Home » ہم صبح انقلاب کے ماتھے کی روشنی – اسماء معظم
بلاگز

ہم صبح انقلاب کے ماتھے کی روشنی – اسماء معظم

سندھ اسمبلی کے سامنے بلدیاتی قانون کے خلاف 31 دسمبر سے شروع ہو نے والا دھرنا آ ج 21 ویں دن میں داخل ہوچکا ھے۔ دسمبر کی شدید ترین سردی اور بارش کے باوجود یہ دھرنا اسی توانا قوت کے ساتھ جاری رہا اور اب تک جاری ہے جس میں نہ صرف بوڑھے، بچے اور جوان کثیر تعداد میں شامل ہیں بلکہ عورتوں کی بھی بڑی تعداد اس دھرنے میں موجود ہیں۔

اس دھرنے کے شرکاء انتہائی پر عزم ہیں کہ وہ دھرنے کے مقام سے مطالبات تسلیم ہونے بغیر واپس نہیں جائیں گے ۔اور پرامن ایسا کہ کسی قسم کا بھی کوئی چھوٹا سا بھی ناخوشگوار واقعہ سننے میں نہیں آ یا۔بلکہ انتہائی پرامن طریقے سے جاری ہے۔ اور انشاء اللہ حقوق کی جنگ میں فتح تک جاری رہے گا۔ اس دھرنے کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں بلدیاتی قانون کو آ ئین کے آ رٹیکل A.140 کے مطابق تشکیل دیا جائے اور بلدیاتی اختیار ات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے۔ آرٹیکل A.140 میں کہا گیا ہے کہ ،ہر صوبہ قانون سازی کے ذریعے ایک مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیارات مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو دے گا لیکن نئے بل میں اس آرٹیکل کی واضح نفی کر دی گئی ہے. کراچی میونسپل کارپوریشن کے پاس جو بھی مالی آزادی رہ گئی ہے وہ صوبائی حکومت اس بل کے ذریعے چھین رہی ہے مزید یہ کہ ان ترامیم کے ذریعے اسپتالوں کو بھی قبضہ میں لیا جا رہا ہے ۔ نئے بلدیاتی نظام کو جسے کالاقانون کہا جارہا ہے، میں سندھ حکومت نے تمام ہسپتال اور دیگر ادارے جو شھری حکومت کے اختیار میں آتے ہیں انہیں شھری حکومت سے چھین لیا ہے.

اس دھرنے کی قیادت کراچی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کررہے ہیں ۔یہ جماعت اسلامی ہر موقع پر عوامی مسائل کو لے کر احتجاج کرتی رہی ہے نادرا کے شناختی کارڈ کے مسائل ہو ں یا کے الیکٹرک کی اوور بلنگ کے مسائل ,بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے مسائل ہوں یا سوئی گیس کے مسائل، سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین کا معاملہ ہو یا نسلہ ٹاور کے متاثرین سے متعلق معاملہ ،انہوں نے ان تمام عوامی مسائل کو حل کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس کے لیے ہر سطح پر آواز بھی بلند کی ہے ۔اور نہ صرف آ واز بلند کی بلکہ ہزاروں متاثرین کو ان کے کئ کئ لاکھ کی مالیت کی رقومات چیک کی صورت میں اسی دھرنے میں ادا کی گئی ہیں۔ 18 تاریخ تک 17 کروڑ روپے کے پے آ ڈرز متاثرین بحریہ ٹاؤن کو دھرنے کے دوران ادا کیے جا چکے ییں۔ جو جماعت اسلامی والوں کا تاریخ میں بہت بڑا کارنامہ ہے اور یہ کارنامہ جو متاثرین کے لئے انجام دیا وہ ان کی کئ سال کی جدوجہد کا نتیجہ ھے. دھرنے کے شرکاء چاہتے ہیں شہر قائد کو اس کا اصولی حق ملے یہاں ٹرانسپورٹ، پانی ،بجلی، گیس ،تعلیم ،صحت اور امن وامان وغیرہ کے مسائل ختم ہوں نوجوانوں کو روزگار ملے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں بہت سی حکومتیں آئیں ۔کئی کئی سال حکومت کی۔

کسی نے 13 سال، کسی نے 35 سال ۔ایک دن کی حکم پر ہڑتالیں تو کروا لیں گئیں لیکن یہاں کے شہریوں کو پانی، گیس، بجلی،تعلیم صحت اور ٹرانسپورٹ سے محروم رکھا سڑکیں جو آئے دن ٹوٹتی پھوٹتی رہتی ہیں ان کو اچھی حالت میں شاذونادر ہی دیکھا ۔ قتل و غارت گری اور ڈکیتیوں کے سوا ان حکومتوں نے کچھ نہیں دیا ۔ نوجوان نسل کو فوڈ پانڈہ اور بائیکیہ کے علاوہ کوئ روزگار نہیں ملا۔ گھروں سے نکلے بھائی شوہر باپ محفوظ نہیں۔عورتیں بچیاں بھی انتہائی غیر محفوظ۔. حال میں کشمیر روڈ پر شاہ رخ نامی لڑکے کے قتل کا واقعہ اس حکومت کی نااہلی کی زندہ مثال ہے ۔ یہ کیسا نظام ہے؟ یہ دھر نا ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ نظام مصالحت سے نہیں بدلتے اس کے لیے کوشش درکار ہوتی ہے۔۔۔۔۔جدوجہد درکار ہوتی ہے۔دھرنے میں موجود شرکاء کا نعرہ، تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو۔۔۔۔۔۔۔ تسلسل سے جاری ہے۔ وہ جدوجہد د ھرنے کی شرکاء 21 دن سے کر رہے ہیں ۔وہ اس کالے قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، جو کئی سال سے اس کراچی میں مسلط ہے ۔وہ کراچی کے لیے بیٹھے ہیں ۔وہ اس شہر کراچی کے امن کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے محسن ہیں ۔ آپ کی اور آپ کے معصوم بچوں کے حقوق دلوانے ہی کی بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ہم لوگوں کے حقوق اورا ختیار حاصل کرنے کے منتظر ہیں ۔اسی لئے ہم دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ۔صرف اپنے رب کی خاطر، اپنے رب کی رضا کی خاطر نکلے ہیں۔ مظلوموں کی مدد اور حمایت کا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود حکم دیا ہے۔ نسلہ ٹاور کا معاملہ کوئ معمولی بات تو نہ تھی کسی کے آشیانے کو بلاسبب توڑ دینا اس کو یکدم گرادینا مکینوں کے دلوں پر کیا گزر گئ سوچئے ۔۔۔کچھ تو اس دنیا ہی سے گزر گئے نسلہ ٹاور کے ہر مکین کی دل کی آ واز ۔۔۔کیوں توڑا میرے آ شیانے کو؟ لیکن آپ نے ان کے لاکھوں کی مالیت کے نقصان کے بارے میں کچھ نہ سوچا کہ ان پرکیا بیت گئ ۔۔۔نسلہ ٹاور کےمکینوں کے گھروں کو گرادینا ان مکینوں کے لئے کسی قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا۔ اس دھرنے کے شرکاء ان مکینوں کا حق مانگتے ہیں ۔ان کےآ شیانوں میں لگائ گئ رقم کی واپسی کا مطالبہ کر تے ہیں ان کا جائز حق مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس انتہائی صد افسوس حکومت اس دھرنے کے مطالبات پر کوئی کان نہیں دھررہی ہے ۔ان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ یہ بھی دیکھئیے جماعت اسلامی نے تو صرف ایک صوبائی نشست کے ساتھ 3کروڑ شھریوں کا قرض اور شھر کراچی کا فرض ادا کردیا ۔کیا یہ کم بات تھی۔۔۔۔۔۔ میڈیا میں کوئی کوریج نہیں دی جا رہی ہے۔ جبکہ شھر میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آ جائے اور وہ انتہائی غیر اہم بھی ہو لیکن ایسی کوریج دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ، دوسرے دھرنوں کی خالی کرسیوں کو لائیو دکھانے والا میڈیا,مستقل اچھی اور اور مثبت سرگرمیوں کو وہ اہمیت اور وہ کوریج کیوں نہیں دیتا جو اس کا اصل حق ہے۔؟یہ کوریج کل بھی ان کا حق تھا اور آ ج بھی ان کا حق ہے۔ کراچی کا یہ دھرنا آپ کے حقوق کی آ واز ۔۔۔کراچی شھری حقوق کی جنگ ۔۔۔اپ بھی ائیے جماعت اسلامی کراچی کے سنگ۔۔۔جس کا پیغام بااختیار مئیر اور شھری حکومت کا قیام ہے۔۔۔ان کا کہنا ہے کہ ،ہم اہل کراچی اب کے برس اپنا پورا حق لیں گے۔
ع تم آ ستان ظلم سے لپٹی سیاہ رات
ہم صبح انقلاب کے ماتھے کی روشنی
کراچی دھرنے کی آ واز حقوق کی آ واز ھے ۔۔۔اس آ واز میں آ واز ملائیے۔۔۔اٹھ کھڑے ہوئیے! دھرنے کے لئے گھروں سے نکلئیے۔۔۔۔گھروں سے نکلے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے ۔اپنے بچوں اور اس کراچی شھر کے حقوق کی خاطر اٹھ کھڑے ہوں !اس سے پہلے کہ مزید ظلم کی چکی میں پسیں۔حقوق کے لئے آ واز اٹھائیے! چراغ سے چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی ،تو پھر دیر کس بات کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

“اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تاج اچھالے جائیں گے جب تخت گرائے جائیں گے
اٹھتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ہی ڈالیں جائیں گے”
قدم بڑھائیے ۔۔۔اپ کا قدم بڑھانا ہی شرط ہے. یہ قدم بڑھانا ہی آ پ کوآ خرت کے دن سرخرو کرے گا۔ انشاء اللہ. اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو آ مین.

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。