Home » قربانیاں قبول ہو گئیں – لائبہ عامر
بلاگز

قربانیاں قبول ہو گئیں – لائبہ عامر

دو راتیں یوں سنسان اور ویران گزریں کہ لگتا ہے ہمارے تو کام ہی ختم ہو گئے جب سے دھرنا ختم ہوا ہے۔ یہ 28 دن اور 29ویں شب تک شیر خدا کی قیادت میں جس عزم و حوصلے، جوش و ولولوں سے لبریز کارکنان کی ولولہ انگیز قربانیوں کی وجہ سے جاری رہا داد کے قابل ہے۔ رات کو جو محفل سجتی تھی وہ تو آج بھی سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے۔ نعت کی دلکش آوازیں فضاؤں کو معطر کرتی ہماری سماعتوں سے ٹکراتیں تو وہاں سے رات دو بجے بھی اٹھنے کا جی نہ چاہتا تھا۔ تین سے چار بار بڑی مشکلوں سے رات کو چھٹی والے دن جانے کا اتفاق ہوا تو واپس آنے کا کہو ہی مت والا حال تھا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور چلی جاتی۔ لگتا کہ گویا دن نکلا ہوا ہے۔ گھر سے فون آتا کہ کب واپس آؤ گے تو انہیں کچھ دیر کا کہہ کر ٹال دیا جاتا کہ تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔ لیکن پھر اسلامی جمعیت طلبہ کی نعرے بازیاں شروع ہوتیں تو یکے بعد دیگرے جوش و خروش سے لبریز طلباء رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ وہاں سے زبردستی سب کو واپس آنے کے لیے کہا جاتا اور آتے ہوئے دل کچھ اداس ہونے لگتا کہ گویا ہم اپنے گھر سے کہیں دور جا رہے ہوں۔

سلام ہو ان افراد پر جو روزانہ اس عظیم محفل کی زینت بنے ہونگے۔ جو اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر وہاں پہنچتے تھے، جو اپنے کاموں کو مینج کر کے اس بارونق محفل کی نشستوں پر بیٹھتے ہونگے۔ کچھ کارکنان جماعت اسلامی کے ایسے حیران کن واقعے سنے کہ آنکھیں اشک بار ہو جاتیں اور مزید آگے بڑھنے کا شوق پیدا کرتے۔ ایک صاحب کو صبح سب کو ناشتے کروانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ روزانہ صبح آٹھ بجے ناشتے کا سامان لے کر دھرنے میں موجود سب کو ناشتہ کروانے کے اس کام کو بہتر طریقے سے انجام دے رہے تھے کہ ایک روز والد محترم سب کو چھوڑ کر دربار اجل میں لبیک کہہ گئے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ لیکن وہ سپوت اگلے روز صبح آٹھ بجے(والد کی تجہیز و تدفین کے بعد) اسی طرح اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ چاہتے تو اس موقع پر رخصت لے سکتے تھے لیکن کس طرح اپنی ذمہ داری پر ڈٹے رہے اور پیچھے نہ ہٹے۔۔۔۔ کئ افراد نے اپنی نئی نوکریاں داؤ پر لگا دیں۔۔۔۔ خود حافظ صاحب بخار میں تپتے وہاں پائے گئے اس حالت میں گھر آرام کے لئے نہیں گئے۔

اے راہِ حق کے شہیدوں وفا کی تصویروں!
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں!
اس شعر کے عملی نمونے بہت سے کارکنان نے پیش کیے کسی نے جان و مال سے، کسی نے وقت اور صلاحیتوں سے اپنا بھرپور حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔ بچے اپنے پیسوں سے بھرے غلق دے رہے ہیں تو کہیں سے کھانے آرہے ہیں۔ اللہ ان سب کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

پھر نہ رکنے والی آندھیوں، طوفان اور بارشوں کے سلسلوں میں بھی بوڑھے، بچے اور جوان ڈٹے رہے۔ ایک نوجوان شامیانہ ٹھیک کرتے ہوئے (جو تیز ہوا سے گر گیا تھا) اوپر سے نیچے گرا سییڑھی سمیت لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اسے بچا لیا اور اسے کچھ نہ ہوا۔ یہ تو صرف کارکنان کی قربانیاں تھیں۔ عام افراد کی رائے میں بھی تبدیلی آئی۔ انہوں نے نہ صرف جماعت اسلامی کی جدوجہد کو سراہا ہے بلکہ روزانہ ہزاروں افراد کے وفود آتے اور حمایت کا اعلان کرتے نظر آئے اور کچھ افرد تو جماعت اسلامی کے تحت کام کرنے کو بھی تیار ہو گئے۔

یہ سب تو رب تعالیٰ کا کرم اور عنایت ہے کہ اس نے یہ سارے کام ہم جیسے کمزور اور ناتواں لوگوں سے لیے ورنہ ہم اس قابل نہیں تھے کہ یہ مشکل کام کرتے۔ رب تعالیٰ نے تمام افراد کی قربانیاں اور سعی و جہد کو قبول فرمالیا ہوگا اور اسکا انعام اس طرح دیا کہ مخالف پارٹی نے گھٹنے ٹیک دیے اور مطالبات مان لیے اور بہت بڑی کامیابی اللہ رب العزت نے جماعت اسلامی کے حصے میں ڈالی اور کراچی نے ایک بڑی کروٹ لی۔ اس کامیابی کے بعد تو شہر کراچی کو حافظ صاحب کے ساتھ مل کر یوم تشکر منانا چاہیے تھا لیکن لوگوں کی تو الٹی سیدھی باتیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔

“یوم تشکر” اس بڑی کامیابی کے بعد اللہ تعالٰی کے حضور جھکنے کا نام۔۔۔۔ اللہ کی بڑائی اور کبریائی کا اعلان۔۔۔۔ ہمارا فرض عین تھا کہ جس باری تعالیٰ نے یہ رحمت ہم پر کی ہے اسکا شکر ادا کریں۔ نہ کرتے تو یہ کفرانِ نعمت ہوتا۔ اس موقع پر امیر محترم حافظ نعیم الرحمن صاحب نے شرکاء کی جدوجہد، کوششوں اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور مخالف پارٹیوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے جو کارکنان سے لوگ کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر پھولوں کے ہار بھی حافظ صاحب کے گلے میں ڈالے گئے۔ ایک دوسرے کو مٹھائیاں بھی کھلائی گئ۔۔ بارونق محفلوں کا اختتام شکرانے کے نوافل ہر ہوا۔ دھرنے ختم ہونے سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ کوئی خلا سا رہ گیا ہے ہماری روزمرہ زندگی میں۔ اب تو رات بے کار محسوس ہونے لگی ہے کہ کوئ کام ہی نہیں۔

ان مراحل اور جدوجہد کو رکنا اور تھمنا نہیں چاہئے بلکہ تیز ہو جدوجہد تیز ہو کا نعرا عملاً بھی تیز تر ہوتے رہنا چاہیے۔ تاکہ مزید کامیابیاں ہمارے قدم چومیں اور اسلامی انقلاب ہم ہی سے آئے۔ اہل کراچی اور جماعت اسلامی کے کارکنان شیر خدا، نہ دبنے والے، نہ ہٹنے والے، نہ بکنے والے حافظ صاحب کے تہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمارے مسائل کے لیے انتھک محنتیں کیں۔ اپنے کاموں کو چھوڑ کر، رات دن ایک کر کے اپنا گھر بار چھوڑ کر، رات دیر تک دھرنا گاہ میں موجود ہوتے اور عوام کے ساتھ بیٹھ کر عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ ہماری چھوٹی چھوٹی کوششوں کو اپنی بارگاہ میں بڑھا چڑھا کر قبول فرمائے اور حافظ صاحب کی دشمنوں سے حفاظت فرمائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
آمین۔

خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو