Home » جو کھڑے رہے – ع انجم
بلاگز

جو کھڑے رہے – ع انجم

جو کھڑے رہے
جو ڈٹے رہے
جو ڈرے نہیں
جو بکے نہیں
جو دبے نہیں
جو جھکے نہیں
جنہیں مومسموں سے غرض نہ تھی
جنہیں تیرگی نہ ڈرا سکی
جنہیں آندھیاں نہ ہلا سکیں
جنہیں بارشیں نہ اٹھا سکیں
جنہیں اپنے شھر سے پیار تھا
کہ عزیز اس کا وقار تھا
کہ جنون جن کا شعار تھا
وہ امیر بھی وہ رفیق بھی
وہ بزرگ شجر شفیق بھی

وہ کھڑے رہے
وہ ڈٹے رہے
وہ جو بات کہ کے جمے رہے
وہ جو اپنی شان دکھاگئے
وہ زمانہ اپنا بنا گئے
یہ زمیں کا روشن چراغ ہیں
یہ نئ کرن کا سراغ ہیں
یہ جو ڈھنڈ لائے نئ سحر
انہیں پیش تحفہء معتبر
یہ سلامتی کا شجر بنیں
یہ مثال نجم و قمر بنیں

میرے حرف تھوڑے قلیل سے
ہے دعا یہ رب جلیل سے
کہ خدا کرے مرے شھر میں
نئ صبح ہو نئ رات ہو
نئے موسموں کو ثبات ہو
نہ خزاں کا کوئ غبار ہو
نہ کسی کا ارزاں وقار ہو
یہاں خوشدلی کا مزاج ہو
یہاں اہل لوگوں کا راج ہو
میرا شھر شھر وفا بنے
میرے شھر کو نہ نظر لگے

Add Comment

Click here to post a comment