Home » یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے – سیدہ تبسم
بلاگز

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے – سیدہ تبسم

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
اللّٰہ اپنے بندوں کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہے اور جب بندہ اپنی استقامت میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اللّٰہ کی مدد آتی ہے۔جیسے کہ حضرت ابراہیم کی سیرت سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے۔ کل کی رات جماعت اسلامی کے ہر کارکن اور قیادت کے لیے بے چینی کی رات تھی کوئی چپکے چپکے اپنے رب سے مدد مانگ رہا تھا۔ کوئی محاذ پر جانے کی تیاری میں تھا۔ کوئی مجاہدوں کے لیے وسائل کی فراہمی کے انتظام میں لگا ہوا تھا اور قیادت مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھی۔ سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورے خلوص کے ساتھ نبھانے میں مصروف عمل تھے اور کوئی بھی واپس پلٹنا نہیں چاہتا تھا۔ سب پرجوش اور پر عزم تھے۔ خواتین چونکہ کمزور اور نرم دل ہوتی ہیں تو فکر مند تھیں حالات کے خراب ہونے کے ڈر سے کیونکہ شر پھیلانے والے بھی شہر میں فساد ڈالنے کی کوششوں میں تھے۔ پر کسی بھی خاتون نے اپنے مردوں کو نہیں روکا اور یہ انکی حوصلہ افزائی تھی کے اتنی بڑی تعداد میں مرد گھروں سے نکل سکے بلکہ یوں کہنا درست ہوگا کے ہماری خواتین نے ہی اس کام کو کرنا مردوں کے لیے آسان کیا اور ہمارے بچے جن کا جوش والدین سے بھی زیادہ دیدنی تھا۔ دوسال کا بچہ بھی اپنی توتلی زبان سے کہتا نظر آیا “دھرنا ہے بھئ دھرنا ہے مرنا ہے جینا ہے” اور ترانے پڑھنے اور سنانے کے لیے بے چین۔۔۔ بچے اور بچیاں رات کی سردی میں اپنے والدین کے ساتھ دھرنا گاہ میں موجود ہوتے۔

بس ہر ایک کو ایک ہی جستجو اور ایک ہی لگن تھی کے دھرنا گاہ میں پہنچ جائیں۔ جو بھی اعلان ہوتا مرکز سے بس اس کی تائید ہوجائے۔ چاہے شہر کے کسی بھی کونے پر بیٹھنا ہو، خواتین بچے بوڑھے جوان سب وہاں پہنچ جاتے اپنے سارے کام چھوڑ کر بس یہی ایک کام تھا جو سب نے اپنا مقصد بنا لیا تھا۔ جب سب ایک ہوں اور سب مل کر صفائی کا کام کریں تو بڑے سے بڑا پتھر بھی راستے سے ہٹانا آسان ہوجاتا ہے۔

ایک مدت کے بعد لوگوں میں وہ یکجہتی نظر آئی اور انھوں نے لسانی نعروں پر توجہ دیے بغیر ایک قوم بن کر سوچا۔ انکو یہ بات سمجھ آگئ کہ کراچی ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا اور ملک ترقی کرے گا تو عوام خوشحال ہوگی۔ ہمارے بچوں کو بہترین مستقبل مل سکے گا اور آسودہ قوم ہی کوئ تعمیری کام کرسکتی ہے اور سب سے منفرد بات اس دھرنے کی یہ تھی کے اس پوری جدوجہد کے پیچھے اللّٰہ کی رضا حاصل کرنا مقصد تھا۔ اسکے نظام کے لیے راہ ہموار کرنا اور اسلامی نظام کو متعارف کرانا مقصود تھا۔ لیڈر کی صفات کیا ہونی چاہئیں اور اسکی ٹیم کے افراد کی کیا خصوصیات ہونی چاہئیں۔

کہیں فوڈ فیسٹیول، تو کہیں بچوں کے لیے کراٹے، پینٹنگ، کہیں ترانے، نظمیں، ساتھ ساتھ وفود کی آمد اور استقبال امور زندگی بھی چل رہے ہیں اور احتجاج بھی چل رہا ہے۔ کسی پر الزام نہیں دیا جارہا۔ حق کی بات کی جارہی ہے، نہ جلاؤ، نہ گھیراؤ، نہ تشدد، نہ ہی ڈھول اور لچر پن، نہ ہی ڈیک پر بے ہنگم موسیقی اور نہ ہی ناشائستہ زبان کے تیر۔ اگر ہے تو سجدے نماز کا اہتمام دعا کے ساتھ۔ پروگرام کا آ غاز اور اختتام اللّٰہ کی کبریائ کا پورا اظہار۔ ایسا کیسے ممکن ہوا؟ کیونکہ یہ لوگ اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہے تھے بلکہ اللّٰہ کے بندوں کے لیے مانگ رہے تھے۔ انکی ساری جہد اور کوشش انسانیت کے ناطے تھی۔ یہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک رب کی غلامی میں جمع کرنا چاہتے تھے۔ یہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے کے مشن کے وارث ہیں اور اس مشن کو عام کرنا چاہتے ہیں۔ اور جو بھی اس مشن پر کام کرے گا، اسے اللّٰہ کی مدد پہنچے گی اور پھر آگئ اللّٰہ کی مدد ان کے پاس بھی اور حکومت کے نمائندے نے خود آ کر سنادیا وہ سب جو عوام کے دل کی آواز تھی۔

اللّٰہ اکبر! اللّٰہ سب سے بڑا ہے۔ یہ اسی کی رحمت اور فضل کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اللّٰہ نے مدد بھیج دی یقیناً خوشی کی بات ہے۔ خوشیاں منانا ہمارا حق بھی ہے پر جو ذمہ داری اب رب نے ہمارے نازک کاندھوں پر ڈال دی ہے، اس منصب کو نبھانا اور پوری طاقت، صلاحیت، وسائل اور ہمت کے ساتھ اس پر استقامت سے چلنا اور ڈٹے رہنا بھی ایک کٹھن راہ گزر ہے۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی باقی ہیں بلکہ اب تو کام کا آغاز ہوا ہے۔ اس لیے ہمارے پاس مقصد بھی ہے۔ بہترین باصلاحیت افراد بھی ہیں اور بہترین سپہ سالار لیڈر بھی ہیں اور ہم ہی سسٹم کو بدلنے کے صحیح اہل ہیں۔ اگلی قیادت ہماری ہوگی پورے یقین کے ساتھ اس پر کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اپنے آپ کو سخت امتحان کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

ابھی تو ہم پہلی کلاس سے دوسری کلاس میں آئے ہیں۔ ہماری خواتین کے لیے بہت کام بڑھ گیا ہے انھیں اپنے شوہروں کے لیے ماحول فراہم کرنا اور اپنے بچوں کو آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا بھی سکھانا ہے اور خود کو بھی اس میدان عمل میں رکھنا ہے۔ اللّٰہ کریم ہم سب کے لیے بہت آسانیاں کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

Add Comment

Click here to post a comment