Home » میں زندگی کا ساز ہوں – لطیف النساء
بلاگز

میں زندگی کا ساز ہوں – لطیف النساء

میری زندگی کیا ہے؟ تو مجھے عجیب عجیب سے جملے یاد آئے جو میں نے کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں سنے تھے۔ کہ میری زندگی ہے نغمہ، میری زندگی ترانہ،  زندگی بڑی قیمتی مگر بہت مختصر ہے مختلف لوگوں کی زندگیوں کو دیکھ کر ہم اکثر ان سے ہی متاثر ہوتے رہتے ہیں.

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر بندے کی زندگی اس کی اپنی خالصتاً اپنی ہوتی ہے زندگی کا ہر نیا دن ایک خالی صفحے کی طرح اس کے سامنے ہوتا ہے۔ سارے دن کی لمحے لمحے کی سرگرمی وہ خود اپنے اعمال سے اس خالی صفحے کو بھرتا ہے اور اگلی صبح پھر ایک نیا صفحہ زندگی کا خالی اور روشن اپنی کارکردگی دکھانے تیار ہوتا ہے یوں گویا میری زندگی مسلسل گزر رہی ہوتی ہے بلکہ یوں کہوں تو بجا ہوگا میری زندگی ایک ساز ہے جو مسلسل بج رہا ہے دوسروں کو نظر آرہا ہے، سنائی دے رہا ہے مگر میں خود نہیں سن رہی۔ امی کہتی تھیں زندگی بڑی قیمتی ہے سنبھل سنبھل کر بتاؤ اس کا جواب دینا ہوگا بلکہ وہ تو اکثر یہ شعر پڑھا کرتی تھیں کہ 
زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے
بج رہا ہے اور بے آواز ہے

واقعی بالکل سچ کہتی تھیں کتنوں کی زندگیاں بجھ گئیں ساز تھم گئے ہم نے خود دیکھا۔ جب نئے نئے لوگ جان پہچان کے یا رشتہ دار کافی دنوں بعد ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کتنی بڑی ہوگئیں، کتنی بدل گئیں۔ موٹی ہوگئی، یہ ہوگیا، وہ ہوگیا وغیرہ وغیرہ تو ہم غور کرتے ہیں واقعی ہم کہاں جارہے ہیں۔ بچوں کو بڑا ہوتا دیکھنے میں تو وقت کے گزرنے کا اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی تیزی سے وقت گزر رہا ہے؟ کیسے دن رات گزرتے ہیں، دھوپ چھاؤں میں زندگی بہتی چلی جاتی ہے 
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے 
زندگی یونہی تمام ہوتی ہے 

لیکن اسی میری زندگی کے ساز کو کون سن رہے ہیں کون سمجھ رہے ہیں؟ مجھے یہ دیکھنا ہے کیا میرا ساز مؤثر ہے یا بھلا ہے سریلا ہے یا بے ہنگم اور بھونڈا، نا پسندیدہ؟ صاحب یہ تو سننے والا ہی جواب دے سکتا ہے۔ ساز سے مراد ہمارے کام ہماری خوبیاں صلاحیتیں ہیں۔ جو ہمیں لوگوں میں ممتاز کرتی ہیں اور ہمیں خوشی اور عزت ملتی ہے ایک قلبی اور روحانی سکون ملتا ہے۔ اس کا تعلق روپے سے یا امارت سے نہیں ہوتا بلکہ روئیے اور دل کی خوشی سے ہوتا ہے کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزت شہرت دولت سب کچھ ہے مگر میری زندگی کا ساز انتہائی بے ہنگم اور بھونڈا غیر مؤثر ہے کیونکہ اس میں روحانی، اخلاقی، ایمانی پہلو نہیں ہے۔ خود غرضی ہے، تکبر ہے، دنیا داری یا دکھاوا ہے تو وقتی ڈھول دھمال ہے۔ دنیاوی شور شرابا ہے باقی خانہ خرابی کے سوا کچھ نہیں آخرت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ساز تو یوں بھی بج رہا ہے خوب بج رہا ہے مگر بے آواز ہے یعنی لوگوں کے دلوں پر انکی زندگیوں پر اس کے اچھے اثرات نہیں ہورہے۔ اس میں ہمدردی نہیں، اپنائیت نہیں، پیار محبت نہیں، وفاداری نہیں تو بھلا کس بات کی گونج؟ ایک ضعیف کمزور ماسی صبح ہی صبح آتی ہے بسم اللہ بسم اللہ کہہ کر سلام کرکے اپنے کام میں لگ جاتی ہے، انصاف سے محنت سے کام کرتی ہے۔

ذرا بھی سستی نہیں دکھاتی، کام سے کام رکھتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہمدردی بھی جتاتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر زیادہ کام کرکے جتاتی بھی نہیں بلکہ خوش ہوتی ہے۔ صاف ستھری وقت کی پابندی اور احساسِ ذمہ داری سے وقت پر پورا کام کرکے چلی جاتی ہے۔ اسکو دیکھ کر کیا تاثر ملتا ہے۔ نہ فضول باتیں کرتی ہے، نہ دوسروں کا دکھڑا روتی ہے نا چاپلوسی کرتی ہے، کام سے کام رکھتی ہے اور کئی گھروں میں کام کرتی ہے اس کی زندگی کا ساز دیکھ کر زندگی مسکراتی ہے۔ محنت کی عظمت محبت انسانیت خود بخودعود آتی ہے۔ اسکی زندگی کا خاموش ساز دوسرے کی زندگی کو بجنے یا بجانے پر ابھارتا ہے۔ دوسری طرف ایک بیگم صاحبہ ہیں جو سارا دن بہترین کپڑے کھانا پینا موبائل پر باتیں کرنا اور کام کروانا۔ نقص نکالنا یا چڑچڑا پن دکھانا،  ناشکری اور ناقدری دکھانا ایک تضاد عمل ہے اسکی زندگی کاساز مختلف ہے ناقابلِ برداشت ناقابلِ سکون بج وہ بھی رہا ہے مگر وہ بھی ساز ہے دوسری طرح کا۔ وہ بھی بج رہا ہے غیر مؤثر، بے آواز مگر بجتا وہ بھی چلا جا رہا ہے۔ تو سوچئے نقصان میں کس کاساز ہے؟ اس زندگی کے ساز کو یعنی میری زندگی کے اس راگ کو مجھے ایسا مسحور کن بنانا ہے کہ اس کی آواز ہمیشہ لوگوں کیلئے خوش آئند اور قابلِ تقلید ہو۔

یہ ساز اخلاقی، کرداری، حکمتی ہوسکتے ہیں، فہیم اور شعور ِ حیات لئے ہوسکتے ہیں۔ احساس بندگی لئے ہوسکتے ہیں۔ تعلیمی فنی صلاحیتوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں جس میں مقصدیت اور مقصدِ حیا ت کو شامل کرکے فلاح انسانی کیلئے، انسانی بہبود کیلئے ایسے استعمال کیا جائے کہ رہتی دنیا تک صدقہ جاریہ بنے رہیں۔ جیسے عربی پڑھانے والی، قرآن سکھانے والی مائیں، اساتذہ، مدبر، مبلغ، امام، پیر، فقیر ولی اللہ ان کی زندگیاں کیسی ہوتی ہیں؟ طبیب بعض علمِ دین کی زندگی کتنی ہی دلکش مصروف اور مستعد ہونے کے ساتھ ساتھ روشنی بکھرتی ہیں وہ کیسی روشنی؟ ایمان کی روشنی، علوم کی روشنی، مثبت ٹیکنالوجی کی روشنی،  یا مقصد ہنر اور صلاحیتوں کی پیشہ وارانہ روشنی جو عوام الناس کیلئے فلاحی بھلائی اور سدھا ر کیلئے، آسانی کیلئے ہوتی ہے نہ کہ لوٹ مار غارت گری اور تباہی برباد کے بعد خوب جشن، ناچ گانا، بے حیائی اور فحاشی کا لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کیلئے ہو تو یہ ساز نہیں بلکہ یہ تو میری زندگی کیلئے سزا ہے، تباہی ہے بدکرداری اور معاشرتی تباہی کا آتش گیر مادہ ہے۔ جو صر ف تباہی پھیلا سکتا ہے امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا!!!
سانسوں کے سلسلے کو نہ دو زندگی کا نام 
جینے کے باوجود بھی کچھ لوگ مرگئے 

اگر میں زندہ ہوں اور میں زندگی کا ساز بھی ہوں تو پھر مجھے اپنی ہر سانس اور ہر لمحے کا حق ادا کرنا ہو گا کوئی مجھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جینے کے باوجود میں بے حس ہوں، مردہ ہوں، کام کی نہیں ہوں، تو یہ میرے ساتھ بڑا ظلم ہو گا۔ جب تک سانسوں کا سلسلہ ہے میری زندگی کا ساز بج رہا ہے تو میری زندگی کا مقصد بھر پور انداز میں آگے بڑھتا رہنا چاہئے۔ میرے ہر عمل اور ہر قول سے اس کی ادائیگی کا ہونا ہی زندگی کے ساز کا مؤثر طور پر بچنا ہے۔ گویا احکام الٰہی بجا لانا، کسی کی ضرورتوں کو پورا کرنا یعنی جذباتی، مالی روحانی تعاون کرنا یہ بھی تحفہ ہے اور اس کے جذبات کا خیال رکھنا، دل خوش کرنا بے حد ضروری ہے۔ زمین میں جو کچھ ہے سارا کچھ خرچ کردیں لیکن جذبہ نیک ہو اچھا ہو تو صحیح ورنہ بے کار یعنی نیک اور سچے مخلص جذبے زندگی کا حسین ساز ہیں اور اسی سے زندگی حسین ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。