Home » یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے – افشاں نوید
بلاگز

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے – افشاں نوید

آج شہر کراچی شدید گردو غبار کی لپیٹ میں رہا۔ وہ طوفانی ہوائیں تھیں کہ معمولات زندگی چوپٹ ہوگئے۔ لوگ فون پر اپنے پیاروں کو ہدایات دیتے رہے کہ گھر میں رہیں، غیر ضروری آمدو رفت سے گریز کریں۔ فلاں کو ڈسٹ سے اسکن الرجی ہوجائی ہے۔ فلاں کو سانس کا مسئلہ ہے۔ فلاں پھیپڑوں کا دائمی مریض۔۔ اس کی آنکھوں کا ابھی آپریشن ہونا ہے، بہت نقصان دہ ہے یہ موسم۔ کھڑکی دروازے بند رکھیں!

ہاں! کچھ سنا، سندھ اسمبلی کے سامنے شدید طوفانی ریلہ سے قناعتیں الٹ گئیں، بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ کیا وہ قافلہ گزر گیا۔۔۔۔ ان کی جانوں کو خطرات ہیں کہ بانس اور قناعتیں لوگوں کے اوپر گرنے سے بڑے حادثات ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے پتہ نہیں کس کو سانس کا مسئلہ ہوگیا، کس کی آنکھوں میں الرجی۔۔ ان کو بھی شاید گھر سے فون آیا ہو کہ آندھی طوفان میں سورج ڈھلنے سے پہلے آجاؤ۔ مگر ان جانبازوں کو نہ مائیں بلا رہی ہیں، نہ بیویوں کو فکر لاحق، نہ بچے کہہ رہے ہیں کہ ابو آپ آجائیں۔ بائیس دن سے بہروں کو نہ سنا سکے۔

آج رات بھی سخت ہوگی کل سویرے سردی شدید نہ ہوجائے۔ یہ دھول مٹی کے طوفان میں جن کے لیے بیٹھے ہیں وہ کھڑکی دروازے بند کیے جھریوں اور سوراخوں کو بند کررہے ہیں کہ مٹی سے بچ جائیں جان کتنی پیاری ہوتی ہے۔ سب کو ایک بار ہی ملی ہے مگر انقلاب قربانی چاہتا ہے۔

سنو!چھری کے نیچے بیٹے کی جگہ مینڈھا آ تو جاتا ہے مگر چھری اٹھانے کی ہمت تو کرنا ہوتی ہے ناں۔ دعا ضرور کیجیے گا ان سرفروشوں کے لیے جو آپ سے سچا پیار کرتے ہیں۔