Home » واقعہ کرناٹک اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدائیں – اسماء معظم
بلاگز

واقعہ کرناٹک اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدائیں – اسماء معظم

“بھارت ریاست کرنا ٹک کے مہاتمہ گاندھی میموریل کالج اردو پی میں ایک مسلم طالبہ جس کا نام مسکان ہے، حجاب و نقاب میں ملبوس اپنے اسکوٹر پر بیٹھ کر کالج میں اسائنمنٹ جمع کروانے آتی ہے ۔وہ اسکوٹر سے اتر کر ابھی چند قدم ہی چلتی ہے کہ انتہا پسند ہندو لڑکوں کے جتھے نے اسے گھیر لیا۔جن کا تعلق کالج سے بھی نہیں تھا۔

اس لڑکی نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ،ان شر پسندوں نے مجھے برقعہ اتارنے کو کہا میں نے حجاب ااتارنے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے دھمکیاں دیں اور کالج میں داخل ہونے سے بھی منع کیا اور کہا کہ، تم برقعہ اتار کر ہی کالج میں داخل ہو سکتی ہو ۔جتھے میں موجود لڑکے میری طرف گندے اشارے بھی کر رہے تھے . یہ ہاتھوں میں پکڑے سرخ کپڑے فضا میں لہراتے رہےاور زبانوں سے جے شری رام کے نعرے لگاتےرہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ حالیہ ویڈیو میری نظر سے گزری جس نے میرے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا ۔یا اللہ مسلمانوں پریہ وقت بھی آ نا تھا ۔۔۔۔نوجوان لڑکی کو جوان لڑکوں کےبیج جھرمٹ میں ان حالات کا سامنا بھی کرنا تھا۔۔۔۔۔ ویڈیو میں ،میں نے دیکھا اس تن تنہالڑکی نے ان شیطان صفت لڑکوں کے اس طرح کے طرز عمل کے بعد اپنے ہاتھ کو با ربا ر بلند کر کے اللہ اکبر اللہ اکبر کی پرجوش انداز میں با آ واز بلند صدائیں لگانی شروع کر دیں بغیر کسی ڈر اور خوف کے۔۔۔۔۔

اوروہ لڑکی چند منٹ سوچ سکتی تھی کہ، اس شر پسند جتھے کے سامنے،جو چند لڑکے نہیں تھے بلکہ لڑکوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔۔۔ک ہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچا دیں یا یہ کہ۔۔۔مجھےجان سے نہ مار ڈالیں بلکہ اس نے انتہائی دلیری جرآت وہمت و شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اپنی دینی و غیرت و حمیت دکھائی اور اس بہادر اور جیدار لڑکی نےبلند آ واز کے ساتھ جے شری رام کے جواب میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے خوب پر جوش انداز میں نعرے لگائےاور نعرے لگاکر یہ ثابت کر دیا کہ ہم مسلم ہیں اس رب اور پروردگار کے جو تمام کائنات کا رب ھے ہم اس کے غلام ہیں اور ہمیں اس کی غلامی و بندگی میں کوئی غلامی قبول نہیں اور ہم انتہائی ہمت و شجاعت اور ڈٹ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا جینا اور مرنا صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہے جو اس کائنات اوراس سلطنت کا مالک ھے اس رب نے اپنے دین میں عورت کو بلند مقام عطا فرما یا ھے اور اس کو باحیا باحجاب رہنے کا حکم دیا ھے اس رب العالمین کے آ گے اور کسی کا قانون ہمیں نہ پہلے قبول تھا، نہ اب قبول ھے اور نہ آ ئند ہ کسی صورت قبول ھوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بہادر لڑکی مسکان کے ایمان کو دیکھ کر مجھے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا لکھا ہوا یہ پیراگراف یاد آگیا کہ، آپ فرماتے ہیں !

“یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ,نفس کے بندوں اور غلاموں کے لئے نہیں اتری۔ ہوا کے رخ پر آڑنے والے خس و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے ۔ یہ بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کارُخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں ۔جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہو ں۔ جو صبغتہ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہو ں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔” بھارت میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے عدالتی فیصلے نے پوری دنیا کو بھارت کا قبیح اور مکروہ چہرہ دکھا دیا ھے۔ ادھر مسلمانوں کی جانب سے حجاب پر پابندیوں کے خلاف پیش کردہ درخواست پر عدالت میں سماعت شروع ہوگئی ہے ۔عالمی شہرت یافتہ اسلامی مدرسۃ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر پابندی لگا کر اسے بند کر دیا ہے جس سے مسلمانوں میں شدید نفرت اور غصہ پیدا ہو رہا ہے ۔

بلاشبہ بھارت کی ایک بہادر مسلمان لڑکی نے تنہا بھارت سرکار کا گھناؤنا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ منٹوں اور سیکنڈ وں میں اس بہادر لڑکی کی ویڈیو پوری دنیا میں وائرل ہوگئی جس کے نتیجے میں بھارت سرکار کو ساری دنیا کے سامنے شرمسار ہونا پڑ رہا ہے اور یہ مودی جو بھارت ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا کے لئے ایک موذی مرض بن چکا ہے اور مسلمانوں کے لہو کا پیاسا ہے بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے در پر ہے بھارت کی تقسیم کا جو بیج بو دیا گیا ہے اب اس نفرت کی سیاست کا خمیازہ انہیں بھگتنا ہی ہوگا۔ پاکستان کے وقت دو قومی نظریے کا جو نعرہ لگایا گیا تھا آج وہ سچ ثابت ہورہا ہے جو افراد نعرے کی مخالفت کرتے رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اس نہتی اور معصوم طالبہ کا قصور یہ تھا کہ اس نے حجاب کیا ہوا تھا بھارت جیسی سیکولر ریاست میں حجاب اس کا آئینی حق ہے جو اس ملک کے قانون میں اسے دیا ہوا ہے کہ وہ جیسے چاہے لباس زیب تن کرے مسلمان لڑکی کے لیے حجاب پہنا اس کا مذہبی معاملہ اور ایک ذاتی چیز ہے ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ مسلمان لڑکیوں کو حجاب اتارنے کے لیے کہے ۔ ایک محنتی معصوم مسلمان بیٹی نے آج نعرےتکبیر بلند کر کے اللہ کی کبریائی کو بلند کر دیا ہے اور اللہ اکبر کی صدا پوری دنیا میں گونج اٹھی ہے .

مودی کا سیکولر بھارت کسی جنگ لڑائی کے بغیر آج چکنا چور ہو چکا ہے نہتی مسکان خان نے ثابت کر دیا ہے کہ اللہ کی ذات پر یقین اور اپنے نظریے پر ثابت قدم رہ کر بڑی سے بڑی قوتوں کامقابلہ کیا جاسکتا ہے حجاب کا معاملہ بھارت کی بربادی کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے پوری امت مسلمہ اپنی بہادر شیردل بیٹی کو سلام پیش کرتی ہے ۔ جس نے پوری دیدہ دلیری کے ساتھ دشمنوں سےمقابلہ کیا اور اللہ اکبر کی صدا لگا کر اپنے رب کی کبریائی بیان کر کے باطل کی قوتوں پر ایک خوف ،ہیبت اوردہشت طاری کر دی ھے۔

ہم اس شیردل بیٹی کی شجاعت و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

Add Comment

Click here to post a comment