا ہے سو اس کے ساتھ ساتھ چلنے والے مسافر بھی نہ ڈوبے تھے نہ ڈوبیں گے بس اپنی منازل طے کرتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو جائیں گے. کہ الہی! ہم آ گئے ،تیری حمدوثنا،تیرے نام کو بلند کرتے ہوئے،حق گوئی اور حق شناسی کے علم بلند کرتے ہوئے صرف تیرے ہی آگے جھکا کرتے تھے. لے مالک! آج ہمارے نفس اپنے وعدے کے مطابق جنت کے اندر داخل فرما دے. اس دن کا تصور دل میں اک عجیب سی پر کیف حرارت پیدا کر رہا ہے وہ حرارت تقاضا کر رہی ہے کہ آج جب شہر کراچی میں یہ سورج نصف النہار پر آ کر اگلی منزل کی جانب بڑھنے لگے گا تو حق کے راہیوں کا اک قافلہ ان کے ساتھ چلنا شروع کر دے گا. اس قافلے کے کچھ مقاصد ہوں گے کچھ مطالبات ہوں گے ،کچھ تحفظات ہوں گے وہ جس قطعہ زمین پر رہتے ہیں ان کے قدموں کے نیچے زمین کے حصے کا نام شہر کراچی ہے.

وہ قافلہ کراچی کی سڑکوں، گلیوں، چوراہوں، ملوں، کارخانوں، گھروں، بازاروں، میدانوں اور عوام کی درستگی اور بہتری کا علم لیکر اٹھا ہے اس کا کہنا بس اتنا ہی ہے کہ # دینے والے اور نہ دینے والے برابر نہیں ہوسکتے # زیادہ دینے اور کم دینے والے بھی برابر نہیں ہو سکتے #جو دیتا ہے جو فرائض پورے کرتا ہے ٹیکس ریونیو سب کچ ایمانداری سے دے دیتا ہے اسے اس نیکی کی جزا نہیں دے سکتے حق سے بڑھ کر بطور احسان کچھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کا حق تو دو. #جو بیٹا گھر کے خرچ میں سب سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے اسی کے اہل خانہ کو فاقوں سے مرنا پڑے گا اسی کے بچوں کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی اسی کی بیٹیوں کے ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورہ رہ جائے گا اس جرم کی پاداش میں کہ وہ اپنے فرائض سے بڑھ کر سب کچھہ دان کر دیتا ہے؟؟؟؟؟ جی اب سمجھے آپ کراچی پاکستان کا وہ بیٹا جو پاکستان پر اپنا تن من دھن قربان کر دیتا ہے اور پاکستان پر مسلط وڈیروں، شریفوں،جاگیر داروں، سرداروں، زرداروں، نیازیوں، ملکوں، چودھریوں، ٹوانوں اور لغاریوں کا ٹولہ جو بانی پاکستان کی وفات کے بعد سے پاکستان پر مسلط ہے وہ ٹولہ اپنی جیبیں بھر کر کبھی سرے محل،تو کبھی رائیونڈ کی محل سرا ، کبھی بنی گالا، کبھی لال حویلی ،کبھی لندن،کبھی افریقہ تو کبھی عرب ممالک میں استراحت پذیر ہو جاتا ہے.

اور کراچی اپنے بچوں اور بچیوں کو لوڈ شیڈنگ،بارش میں لگنے والے کرنٹ،ناقص تعلیمی نظام، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں گندے نالوں گلیوں اور جوہڑ بنی شاہراہوں پر ٹریفک کے بے ہنگم اژدھام میں ایک کے بعد ایک ہونے والے حوادث کی نذر کرتا چلا آرہا ہے. اس کراچی کی گلیوں میں ہر روز اک جواں سال بیوہ کی سسکیاں گونجتی ہیں کہ جس کا سہاگ کبھی کرنٹ لگ کر ، کبھی ٹوٹی سڑکوں پر تو کبھی ڈکیتی کی وارداتوں میں مصلوب ہو جاتا ہے. اسی کراچی کی فریاد لیکر پچھلے اکیس دنوں سے حافظ نعیم الرحمن نامی اک شخص تن تنہا جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے کھڑا ہوا تھا اور اس کی بے لوث پکار پر شہر کا شہر امڈ آیا قافلہ بنتا گیا کارواں چلتا گیا نام نہاد حکمرانی فیصلوں کے کرنے کی جگہ سندھ اسمبلی کے باہر یہ قافلہ بڑھتا چلا جارہا ہے طوفانی بارشوں کے ساتھ سائبیریا کی ہوائیں بھی اس قافلے کے عزم مصمم کی دیواروں کو نہ ہلا سکیں اور آج ہم کراچی کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں انہی کی حمایت میں حسن اسکوائر پر جمع ہونے جا رہی ہیں جو ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنے سکھ،چین،آرام اور جانوں کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں اتنا تو فرض ہمارا بھی بنتا ہے کہ جو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہمارے لئے گھل رہے ہیں.

ان کی اخلاقی مدد کی نیت سے ہی آج صرف دو گھنٹے حسن اسکوائر پر جمع ہو جائیں اور بی بی اور بابا کے جانشینوں کو بتا دیں کہ ہم اللہ کے رنگ میں رنگی وہ مضبوط خواتین ہیں کہ جن کے حقوق کا چارٹر قرآن کی سورۃ النساء میں اللہ نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بھیج دیا تھا اس کے تحت ہمیں اپنے حقوق کی جدو جہد کرنی آتی ہے. ہم مضبوط اور سچے دین کی باکردار و باعمل،باشعور خواتین ہیں ہمیں ڈکٹیٹ نہ کیا جائے ہم آج کراچی کی سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں سندھ حکومت سیدھے سیدھے بتائے کہ ہمارے مطالبات تسلیم کرنا ہے یا نہیں کرنا پھر نہ کہنا کہ بی بی کے جیالے خواتین کی بڑی عزت کرتے ہیں اگر تم واقعی بی بی کے جیالے ہو تو تکریم نسواں میں ایک قدم پیچھے ہٹ جاؤ اور مان لو ہمارے مطالبات،تبدیل کردو کالا بلدیاتی قانون. اگر تم بقول تمہارے کسی ڈکٹیٹر کے قانون کو رائج نہیں کرنا چاہتے تو نہ سہی. اپنے بابائے جمہوریت بھٹو کے دور کے رائج کردہ قانون کے تحت ہی کراچی کو اختیارات دو. آج تمہارا امتحان ہے حکمرانوں کے تم تکریم نسواں کے کتنے بڑے علمبردار ہو.

کراچی کی ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں آج تمہارا بھی امتحان ہے کہ تم اپنے شہر کراچی کے حقوق کے لئے اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے،حق کے لئے،سچ کے لئے کس طرح اور کتنی تعداد میں نکلو گی. کراچی کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں یقین جانو میں حسن اسکوائر پر اپنے بچوں سمیت تمہارے ساتھ چلنے کو تیار کھڑی ہوں تو تم سب آرہی ہو ناں؟

Add Comment

Click here to post a comment