Home » ماں کی ممتا – ۔ایمن طارق
بلاگز

ماں کی ممتا – ۔ایمن طارق

اس کے دنیا میں آنے کی خوشی بہت تھی ۔ استقبال مبارک سلامت کی صدائیں ۔ ماں کا چہرہ چمک رہا تھا بار بار دیکھتی پیار کرتی اور باپ نثار ہوتا ۔ چھوٹے سے بچے کے وجود سے پھوٹتی خوشبو ہی ایسی ہوتی ہے ۔ اُنگلی پکڑ کر کھیلتا کب بڑا ہوا پتا نہ چلا بس ماہ و سال ایسے ہی گزر گۓ جیسے خواب سے آنکھ کھل جاتی ہے ۔اب اُسے دوسرے شہر پڑھنے بھیجنا تھا یعنی اپنی مہربان چھاؤں سے باہر کی دنیا کے حوالے کرنا تھا۔
لاکھ خدشے، ماحول خراب اور صاف نظر آتا تھا بس ہاتھ سے نکل جاۓ گا ۔ ماں کا دل تو لرزتا ہی ہے خدشات سے وہم سے پریشانی سے فکر سے اور ان دیکھے خطرات سے ۔ وہ پوری رات سو نہ سکی اور دعائیں کرتی رہی ۔ وہیں قرآن کھولا دل کی تسلی اور سکون کے لیے ۔ سورہ قصص کھلی اور وہ پڑھتی چلی گئی ۔ وہ بھی تو ماں تھیں ۔ محبت سے ممتا سے بھرپور ۔ ابھی تو بچے کو دل بھر کر پیار بھی نہ کیا تھا کہ اُس کو بچانے کے لیے کوئ قدم اُٹھانا ناگزیر ہوگیا ۔ ہاں وہ چاہتی تو اپنی آغوش میں ہی سمیٹے رکھتی اور خود پر بھروسہ کرلیتی کہ نہیں بچے کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دوں گی ۔ لیکن جانتی تھی کہ گود میں چھپا کر بھی خطرے سے بچانا ممکن نہیں تو اُس نے اپنے دل میں ڈالے جانے والے انہونے سے خیال کو عملی جامہ پہنایا اور خطرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بچے کو دریاکے حوالے کردیا ۔ سمندر پار ہی بھیج دیا نا ۔ ماں ہی تو تھی اُس کے جیسی ہی ماں کہ جو بچے کے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی بے چین ہوجاتی ہے ۔ اپنی طرف سے ماں کی کوششیں ختم نہیں ہوتیں تو اُس ماں نے بھی بیٹی کو دوڑا دیا کہ ساتھ ساتھ جاؤ ۔سورہ قصص دل کو تسلی دے رہی تھی کہ وہ اکیلی نہیں ۔یہ پریشانی ایسی ہی ہے جیسی موسی علیہ اسلام کی ماں کی تھی۔بے قراری بڑھتی ہی جارہی تھی صبح کے روشنی نمودار ہونے کو تھی اور وہ جاۓ نماز پر ہی بیٹھی تھی ۔

اور پھر آگے پڑھتی جاتی ہے ۔ وہاں موسی کی ماڻ پریشان تھیں اور دوسری طرف اللہ سبحان و تعالی نے اُس خطرے کے اندر موسی کے لیے اپنا منصوبہ مکمل کر رکھا تھا ۔ یعنی شر کے ماحول میں فتنے کا پورا امکان موجود ہوتے ہوۓ دشمن کے اندر ایسا مہربان پیدا کردیا جس نے بچے کو اپنی آغوش میں لے لیا۔۔ یعنی ہمارے خدشات ہمارے خوف تو فطری ہوتے ہیں لیکن اللہ کے منصوبے ہماری سوچ و گمان سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ وہ شر سے خیر نکال دیتے ہیں ۔ وہ ایسا انتظام کرتے ہیں کہ ہم دنگ رہ جاتے ہیں ۔ اور وہ جب وعدہ کرتے ہیں کہ آنکھوں کو ٹھنڈا کردوں گا اگر بھروسہ کرو مجھ پر تو وہ وعدہ پورا کرتے ہیڻ ۔ وہ موسی علیہ اسلام کی ماں کو اس جدائ کے بعد واپس اپنے بیٹے سے ملادیتے ہیں ۔ اپنے وجود کے حصے جب نظر سے اوجھل ہوں قدم سے دور ہوں اور سامنے آجائیں تو آنکھوں کی ٹھنڈک کا حقیقی مفہوم سمجھ آتا ہے ۔ اور پھر موسی علیہ اسلام کی ماں نے بے چینی میں کتنی ہی دعائیں کی ہوں گی ۔ اُن کے مستقبل کے لیے اور اُن کی حفاظت کے لئے ۔ اللہ سبحان و تعالی نے بدترین ماحول میں بہترین انتظام کردیا ۔ مستقبل ڈراتا ہے اور خدشات لرزاتے ہیں لیکن موسی علیہ اسلام کا زندگی یہ احساس دلاتی ہے کہ اس دنیا میں اولاد کو اللہ کے بھروسے سمندر کی لہروں کے سپرد کرنا ہی ہے ۔ دل کئ بے چینی غیر فطری نہیں ہوگی لیکن بھروسہ کرنے والوں کے آنکھوں کی ٹھنڈک کا انتظام وہ رب مہربان ضرور کرتا ہے ۔

“ہم نے موسٰی کی ماں کو حکم بھیجا کہ اسے دودھ پلا، پھر جب تجھے اس کا خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، بے شک ہم اسے تیرے پاس واپس پہنچا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔ پھر اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھا لیا تاکہ بالآخر وہ ان کا دشمن اور غم کا باعث بنے، بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔اور فرعون کی عورت نے کہا یہ تو میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنالیں، اور انہیں کچھ خبر نہ تھی۔اور صبح کو موسٰی کی ماں کا دل بے قرار ہوگیا، قریب تھی کہ بے قراری ظاہر کر دے اگر ہم اس کے دل کو صبر نہ دیتے تاکہ اسے ہمارے وعدے کا یقین رہے۔اور اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا، پھر اسے اجنبی ہو کر دیکھتی رہی اور انہیں خبر نہ ہوئی۔ اور ہم نے پہلے سے اس پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا، پھر بولی میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں جو اس کی تمہارے لیے پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔پھر ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا توانا ہوا تو ہم نے اسے حکمت اور علم دیا، اور ہم نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔”(سورہ القصص)

۔ ۔۔

Add Comment

Click here to post a comment