Home » میرے محرم ,میرا مان – نادیہ احمد
بلاگز

میرے محرم ,میرا مان – نادیہ احمد

“ذرا یہ فرائز تو ادھر دو۔۔ بڑے مزے کا فلیور ڈالا ہے آ ج کینٹن والے انکل نے۔۔ کونسا ہے؟” سدرہ نے ندیدہ پن سے فرائز کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ علیزہ نے ایک گھوری سے نوازتے ہوئے ڈبہ کا رخ اسکی طرف کیا جسے نظر انداز کرتے ہوئے سدرہ نے فٹا فٹ فرائز سے بھرپور انصاف کرنا شروع کیا ساتھ ساتھ فرائز کی تعریف بھی جاری تھی۔۔
“اچھا بس کر دو۔ فرائز کی شان میں قصیدے پڑھنا۔” علیزہ نے کہا۔
“امممم! پھر کیا پڑھوں؟؟ رابنز کی تھیوری؟” سدرہ نے منہ چلاتے ہوئے کہا تو علیزہ نے اس کے ایک دھپ رسید کی اور دونوں ہنس پڑیں
” اچھا یہ بتاؤ عینا آپی کیسی ہیں؟ احمر بھائی ان کے ساتھ کیسے ہیں؟” علیزہ نے سدرہ کی بہن کے بارے میں پوچھا جس کی شادی کو کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔
“عینا آپی! مزے میں ماشاءاللہ، یوں سمجھو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں انکی۔”
“ہیں!! ایک تو تمہاری ہر بات کھانے سے شروع ہو تی ہے سدرہ کی بچی۔”
“ارےےےے میرا مطلب ہے بہت خوش ہیں، الحمدللہ اور احمر بھائی بہت ہی اچھے ہیں۔ آپی کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ تمہیں پتہ ہے جب وہ اتے ہیں نا ہماری طرف تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے آپی کے لیے دروازہ کھولتے ہیں۔ اور آپی کسی شہزادی کی طرح تشریف رکھتی ہیں۔ آپی سے جوس پورا نہیں پیا جاتا تو آ پی کا باقی جوس وہ ختم کرتے ہیں۔ آپی کو پنک کلر پسند ہے۔ کھانے میں چائینیز اچھا لگتا ہے۔ امجد اسلام امجد کی شاعری پسند ہے۔ یہ سب انہیں ایک ماہ میں ہی پتہ چل گیا۔ اور آ پی کا تو نہ ہی پوچھو اتنا بدل گئی ہیں۔ سوچو ذرا جو لڑکی ٹھنڈا کھانا کھا لینے اور اپنی چیزیں سنبھال کر نہ رکھنے پہ امی کی ڈانٹ کھاتی تھی، آج میاں جی کے موزے سنبھال کر رکھتی ہے اور انکے لیے روز مزے مزے کے کھانے بناتی ہے۔”
“واہ، یہی تو نکاح کے بندھن کی خاص بات ہے کہ دو اجنبی ایک دوسرے کے لیے بہت خاص ہو جاتے ہیں۔۔” علیزہ نے خالص بزرگانہ انداز میں بیان کیا۔
“ہاں یہ ہی امی کہتی ہیں اور میں سوچتی ہوں کہ کاش! مجھے بھی ایسا ہی ہم سفر ملے۔” سدرہ نے کہا تو علیزہ نے دعائیہ انداز میں ہاتھ میں ہاتھ اٹھا کر پر زور “آ مین” کہا۔
“اوہو, کونسی دعائیں کی جا رہی ہیں؟” پاس سے گزرتی نور نے جو کہیں جانے کی جلدی میں تھی پوچھا۔
“کچھ نہیں ںبس یہ سدرہ اپنے مستقبل کے شوہر کے لئے دعا کروا رہی تھی.”
“وہاٹ؟؟؟ کیا کہا تم نے؟ تم، یعنی آج کے دور کی لڑکی، ان سو کالڈ ہسبنڈز والی تھیوری پر بلیو کرتی ہو؟” نور نے ایک ادا سے ماتھے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا، “اوہ مائی گاڈ! ڈونٹ ٹیل می کہ تم اکنامکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد اپنا فیوچر بنانے کے بجائے ہسبنڈ کے لئے کھانا گرم کرو گی اور اسکے موزے ڈھونڈو گی۔۔ںآ ئی ڈونٹ بلیو۔ مجھے تو تمہارے اس لمبے چوڑے دوپٹے سے ہی تم پر رحم آتا ہے۔ تمہارے فادر یا پھر…. اوہ یس! بھائی، انہوں نے کہا ہوگا نا یہ پہننے کے لئے۔۔ چچ چچ !!! اتنی قید کافی نہیں ہے جو شوہر کو بھی برداشت کرو گی تم۔” نور نے ان دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“نور ! یہ کیا بولے جا رہی ہو تم؟ دوپٹہ، موزہ، بھائی، شوہر، پابندی، یہ تو میرے محرم رشتے اور ذمہ داریاں ہیں۔” سدرہ نے غصے سے سرخ ہوتے چہرے مگر نرم آواز میں کہا۔
“اوہو, اب تم کہو گی کہ یہ تو مجھے باہر لے کے جاتے ہیں۔ میری مدد کر تے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو میڈم یہ اکیسویں صدی ہے۔ تم ہو کہاں؟ مجھے کہیں جانا ہو تو بھائی کا ویٹ نہیں کرتی۔ اوبر کرتی ہوں۔ ٹائر بدلنا پڑے تو بدل لیتی ہوں۔ اپنی شاپنگ خود کرتی ہوں۔ کوئی مجھے پہننے، بیٹھنے کا طریقہ بتائے اس سے پہلے میں راستہ ہی بدل لیتی ہوں۔ آ فٹر آل یہ میری زندگی ہے مرضی بھی میری چلے گی۔”
“بس نور!” علیزہ نے کہا۔ “تم میری مرضی…جیسے چاہو جیو” والے فارمولے پر عمل کرتی ہو۔ تم ٹائر بدلتے بدلتے بوائے فرینڈ بدل لیتی ہو۔ وہ تمہارے برائی کی طرف بڑھتے قدموں کو روک نہیں سکتا، اس لیے اوبر کر کے ایک غیر مرد کا سہارا لے سکتی ہو۔ تمہیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر حیا کے فطری تقاضوں سے آزادی چائیے تو جاؤ جی لو اپنی زندگی۔ کر لو عیش۔ زیادہ سے زیادہ نور مقدم یا عائشہ اکرم ہی بن سکو گی مگر یاد رکھنا سائبان کی تلاش میں تم جتنا بھٹکو گی اتنا الجھو گی۔ جس وجود ذن سے تصویر کائنات میں رنگ ہیں وہ وجود مرد کی پسلی کا ایک ٹکڑا ہے۔ دل کے بہت قریب اور رب جانتا ہے شاید پسلی کو بنا یا ہی اس لیے گیا ہو کہ اسی سے مرد و عورت کی تکمیل ہونی تھی۔۔ یہ تمہاری سوچ ہے مگر میں تو دیکھتی ہوں کہ میرے گھر میں ابو آتے ہیں تو ایک ہی سوال ہوتا ہے: بیٹا تمہاری ماں کہاں ہے؟ بڑی بھابھی انتظار کرتی ہیں کہ بھیا آئیں گے تو پانی کا کین کاؤنٹر پہ رکھیں گے۔ شاپنگ کرنی ہو تو میری گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر بھابھی بھیا کا والٹ استعمال کرتی ہیں۔ گاڑی خراب ہو جائے تو آپی ٹائر نہیں بدلتیں۔ ان کے شوہر انہیں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا کر انہیں جوس تھما کے خود ہی گاڑی کو دھکا لگا کر مکینک تک لے جا تے ہیں۔ مجھے یونیورسٹی سے لینے کے لئے چھوٹے یاسر نے اپنی شفٹ ہی ایوننگ کی رکھوالی ہے۔ ساریہ کے داخلے پہ اسکے بھیا نے اسے نفیس سا عبایا لاکر دیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موتی سیپ میں رہتا ہے تو اس کی قدر ہی اور ہوتی ہے۔ جب بازار میں پیش کیا جاتا ہے تو سینکڑوں خریدار بولی لگانے پہنچ جاتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں کے مردوں کو بادشاہ سا مان دیتی ہیں تبھی تو ملکاؤں کی طرح رہتی ہیں۔ ہم صنف نازک، صنف آ ہن ہیں مگر ان کے لئے جو ہماری طرف نگاہ غلط ڈالے۔۔ ہم انکی آنکھیں بھی نوچ سکتی ہیں اور ہاتھ بھی کاٹ سکتی ہیں مگر ہمیں اسکی بھی ضرورت نہیں۔ میرے جیسی ہر لڑکی کے لئے ہمارے محرم ہمارے لئے اللہ کے بھیجے ہوئے نگہبان ہیں۔ ہمارا فخر ہمارا مان ہیں۔” سدرہ نے عقیدت سے کہا
“باقی تم جانو تمہاری سوچ، تمہاری مرضی جیسے چاہو جیو، میں جا رہی ہوں۔ یاسر آ گیا ہے نا مجھے لینے۔ وہ کیا ہے کہ اگر مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے نا تو بابا جانی باہر سڑک پہ ہی یاسر کی کلاس لینے پہنچ جاتے ہیں۔”
“اوکے! پھر ملتے ہیں۔” سدرہ مسکرا کر چل دی مگر اگلے ہی لمحے پلٹ کر بولی۔
“اورہاں! تم آ ج پیدل گھر چلی جانا کیوں کہ عورت مارچ والوں نے سڑکوں پر رش لگایا ہوا ہو گا۔ پتہ نہیں اوبر ملے یا نہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment