Home » ڈریس کوڈ – مستبشرہ عظیم
بلاگز

ڈریس کوڈ – مستبشرہ عظیم

جیتی رہو پیاری مسکان! تمہیں اللہ کی امان ہو۔۔۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو دیکھ کر روح تڑپ اٹھی۔ حوصلے بلند ہوئے اور۔ دل سے ڈھیروں دعائیں نکلیں۔ ہوا یہ کہ نام نہاد سیکولر کہلانے والے دیس میں کچھ دہشتگردوں نے مسلمان بچیوں کو حجاب اوڑھ کر تعلیمی اداروں  میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی۔ اپنے گھٹیا پن کا ثبوت تو یہ شدت پسند قوم  گاہے بگاہے دیتی ہی رہتی ہے۔ شدت غم اور خوشی سے لبریز دل و دماغ میں کئی خیالات ایک ساتھ کوند گئے۔ روح 75 سال پیچھے لوٹ گئی۔
“لے کے رہیں گے پاکستان”
“بن  کے  رہے  گا پاکستان”
“پاکستان کا مطلب کیا”
“لا الہ الا اللہ”

برصغیر کے دیس واسیوں نے جب دیکھا کہ ہمارے دین دھرم کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور ہمیں اپنے ارکان پورے نہیں کرنے دیے جا رہے تو ایک الگ وطن کا مطالبہ کر دیا۔ پھر لاکھوں جانیں فدا کر کے ایک خطہء زمین حاصل کیا جس پر اسلامی نظام اور اسلامی مزاج رائج کرنا تھا۔ بہت سے مسلمان نقل مکانی نہ کرسکے اور ہندوستان میں ہی رہ گئے۔ جن پر گاہے بگاہے زمین تنگ کر دی جاتی تھی لیکن اپنے دین دھرم کو سینے سے چمٹائے یہ مسلمان وقت کی گاڑی کو کھینچتے رہے اور ہم یہاں پاکستان میں رہتے ہوئے ان پر ہونے والے مظالم پڑھتے سنتے ہیں تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکر بجا لاتے ہیں کہ صد شکر کہ ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

لیکن یہ کیا کہ آزاد فضائیں حد سے زیادہ آزاد ہوتی جا رہی ہیں۔ اور ہم آج ان سب وعدوں اور نعروں کو بالائے طاق سجا کے رب کے ناشکرے بنے جا رہے ہیں۔ ہمارے سکول، ہماری یونیورسٹیاں، ہمارے کالجز، ہمارے دیگر ادارے آج ذرا طائرانہ نظر ڈال کر دیکھ لیجیے، ان نعروں اور وعدوں کے کتنے غماز ہیں۔

آج ہمارے گھروں کی بچیوں کا لباس کیا ہے؟ کیا مغرب زدہ نہیں ہے؟ کیا اسلامی لباس اور شعائر ہمیں بوجھل نہیں لگنے لگے؟ کتنی مائیں ہیں جو اپنی بیٹیوں کے اسلامی لباس پر خاص توجہ اور نظر رکھتی ہیں؟ کہیں ہم نے عہد شکنی تو نہیں کر دی؟ کہیں ہم ناشکری تو نہیں کر رہے؟ اس بچی کی دلی حالت جانیے، محسوس کیجیے۔ اس کے والدین اس کے خاندان کی کیفیت کو محسوس کیجیے کہ اس وقت وہ کیا ہو گی۔۔؟

یہ تو صد شکر کہ انڈیا اور بیرون انڈیا کے میڈیا نے اسے کوریج دے دی۔ اس کا نام گمنامی سے بچا لیا۔ اب کوئی اس کے خلاف ہوتے ہوئے سوچے گا۔ جے شری رام اور اللہ اکبر کے درمیان یہ چھوٹا سا کپڑے کا ٹکڑا ہی حائل ہے۔ یہ چھوٹا ٹکڑا۔۔۔ اسے چھوٹا نہ سمجھئے۔۔۔ یہ تو ایک روایت ہے، یہ ایک ثقافت ہے ایک معیار ہے۔۔۔ اللہ کی شان دیکھیے آج کفرستان میں رہنے والی لڑکی اپنی جان پر کھیل کر اللہ کی مرضی اور اس کی حدود کی حفاظت کر رہی ہے۔ اور پاکستان میں رہنے والیاں اپنی مرضی کے پرچار کے لیے گھلی جا رہی ہیں۔

بہت پیار اس بچی کے لیے۔۔۔! وہ کہہ رہی تھی کہ میں ڈر گئی تھی۔ میں نے اللہ کا نام لے لیا، اس نے میری حفاظت کی۔ وہ کہہ رہی رہی تھی کہ میری کلاس فیلوز کلاس میں بیٹھی رو رہی تھیں۔ ہم سب کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ سلامت رہو! شاد و آباد رہو! اس چند روزہ زندگی سے آگے لمبی خوشیوں بھری زندگی تمہاری منتظر ہے! اللہ کریم سے دعا ہے کہ امت مسلمہ کی ہر بچی کو اتنا جی دار اور دین پسند بنا دے اور ہر بچے کو اسلامی حدود و شعائر کا رکھوالا بنا دے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اپنی جنتوں میں ہماری ملاقات تم سے ضرور کروا دیں۔ پھر ہم تمہیں بہت پیار دیں۔ بہت سا پیار اور دعائیں۔۔۔!

Add Comment

Click here to post a comment