Home » مشترکہ تعاون – لطیف النساء
بلاگز

مشترکہ تعاون – لطیف النساء

سبحان اللہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں، میں نے ہر بندے کو انتہائی مخلص، مستعد اور قدردان پایا۔ انتہائی منظم انداز میں یہ دھرنا جاری رکھا۔ اگرچہ لوگوں میں سے بعض نے اس کا مذاق بھی اڑایا۔ بے پرواہ بھی رہے لیکن آہستہ آہستہ سب کی سمجھ میں آگیا۔ میں تو حیران ہوں پاپڑ والوں پر، مونگ پھلی اور دیگر ٹا فی پاپ کورن کے لڈو والوں پر جو ہر دس پندرہ قدم پر کھڑے بڑے اخلاص سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہے تھے اور باقی چھوٹے بڑے والینٹیئرز، لڑکے لڑکیا ں، عورتیں اپنا اپنا کام بڑی محبت اور محنت سے سردی کی چمکدار دھوپوں میں اخلاص کے ساتھ نبھا رہی تھیں۔

واقعی سچی محبت اور وطن سے محبت اور لگن کی مثالیں میں نے وہاں دیکھیں اور تو اور لوگ ایک دوسرے کو اپنے پرس سے کتابیں، کارڈز، صفحے نکال کر دے رہے تھے کہ چند منٹوں کی بات ہے دھوپ چلی جائے گی اس سے سایہ کرلیں، ایک دوسرے کو بیٹھنے کی جگہیں دے رہے تھے تو گویا ایسے ہیں میرے وطن کے لوگ!! میرے ملک کے سارے لوگ کیونکہ میں نے ان میں تمام ہی صوبوں کے لوگوں کو دیکھا دل خوش ہوا۔ دعا دل سے نکلی کہ یا رب میرے ملک کو سلامت رکھنا اور حقیقی معنوی میں اسلامی ملک رکھنا اسے اسلام کا قلعہ بنانا اور دین کی سربلندی کا کام اس سے لینا (آمین)۔ گویا تمام لوگوں کا مشترکہ تعاون بڑا ہی مؤثر لگا۔ ہم صرف دو گھنٹے یا ڈھائی گھنٹہ وہاں رہے، چلچلاتی دھوپ میں مگر لوگوں کا تعاون ہر معاملے میں دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی “سبحان اللہ” اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنا اچھا بنایا ہے پھر ہم کیوں ٹوٹتے بکھرتے بگڑتے جا رہے ہیں؟ وجہ صاف سمجھ میں آگئی کہ دین کی کمی، دین سے دوری اور اللہ کی کتاب سے شریعت سے حقیقی معنوی میں دوری ہی اسکا سبب ہے، گویا بقول علامہ اقبال ؒ ہمیں ضرورت ہے کہ تمام مسلمان پاکستان تو کیا پوری دنیا کے مسلمانوں واقعتاً بھائی بھائی ہی ہیں۔

درد کا رشتہ، محبت اور اخوت کا رشتہ، نیک اور خیر سگالی کا پختہ جذبہ ہی دین کی اصل بنیاد ہے جب ہی تو ہم ایک دوسرے کا حق ادا کرینگے حق مار کر ظالم نہیں بنیں گے بلکہ صحیح معنوں میں مسلم اور مومن بلکہ محسن بننا چاہیں گے:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کا شغر

یہ تو پیغام ہے تو ہم اس سے منحرف کیوں؟ ہمیں اپنی حیثیت کا، وقار کا، ذمہ داری کا بھرپور احساس ہونا چاہئے جب ہی ہم دوسروں کی نہ صرف قدر کرینگے بلکہ خود بھی معزز رہیں گے۔ تو گو یا ضرورت ہے اسلامی شعور جگانے کی اللہ سے دین سے، قرآن سے جڑنے اور شریعت کو اپنانے کی، دینی شعور ہوگا تو ہی برے بھلے کی سمجھ ہوگی، پہچان ہوگی، صحیح فیصلے ہونگے ورنہ تو لوگ یوں ہی ایک دوسرے کیلئے دشمن بنتے جائیں گے۔ واقعی دعائیں ہمارا حصار ہیں ان میں بڑی قوت ہوتی ہے ہمیں دعائیں مانگنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے۔ میں کچھ لکھنا ہی چاہ رہی تھی کہ دھرنے کا اختتام خوش اسلوبی سے ہوگیا۔ مجھے وقت نہ ملا مضمون مکمل کرنے کا مگر سبحان اللہ رب کے کلام نے ہی سکھایا کہ ہر کامیابی پر رب کا شکر ادا کریں، تسبیح کریں، سجدہ کریں اور عاجزی سے اس کی بارگاہ میں جھکے رہیں کہ یہ رب کا ہی فضل ہے بندے کا کوئی کمال نہیں، شکر الحمد للہ جو لوگ تہجد پڑھتے ہیں کتنے اچھے ہوتے ہیں؟

فرق صاف نظر آتا ہے اسی طرح جس طرح صحیح اور غلط میں فرق نظر آتا ہے ایک جگہ لکھا تھا کہ تہجد کی نماز پڑھنے کو مل جائے تو سمجھ لیں کہ رب نے اپنے سے قریب کر لیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی نماز ہے جو مؤذن کی اذان پر ادا نہیں کی جاتی بلکہ جب انسان کا دل خود مائل ہو گیا یا دل کی پکار یا دل کی اذان پر بندہ تہجد پڑھنے اٹھتا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ یہ نماز اللہ نے فرض نہیں کی ہے لیکن یہ تڑپ اور لگن ہی تو ہے کہ جب ایک بندہ اللہ کی محبت میں اس کی تلاش میں اپنا نرم گرم اور آرام دہ بستر چھوڑ کر نیند کی قربانی دے کر اپنے رب کے حضور سجدے کرتا ہے تہجد ادا کرتا ہے تو سمجھیں فرش سے عرش تک خدا کی رحمت اللہ کے اس بندے سے گفتگو کرتی ہے کتنی کشش ہوتی ہے ان سجدوں میں، یہی تہجد تو بندے کو اللہ کی پہچان کروادیتی ہے۔ اللہ پاک سب کو تہجد پڑھنے کی توفیق فرمائے مجھ سمیت (آمین) کہ پوری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا اور اختیار بھی دے دیا کہ جس کا جی چاہے تہجد ادا کرے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
کچھ خاص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں
محبت معجزہ ہے، معجزے کب عام ہوتے ہیں؟

ایسے مناظر دیکھ کر سن کر بھی بندوں کو تقویت ملتی ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے بہرحال اچھا ہوا مجھے یقین تھا کہ انشاء اللہ میرے ملک کے یہ غیور سندھی بھائی کبھی برائی کا ساتھ نہ دینگے اور جلد انصاف کرینگے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی خاص عنایت فرمائے کہ ہم عوام اتنے اچھے اور نیک ہو جائیں کہ ہمیں اعلیٰ اور بہترین قیادت ملے تا کہ ہمارا ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔ آمین۔ بس اصل مقصد اور مطلوب یہی تھا کہ:۔
جو بات بھی کہنا کہ کہو سادگی کے ساتھ
بے کار ہے الفاظ کا جھگڑا میرے آگے

ہم نے کبھی بچپن میں سنا تھا اور ایک دوسرے کو کہتے بھی تھے وہی بات آج بھی کرتے ہیں کہ زبان، لباس، علاقہ، صوبہ سب بے کار کی باتیں ہیں ہم سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اپنے مقصد کو یاد رکھیں ویسے بھی لڑائی جھگڑا برا عمل ہے اسلئے چلیں:۔ لڑائی وڑائی معاف کریں اللہ کے گھر کو صاف کریں