Home » میرا شہر جل رہا ہے – غازیہ وقار
بلاگز

میرا شہر جل رہا ہے – غازیہ وقار

وہ ابھی بہت کم سن تھا لیکن اس کی سوچ کی پختگی اور باتیں سن کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ عمر رسیدہ ہو اور زندگی کا بیشتر حصہ حالات کا مقابلہ کرنے میں کاٹا ہو لیکن ایسا نہیں تھا وہ تو ایک معصوم بچہ تھا جس کے کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے اور ناز کرنے کے دن تھے مگر وقت کی ستم ظریفی کسی بچے کی معصومیت اور کسی بوڑھے کی عمر نہیں دیکھتی خدا جس پر چاہے وقت سے پہلے برا وقت لے آئے جس پر چاہے اچھے حالات لے آئے –

طلال کی عمر نو سال تھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور بہنوں کا دلارا بھائی تھا اپنی چھوٹی سی زندگی ہنسی خوشی بسر کرنے والا یہ گھرانہ وادی کشمیر کے نظاروں بلندو بالا پہاڑوں، بہتی آبشاروں، خوبصورت باغات دنیا کی اس حسین جنت میں مقیم تھا – گھر کے مالی حالات کافی خوشگوار تھے طلال کی معصوم باتیں اور شرارتیں گھر والوں کے لیے جینے کی وجہ تھے طلال سے اس کے گھر والے ہی نہیں بے حد محبت کرتے تھے بلکہ اس کے تایا تائی چچا ان کے بچے سبھی اسے بہت چاہتے تھے -طلال کے والد کا اپنا باغ تھا جس سے چیری کی پیداوار سے اچھا منافع ہوتا تھا – طلال کی سب سے بڑی بہن کی شادی قریب تھی سب گھر والوں کی تیاریاں عروج پر تھیں آخر وہ وقت بھی آگیا جب بہن کے ہاتھوں کی حنا کا رنگ جوبن پر تھا آنکھوں میں جانے کتنے خواب سجاۓ وہ اپنی آنے والی زندگی کے لیے پر مسرت تھی وہ لال جوڑے میں سجی بے حد حسین لگ رہی تھی جہاں دل میں اس خوشی کو لیکر کئ ارمان تھے وہیں دل غمزدہ بھی تھا گھر والوں سے جدائی خاص طور پر طلال سے دوری پر اداس تھی رخصتی کے وقت سب گھر والوں کی اداسی ایک طرف لیکن ننھے طلال کو جدائی کا غم ایک طرف اپنی بہن کو جاتا دیکھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور رونے لگا کہ آپا آپ. مت جاؤ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ بہن نے نم ناک آنکھوں سے اپنا ہاتھ اسے چھڑوایا اور اپنے شریک حیات کے ساتھ چل دی –

طلال روتی آنکھوں سے دروازے کے پچھے چھپ کر اپنا درد چھپانے کی کوشش کرنے لگا آنکھیں بند کیے اپنی اداسی کا ماتم منانے میں مصروف تھا کہ اچانک پورا گھر گولیوں کی گھن گرج، چیخ و پکار سے لرز اٹھا طلال نے آنکھیں کیا کھولیں اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ چکی تھی وہ معصوم چہرہ شاید چاہ کہ بھی کچھ نہ کر سکتا تھا جب اس کی بہن کی عصمت کو روندتے ہوئے وہ درندے اسے اپنے ساتھ لے گئے اس کی بہن جو ساری زندگی حجاب میں رہی تب بے پردہ ہو کر ان سے اپنے گھر والوں اور شوہر کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی جس پر انھوں نے کان نہ دھرے گولیوں کی برسات سے ایک ہی وار میں پورے خاندان کا صفایا کردیا اور نہایت بے دردی سے ان کی سانسیں چھین لیں –
خوف و وحشت، محرومی و مایوسی، اداسی، دنیا اور زندگی اجڑنے کی سوچ اس وقت طلال میں پروان چڑھ چکی تھی کمرے کے دروازے کے پیچھے کھڑا طلال اپنے ہنسے بستے گھر کو اجڑا دیار بنتے دیکھ چکا تھا وہ روتا چلاتا ماں کے پاس آیا جس کے سینے سے لگ کر وہ سوتا تھا آج اس میں گولیاں پیوست تھیں باپ جس کے کندھے پہ بیٹھ کر جھولتا تھا آج اس کا جسم خون میں رنگا ہوا تھا چھوٹی بہن جو اس کی شرارتوں کی ساتھی تھی ابدی نیند سو چکی تھی بڑی آپا جس کا وہ لاڈلا تھا جو اس کے سب ناز نخرے اٹھاتی تھی وہ اپنے ارمان اپنی خوشیوں اور عزت کا جنازہ ساتھ لیکر نکلی تھی….

گھر آئے مہمانوں تایا تائی چچا سب کے خاندان کی لاشیں بکھرے ہوئے پتوں کی مانند زمین پر پڑیں تھیں – اس کی معصومیت شرارت اس کا بچپن سب اسی وقت ختم ہوگیا تھا جب اس نے اپنے اجڑے دیار کو دیدار کیا –
ملک کی مشہور ٹرسٹ میں رہنے والا یہ خاموش بن روۓ آنسو بہانے والا، اپنے غم کا ماتم درو دیوار کے ساتھ منانے والا یہ طلال خوشیوں، رشتوں، محبتوں سے محروم زندگی بسر کر رہا ہے جانے اس جیسے اور کتنے اپنا بچپن گھر بار خاندان کھو چکے ہیں معصومیت کی بجائے محرومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں آج بھی وہ ہر شام کو عین اسی وقت پر اپنے کمرے کے دروازے کے باہر آکر بیٹھ جاتا ہے جسکے سامنے موجود خوبصورت باغیچہ اسے اپنے ہنستے بستے گھر کی یاد دلاتا ہے لیکن آنکھوں کے سامنے وہ کرب ناک منظر گھوم جاتا ہے جسے وہ خاموشی سے اداس بیٹھے سوچوں کے محو میں گم ہو کر دیکھتا رہتا ہے….. اور سوچتا رہتا ہے کہ میرے جیسے اور کتنے طلال کا گھر اجڑا کتنوں کی بہنوں کی عصمت دری کی گئی کتنوں کے ماں باپ کا قتل کیا گیا جانے میرے شہر میری کو اجاڑنے میں یہ درندے کب تک لگے رہیں گے…….طلال کے دل میں ان درندوں کے لیے نفرت اور انتقام کی آگ روز پروان چڑھتی ہے لیکن دل و دماغ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے وہ انتقام کی آگ لیے ہماری فوج سے مدد کا جہاد کا اپنے حقوق کی حصولی کے لیے منتظر ہیں تا کہ وہ اپنے دیس سے ظلم و ستم اور ظلمت کو مٹا سکیں ہاں آج ہمارے کشمیری بہن بھائی ہماری طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں……
غم زندگی سناؤں میرا شہر جل رہا ہے
میں خوشی کہاں سے لاؤں میرا شہر جل رہا ہے