Home » حیاء کی چادر – شہلا ارسلان
بلاگز

حیاء کی چادر – شہلا ارسلان

شرم وحیاء ایسا وصف ہے جو صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے اور یہ جانور اور انسان کے درمیان وجہ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے۔ اگر آپ کے لب ولہجہ، عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو آپ کی ساری اچھائیوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ جب تک انسان شرم و حیا کے حصار میں رہتا ہے، ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اس کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے اور شیطان کا وار کامیاب ہو جاتا ہے۔ ہمارے نبی نے فرمایا “جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر”۔ کسی بھی کام سے رکنے کا ایک سبب شرم و حیا بھی ہے لیکن آج کے معاشرے میں اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں، اشتہارات اور مارننگ شوز وغیرہ ہمارے اپنے اصل سے ہٹا کر مغرب کے نقش قدم پر چلا رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل ان کے جال میں پھنس رہی ہے۔ حقیقت ہے کہ مردوں کے اخلاق و عادات بگڑنے سے معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور جب عورتوں میں یہ بیماری پھیل جائے تو نسلیں تباہی و بربادی کا شکار ہوجاتی ہیں اور بگڑے ہوئے معاشرے کی سب سے اہم وجہ ہماری اسلامی تعلیمات اور قرآن سے دوری ہے اور اپنے رب کے احکامات پر عمل نہ کرنا ہے۔

اسلام سے پہلے عورتوں کی کیا حالت تھی؟ ان کی کوئی قدر و قیمت ہی نہ تھی۔ لونڈیوں سے بد تر ان کی حیثیت تھی۔ اسلام نے ان کو مکمل حقوق دیے۔ ان کو معاشرے میں ایک عزت و مقام دیا اور آج اسلامی معاشرے کی خواتین اپنی حجاب وحیاء کو اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ عورت کی کل کائنات اس کی پاکیزگی اور حیا ہے۔ یہ اس کی اصل زینت ہے۔ یہ زمانہء جہالت کی طرح بے پردہ نہیں ہوتیں وہ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ پردے کے اندر صرف ایک عورت کی نجات نہیں بلکہ ایک ملت کی نجات ہے کیونکہ بے پردہ عورت پوری ملت کو گمراہ کر دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ جو کہ بہت معمولی تعداد میں ہے، وہ ہمارے نوجوان بچوں اور بچیوں کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں اور آئے دن کوئی نہ کوئی فتنہ پروری کا انجام دے رہے ہوتے ہیں اور تدبیریں کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ ان کی تدبیریں ان پر ہی الٹ دے گا۔

میری نوجوان بیٹیوں ! لبریز کی باتوں میں کبھی نہ آنا۔ باپ بھائی تمہارے رکھوالے اور محرم ہیں اور روئے زمیں پر یہ حق صرف مشرق کو حاصل ہیں۔ اس پر ہمیشہ ناز کرنا۔
باہر بھیڑیے
اپنے “کلچرل”حربوں سے
جس پاکیزہ حصار سے تجھے محروم کرنا چاہتے ہیں
وہ تیری آبرو کا قلعہ ہے
اسے گرا دیا
تو بہت پچھتاؤگی
قدرت کا ہر رنگ حسین ہے
پر حیا کا رنگ اولین ہے!