Home » آدھی گنتی پورے لوگ – عالیہ زاہد بھٹی
بلاگز

آدھی گنتی پورے لوگ – عالیہ زاہد بھٹی

سرد رات کا پر فسوں سحر ،جگمگاتی روشنیوں کے ہالے میں وسیع و عریض کبوتر چوک کے سامنے سندھ اسمبلی کی وسیع و عریض سڑک جیسے اپنے اوپر چلتے ہوئے ہزاروں افراد کے جذبات سے احساسات سے شاداں و نازاں اپنی خوش قسمتی پر کچھ حیراں تھوڑی پریشاں کہ آج چوبیسواں دن ہے اس سڑک پر یہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں.

مرد چوبیس گھنٹے،عورتیں اور بچے دن کے مختلف اوقات میں گاہے بگاہے، کبھی وفد بنا کر کبھی جلوس بنا کر مگر چوبیس دنوں میں اک بار بھی سندھ اسمبلی کے سامنے واقع اس سڑک کو کسی نے تنہا نہیں چھوڑا.اب تو یہ سڑک گویا محبتوں کے ڈونگرے برسا رہی تھی کہ اس پر متمکن ساکنان شہر انوکھی وضع کے لگے سارے زمانے سے نرالے نام لیکر احتجاج کا نہ گولی چلائی نہ بھالے نہ ماوزر سے وار کئیے نہ آتشیں بارود سے سڑک پر گڑھے ڈالے ،اللہ اللہ یہ کیسا احتجاج دیکھنا نصیب ہوا اس شہر کو کہ جس میں سہاگنوں کے سہاگ،بہنوں کے بھائی،ماؤں کے بیٹے، دھرنے دیئے بیٹھے ہیں. نہ خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اور نہ ہی بیہودہ اور گھٹیا زبان استعمال کی جا رہی ہے. حق دو کراچی کو،نکلا ہے کراچی نکلا ہے،حل صرف جماعت اسلامی کے نعروں کے بیچ بیچ میں بار بار اک ایسا نعرہ مستانہ لگتا ہے کہ جس کی گونج ہر نعرے کی گونج سے زیادہ ہوتی ہے وہ نعرہ لگتا ہے اللہ اکبر اللہ اکبر کا. نہ سڑک پر گندگی،نہ کوڑا کرکٹ اور نہ ہی بے ترتیبی ہر اک شے جیسے سجی سنوری اپنے اوپر دھرنا دیئے بیٹھے لوگوں کی اعلیٰ نسبی کی گواہ اسمبلی کے اندر گالم گلوچ اور جھوٹ پر مبنی بیانات جہاں کبھی شہر کے تین کروڑ باسیوں کو دیڑھ کروڑ گنا جاتا ہے کبھی اسی اسمبلی کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہزاروں افراد کو سو دو سو گنا جاتا ہے.

یہی اسمبلی والے اگر اپنی گالم گلوچ اور جھوٹ پر مبنی اختراع کو وزن کریں اور ان دھرنے والوں کے نعروں اور پر امن و پر وقار نعروں اور خطابوں کو وزن کرلیں تو اسمبلی والوں کو اپنا قد اور اپنی گنتی خود اپنی ہی ذات میں بہت پست نظر آئے گی. اسمبلی کی طرف جاتی ہوئی سڑک نے اپنے اوپر دھرنے کے چوبیسویں دن کی پچیسویں رات کے آغاز سے اختتام تک تاریخ کراچی کا وہ روشن باب طلوع ہوتے دیکھا جس میں حق کی جدو جہد گالی اور گولی کے بغیر عروج پر نظر آئ جہاں دھرنے کے امیر شیروں کے سربراہ شیر نے گھن گرج کے ساتھ دو دن کا الٹی میٹم دے کر بھی نہ جلاؤ گھیراؤ کی بات نہیں کی بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کر کے فقط 5 داخلی شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا اور یہ بند کرنے کی دھمکی نہ تو بم اور کلاشنکوف کے ذریعے تھی اور نہ ہی فسادات کے ذریعے بلکہ اسی طرح کے افراد کے نہتے ہجوم بیکراں کے ذریعے سے ان شاہراہوں کو سروں کے سمندر سے بند کیا جائے گا.ایسا تو اس شہر نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس آدھی گنتی کے پورے لوگ جب سڑک پر نکل پڑے تو ان کے اونچے جذبوں سے چھوٹے لوگوں کے پسینے نکل آئے مگر ازلی ہٹ دھرمی ہے جو کہہ رہی ہے کہ میں ناں مانوں. مگر اب ان بڑے عہدوں پر بیٹھے چھوٹے لوگوں کو سمجھ میں آ جانا چاہیے کہ پورے لوگوں کی آدھی گنتی نہیں چلے گی. زیادہ کے حقداروں کو کم ادا کرنے کی وڈیرہ گردی اب نہیں چلے گی. سن لو کہ ان پورے لوگوں نے تمہیں دو دن کا الٹی میٹم دیا ہے دو دن کا بس اس کے بعد اس شہر کی تاریخ بتا دے گی کہ جھوٹ اور دہشت کے پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے کرائے کے قاتلوں کے احتجاج اور حق سچ اور تہذیب کے علمبردار افراد کا پر امن احتجاج میں کیا فرق ہوتا ہے.

یہ شہر کراچی کے آدھے گنے گئے پورے لوگ ثابت کرنے کی تیاری کر لیں کہ انہوں نے اونچے عہدوں کے سامنے اپنے سچے جذبوں کو منوانا ہے اور یہ اتنا مشکل نہیں اتوار کے جلسہ عام جتنی حاضری بھی اگر ہو جائے تو بھی چلے گی
آدھی گنتی والے پورے لوگو!!!! پھر تیار ہو ناں تم دو دن کے الٹی میٹم والے ٹاسک کے لئے؟