Home » لوگ کیا کہیں گے – حبیبہ اسمعاعیل
بلاگز

لوگ کیا کہیں گے – حبیبہ اسمعاعیل

آج جسے دیکھو وہ اسی فکر میں لگا رھتا ہے میں نے فلاں کام نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے  کچھ اور نہی تو کسی شادی یا تقریب میں جانا پڑگیا  تو  کیا پہنا جاۓ گا اب کیونکہ یہ کپڑے تو میرے سب نے دیکھے ہیں  وہ کہیں گے اور کپڑے نہیں ہیں کیا ؟  جبکہ ان موقعوں پر کسی کو ملنے ملانے سے ہی فرصت  نہی ملتی  دیکھنے کی کس نے کیا پہنا —

لیکن افسوس انہی فضول سوچوں کو لے کر ہر شخص نے خود کو  اور اپنے  سےوابستہ  لوگوں کو  بھی  بری طرح سے الجھایا ہوا ہے اسی لیے معاشرے میں شادی بیاہ کے ساتھ مرنا  جینا بھی  بڑا مشکل ہوگیا ہے ان لوگوں کے لئے  جو کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی ان بے مقصد رواجوں اور کاموں کو صرف اسلیۓ  کرنے کے لیے گھر بھر کو مجبور کرتے ہیں  ارے لوگ کیا کہیں گے-  اگر ہم نے  مایوں نہیں کی اتنے کم لوگوں کو شادی پہ بلایا  یا  سوئم  چالیسواں تو کرنا پڑے گا نہ لوگ کہیں گے ہمیں مرحوم سے محبت نہیں تھی شاید جو انکے ثواب  کے لئے کچھ نہیں کرہے ہم  جبکہ اللہ تو نیتیں جانتا اور دیکھتا ہے ہماری  اب چاہے گھروں میں جھگڑے ہوں  اسکی خاطر قرضدار بنیں یا  کچھ بھی ہو بس لوگوں کو ناخوش نہیں کرنا چاھیۓ  وہ لوگ جو کسی کے برے وقت میں اور ضرورت کے وقت پوچھتے بھی نہیں کہ آپکا فلاں  کام کب  اور کس طرح ہوا کسی لڑکی کی شادی کرنے چلیں  اور اپ کے حالات بھی تنگ  ہوں پھر بھی سب یہ ضرور پوچھیں گے  ہاں بھئ ڈھولکی مہندی   تو ہوگی نہ شادی میں لیکن کیا دینا دلانا ہے ہمیں بتانا  ضرور  یہ بات کوئ کہنے کی زحمت نہی کرتا  بلکہ مشورہ دے دیں گے سارے کام کرنا سب کو بلا کے ورنہ لوگ کیا کہیں گے بھئی دیکھ  لو  ہم تو تمھارا بھلا چاھتے ہیں  اور تو اور شادی شدہ بیٹی بھی اپنے ماں باپ کو سسرال میں اپنی عزت بنانے  کے لیۓ  اپنے اچھے گنوں کے بجاۓ  ہر خاص موقع پر  تحفے تحائف  بھجوانے پر مجبور کرنے میں کوئی شرم نہی کرتی  میرے سسرال والے کیا کہیں گے  اسکی فکر رھتی ہے بس    اب تو حال یہ ہے لوگوں کی خاطر  رمضان میں دکھاوے کی بڑی بڑی افطار پارٹیاں  رکھ کر چاہے روزے نماز کی پابندی سے  بے بہرہ ہوں  ہمیشہ اسکے ساتھ بقرہ عید میں قربانی بھی محض لوگ کیا کہیں گے کی فکر میں اپنی حیثیت سے نہیں بلکہ خود کو بلاوجہ کی مشکل میں ڈال کر ادھار قرض کر کے مہنگے جانور کی قربانی کی جاتی ہے  لیکن اللہ تو خالص  نیت اور سچے جذبہ کا اجر دیتا ہے   اگر ہر کام میں  لوگوں کی نہیں  صرف اللہ کی محبت کو مد نظر رکھا جاۓ تو  پھر دیکھیں اللہ کے ساتھ دنیا والے بھی سچے ہمدرد اور  کیسے مدگار بنتے ہیں  

  ہر انسان  اللہ کے بتاۓ  زندگی کے طریقوں کو اپنانے کو  اپنا نصب العین بنا لے اور سب کو  ہمنوا بھی بناۓ  تو اپنے جیسے انسانوں سے ڈرنے اور انکے سوالوں سے نہیں اللہ کے ہاں جواب دینے کی فکر میں ساری فضولیات کو معمولی سمجھ کے اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں اور کچھ بھی نہیں پھر ساری مشکلات آسان  ہوتی جائیں گی اگر ہر ایک لوگ کیا کہیں گے کے  خوف سے نکل کے   اللہ کے بناۓ سادہ طور طریقوں کو اپنالیں تو  دنیا اور اخرت بھی سنور جاۓ گی اور معاشرے  کی بھیڑ چال  میں اعتدال و سکون کی فضاء بڑھتی رہے گی-

1 Comment

Click here to post a comment