Home » حیا میرا زیور- عالیہ عثمان
بلاگز

حیا میرا زیور- عالیہ عثمان

ارےنمرہ بیٹی تم کو معلوم تو ہے کہ تمہاری پھپھو آئی ہوئی ہیں ،اور تم پھر اپنے اوٹ پٹانگ حلیئے میں پھر رہی ہو ۔ فریدہ بیگم نے نمرہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو کپڑے دھو کر پھیلا رہی تھی گھٹنوں تک قمیض، ٹخنے سے اوپر ٹراؤزر پہنے دوپٹے سے بےنیاز جلدی جلدی اپنا کام کرنے میں مگن تھی ۔ارے ماما پھر کیا چادر اوڑھ کر کپڑے دوھوئوں یا عبایا پہن کر۔۔۔۔۔ ارے بیٹا تم کچھ تو خیال کرو ہماری عزت کا، گھر میں آئے مہمانوں کا ہی خیال کر لو ۔

ماما آپ بلاوجہ پریشان ہوتی ہیں اگر مجھے بےحیا سمجھیں تو سمجھنے دیں میں خواہ مخواہ کسی کے دل میں گھس کر نہیں رہ سکتی جس کا دل چاہے گا وہ مجھے قبول کر لے گا۔ نمرہ تمہیں اپنے ماں باپ کی عزت کا کچھ خیال نہیں ہے۔فریدہ بیگم افسوس سے کہتی ہوئی واپس کچن میں چلی گئیں۔ ماما کا یہ جملہ بڑا دردانگیز تھا کوئی ایسی بات تھی جو اس کے دل پر جا لگی -فریدہ بیگم کے دو ہی بچے تھے نمرہ اور عبداللہ انہوں نے دونوں بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی مگر نمعلوم زیادہ لاڈ پیاریا آج کل کےآزادانہ ماحول کے اثر سے ان کی بیٹی ویسے تو ہر طرح صحیح تھی لیکن پردہ وغیرہ کرنے کو تیار نہ ہوتی تھی ماں تھیں اکثر ٹوک دیتی تھیں ۔۔وہ اپنے بستر پر لیٹی سوچوں میں گم تھیں ان کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ ایک دور تھا جب پردہ مسلمان عورت کی شان تھا اور مسلمان معاشرے میں روح رواں رکھتا تھاآج کل پردے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے اور بے حیائی عام ہو چکی ہے آج اس معاشرے کو کوئی پہچان نہیں سکتا جس میں رابعہ بصری جیسی خواتین جنم لیتی تھیں_ اسلام نے عورت کو سماجی حیثیت دیی۔

ا سے ماں، بہن ،بیٹی، اور بیوی کا پاکباز روپ دیا غرض کے اسلام میں عورت کو اعلی ترین مقام دیا اور پھر پردے کا حکم دیا ہماری جتنی قیمتی اشیاء ہوتی ہیں اتنا ہی ہےہم اس کو چھپا کر اور سنبھال کر رکھتے ہیں-لوگ پردے کے بارے میں عجیب باتیں کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا پردہ کیوں ؟لوگ مذاق بناتے ہیں گرمی ہے۔۔۔۔۔ لڑکیوں کو پردہ کرایا تو رشتے کیسے ہونگے؟
یہ سب اللہ کے بھید ہیں کیا ایسی باتیں کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ امہات المومنین سے زیادہ کوئی پاک دامن ہے؟ حضرت فاطمہ کے پردے کا یہ عالم تھا کہ ساری زندگی کسی غیر محرم کی نظر نہیں پڑی اور جب موت کا وقت قریب آیا تو حضرت علی سے فرمایا کہ” میرا جنازہ رات کو اٹھانا تھا کہ میرے جنازے پرکسی نامحرم کی نظر نہ پڑھ سکے ۔”ادھر نمرہ رات کو سونے لیٹی تو ماں کی بات یاد آئی کہ “نمرہ تمہیں اپنے ماں باپ کی عزت کا کوئی خیال نہیں۔” اس کی ماما اکثر کہتی ہیں حیا عورت کا نایاب گہنا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے حجاب ہے اور جو سمجھنا ہے قرآن پاک. ترجمہ تفسیر کے ساتھ پڑھو اسے عزت و حفاظت کا مطلب سمجھنا تھا اس نے بہت احترام کیساتھ جزدان میں لپٹے قرآن پاک کو اٹھایا۔

اس نےسن رکھا تھا کہ انسان کو جس قسم کا مسئلہ یا پریشانی ہو وہ یقین کے ساتھ کھولے تو اسے اپنے مسئلے کا حل بتاتی قرآنی آیت ہی نظر آتی ہیں وہ بڑی الجھن میں تھی اور سورہ احزاب کھولی” اور زمانہ جاہلیت کی طرح خود کو عریاں کرتی نہ پھرا کرو ۔”وہ پڑھتی چلی گئی میں بھی تو زمانہ جاہلیت کے کپڑے پہنتی ہوں اسے اپنے کپڑے یاد آگئے جو وہ بڑے بڑے مالز سے خریدتی تھی۔ اس کا ایسے کپڑے پہننا اللہ کو پسند نہیں جو کام اللہ کو پسند نہ ہو وہ ماں باپ کی عزت خراب کرتا ہےاس دن اس نے جو لباس پہنا ہوا تھا وہ اللہ کو پسند نہیں تھا اس لئے ماما نے کہا تھا کہ ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اللہ میاں مجھے معاف کر دیںمیں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح نہیں ہونا چاہتی اور اپنے دل میں ایک عہد کر کے سو گئی صبح یونیورسٹی جانے کے لیے اٹھی تو ماما سے کہنے لگی آج میرے لیے عبایا اور اس کے ساتھ حجاب لائیے گا میں اللہ تعالی کے احکامات پورے کرنے کی کوشش کروں گی اور اپنے ماں باپ کی عزت میں کوئی کمی نہیں کروں گی آپ میرےحق میں دعا کیجئے گا- ماما نے خوشی سےنمرہ کو گلے لگا کر بہت دعائیں دیں اور سجدہ شکر بجا لائیں-

Add Comment

Click here to post a comment