Home » اے کشمیر آزادی کا سورج۔۔۔تیرے ہاتھ کا گہنا ھے! اسماء معظم
بلاگز

اے کشمیر آزادی کا سورج۔۔۔تیرے ہاتھ کا گہنا ھے! اسماء معظم

کشمیر جس کی آ زادی تکمیل پاکستان ہے
کشمیر جس کی آ زادی دفاع پاکستان ہے
کشمیر جس کی آ زادی معاش پاکستان کے لئے لازمی ہے
کشمیر جس کی آ زاد ی اس کا مقدر ہے اور بھارت اس تحریک آ زاد ئ کشمیر کو مسلسل دبا رہا ہے ۔یوں کشمیر امت مسلمہ کی نظر یاتی رگوں میں سے ایک رگ ہے۔وھی کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ،جو آ ج بھی دشمن کی تلوار تلے تڑپ رہی ہے ظالم دیو کی قیدمیں بند ھے ۔زندہ رہنے کے لئے مصروف جہاد ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اس قید سے نکلنے کے لئے کشمیری نوجوان ایک طویل عرصے سے حریت کی تاریخ رقم کر رہے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

وہ کشمیر۔۔۔جو پاکستان کی شہہ رگ ہے۔۔۔۔۔ایک طویل عرصے سےجس کی وادی کی گلیوں میں اپنے وطن پاکستان کی خاطر لہو بہہ رہاہے روزانہ کئ کئ جنازوں کی باراتیں ہوتیں ۔جہاں مسلمان عورتوں کی عزتیں لٹتی رہی ہیں۔ بچے زندہ جلائے جاتےرہے۔ بہنیں بے آ برو وبے لباس ہوتی رہیں ۔وہاں کا ھر دن قیامت کا دن ہوتا۔اس کا اصل ذمہ دار بھارت اور صرف بھارت ہے ۔جہاں لاکھوں بھارتی فوجی آ زادئ کشمیر کے جذبے کو روکنے اور اس کو دبانے کے لیے ظلم کے ہتھیار لیے کھڑے ہیں ۔کبھی قیدو بند، کبھی ظلم و جبر وتشدد بربریت اور کبھی تختہ دار کی صورت میں۔ذرا سوچیئے وہ کشمیر جہاد دن و رات ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہو ں اور اس سے ہی ہماری پاکستانی قوم اور حکمران اس قدر بے تعلق۔۔۔ اس قدر غافل ۔۔۔اس قدر اجنبی کہ جیسے ہمیں کوئی پکار سنائی ہی نہیں دیتی کوئ تڑپ کوئی درد کوئی کسک محسوس نہیں ہوتی۔۔وہاں کے بچیوں بچوں اور عورتوں کی آہ وزاریاں ہمیں سنائی نہیں دیتیں۔۔۔ آخر کیوں ۔۔۔؟کیا ہم مسلمان نہیں؟ مسلمان تو وہ ہوتا ہے جو دوسرے مسلمان بھائی کا درد محسوس کرتا ہے ۔ جیسے جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو جسم اس کا درد محسوس کرتا ہے ۔۔۔تو کیا ہم اپنے کشمیر ی بہن بھائیوں کا درد ان کی فریاد محسوس نہیں کرتے۔۔۔۔ کیوں آخر کیوں ؟سوچئے کل قیامت کے دن ان مظلوموں کے ہاتھ ہمارے گریبان پکڑیں گے تو ہم کیاعذر پیش کریں گے ؟اپنے رب کو کیا منہ دکھائیں گے؟نبی ص کا کیسے سامنا کریں گے؟

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ،”جس کے پاس ایک درہم یا دینار یا سونے چاندی کی ایک ڈلی ہوجو اس نے قرض خواہ کے لیے نہ رکھی ہو اور وہ اسے جہاد میں نہ خرچ کرے تو یہ وہ خزانہ ہے جس سے یہ شخص قیامت کے دن داغاجائے گا “ذرا اس حدیث کو سامنے رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے رک کر سوچئے کہ ہم نے اپنے اوقات، اپنی صلاحیتوں ،اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اس جہاد میں کتنا حصہ لیا ؟؟؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ،”جو لوگ جہاد کرنا چھوڑ دیں گے اللہ تعالی ان پر عذاب مسلط کر دے گا”. اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان وہ سرزمین جس کو ہم نے صرف اور صرف اسلام کے نام پر حاصل کیا اس سرزمین کے حصول کو بھی اب پچھتر سال بیت گئے ہیں ۔لیکن افسوس صد افسوس یہ75سال ہم نے یونہی بلا مقصد گنوا دیئے اور پاکستان بننے کے بعد ہم اپنی اپنی دنیا بنانے میں لگ گئے۔ملک دو ٹکڑے ہوگیا آج ہم اس ملک کے اندر بدامنی اور ظلم و تشدد کا شکار ہیں۔ فحاشی عریانی اور منکرات کے سیلاب نے ہماری زندگی کا سکون چھین لیا ہے ۔سوچیں یہ اللہ کا ہم پر عذاب نہیں تو کیا ہے ؟اور کشمیر جو پاکستان کی شہہ رگ ہے اس کو بچانے کے لیے ہم نہ اٹھے تو اس سے بڑا عذاب خدا نخواستہ ہم پر آ کر رہے گا ۔ہماری آ زاد ی خطرے میں پڑ جائے گی افسوس ہم اتنی بڑی تباہی پر خاموش ہیں ؟؟؟

لہذایہ بھی دیکھیے کہ شہ رگ دبی ہوئی ہو تو جسم کے باقی حصے بھی آ ہستہ آ ہستہ مفلوج ہونا شروع ہو جاتے ہیں اسی لئے” جہاد کشمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاد پاکستان ھے” اٹھئیے پاکستان کی بقا کے لیے ۔۔۔اپنے کشمیر ی بھائیوں کی دامے،درمے، قدمے اور سخنےامداد پر کمر بستہ ہو جائیے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینے منورہ کو بچانےکے لئے جہاد کرتے تھے اور جیسے قریش کی تجارتی شاہراہ پر قبضہ کر کے اس کی اقتصادیات پر ضرب لگائی گئی تھی، ہم بھی بھارتی اشیاء ،بھارتی ثقافت کا بائیکاٹ کریں۔ اس کا بائیکاٹ کر کے بھارت کو اس کثیر رقم سے محروم کر سکتے ہیں جو اسے روزانہ مسلمان ممالک سے تجارت کر کےوصول ہوتی ہے ۔جس میں کم از کم ایک کروڑ روپےروزانہ صرف بھارتی فلموں سے حاصل ہوتے ہیں ۔بھارت کے ثقافتی بائیکاٹ کو ہم اپنا مشن بنالیں۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضہ نے تمام جاہلیت کی رسومات اور طور طریقے کالعدم قرار دئیےتھے۔ ہم بھی تمام ہندوانہ رسومات اور طریقوں کا بائیکاٹ کر کے بھارت کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو سکتے ہیں ۔بقول شاعر ،

  <strong> سنو اے ساکنان بزم کشمیر
 ندا یہ آرہی ہے آسماں سے
 کہ آزادی کا ایک لمحہ ہے بہتر
  غلامی کی حیات جاوداں سے </strong>

آج بھی 2یا 3کشمیری نوجوان روزانہ شھید کئے جارہے ہیں۔ آج بھی کشمیر میں بستیاں اجڑ چکی ہیں ۔گھر بھی ویران اور قبرستان آباد ہیں۔ آزادی کی اس تحریک میں لاکھوں کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی و معذور ہیں۔ ہزاروں اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں ۔اس قدر تاریخ ساز قربانیاں دینے والے کشمیری آزادی سے کم چیز پر راضی نہیں ہو سکتے ۔کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا ایسا حل چاہئے جو ان کی خواہشات اور امنگوں کی روشنی میں ہو اور وہ حل یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انہیں حق خود ارادیت دیا جائے ۔کشمیری پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن یہ تعلقات اس وقت تک خوشگوار نہیں ہو سکتے جب تک مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جاسکتا دونوں ممالک کے درمیان اصل تنازعہ مسئلہ کشمیر ھے ۔مسلہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر بھارت سے دوستی کے رشتے کو استوار کرنا کشمیریوں کے لاکھوں شہداء کے خون سے بے وفائی ھے۔

ہر سال 5 فروری کو حکومت پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی مناتی ہے۔ کبھی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ،کبھی آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے ۔اس طرح کا سطحی اور نمائشی اظہار یکجہتی اگر عوام کی طرف سے ہو تو بات سمجھ آ تی ھے لیکن حکومت پاکستان جو ایٹمی طاقت کی مالک ہے جس نے 6لاکھ فوج پال رکھی ھے۔بجٹ کا بھاری حصہ دفاع پر خرچ ہورہا ھے، تو یہ نمائشی گڈے اور کھلونے کس مرض کی دواہیں؟ کشمیریوں کی جدوجہد اور لازوال قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی ۔اور کشمیر پر آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔
یہ ہو نہیں سکتا کہ ظلم ہو اور حساب نہ ہو
خدا کے نام لیوا کٹتے رہیں اور خدا کا عذاب نہ ہو
کفر پہ غالب آتے ہیں ہمیشہ مٹھی بھر ہی مسلمان
کشمیر بنے گا پاکستان ،کشمیر بنے گا پاکستان- انشاء اللہ

Add Comment

Click here to post a comment