Home » حیا – قدسیہ ملک
بلاگز

حیا – قدسیہ ملک

محسن انسانیت ﷺنے فرمایا:”جب اﷲتعالیٰ کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہے تواس سے شرم و حیا چھین لیتاہے ۔حیا کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ یہ معاشرتی  معاشرتی زندگی کے ہر ہر پہلو کا احاطہ کرسکتا ہے حیا صرف یہ نہیں ہوتی کہ حجاب لے لیا جائے یا ساتر لباس پہن لیا جائے بلکہ حیا کی وسعت کا اندازہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار احادیث اور سنت سے  بخوبی عیاں ہے۔

تمام انبیاء باحیا تھے اور حیا کو پسند کرنے والے تھے۔حضرت موسی علیہ السلام ایک عظیم پیمبر تھے جو اللہ سے براہ راست ہم کلام ہوئے ایک مرتبہ سفر میں تھے گرمی کا موسم تھا پاؤں ننگے تھے سفر کی تھکاوٹ اور پیدل چل چل کر پاؤں میں چھالے پڑچکے تھے۔ ذرا آرام کرنے کے لیے درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔  کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر ہوا ہے وہاں سے کچھ نوجوان  اپنی بکریوں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے کچھ فاصلے پر باحیا دو لڑکیاں کھڑی ہیں۔ جب آپ نے ان کو دیکھا تو حیرانگی کی انتہاءنہ ہیں کہ یہ دونوں لڑکیاں جنگل میں کیوں کھڑی ہو کرکس کا انتظار کر ر کر رہی ہیں ہیں حضرت موسی نے جب  وجہ پوچھی  تو پتہ چلا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں ہے باپ بوڑھا ہے وہ اس قابل نہیں کہ چل پھر سکے۔ دونوں اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے آئی ہیں کہ جب تمام لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تو آخر میں یہ اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گے۔ حضرت موسی ان کی بات سننے کے بعد آگے بڑھے اور خود  پانی کنویں  سے نکالا اور ان کی بکریوں کو پلا دیا۔

لڑکیاں جب خلاف معمول جلدی گھر پہنچی تو باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی دونوں نے باپ کو پوری حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ باپ خود بھی پیغمبر تھے ان فرمایا کہ جاؤ اس نوجوان کو بلا کر لاؤ تاکہ ہم اس کو پورا پورا بدلہ  دیں۔ جب ایک لڑکی حضرت موسی کو بلانے آئی تو وہ کس طرح آئی اس کا انداز کیا تھا قرآن نے اس کے چلنے کا انداز جو کہ شرم و حیا سے لبریز تھا اس طرح بیان کیا ہے ترجمہ” پھر ان دونوں میں سے ایک’ شرم و حیا سے چلتی ہوئی۔ وہ کہنے لگی کہ میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بدلہ دے جو آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے (القصص35) عملی اعتبار سے حیا کے تین شعبے ہیں1۔ اللہ سے حیا2۔ لوگوں سے حیا3۔ اپنے نفس سےحیا 1۔اللہ سے حیا :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی سے اتنی حیا کرو جتنا اس کا حق ہے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس سے حیا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن اس کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر اور جو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرو پھر پیٹ اور اس میں جو کچھ اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے اس کی حفاظت کرو اور پھر موت اور ہڈیوں کے گل سڑجانے کو یاد کیا کرو اور جو آخرت کی کامیابی چاہے گا وہ دنیا کی زینت کو ترک کردے گا اور جس نے ایسا کیا اس نے اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کردیا(جامع ترمذی)

اس حدیث میں اللہ سے حیا کا مطلب جو بتایا گیا ہے سب سے پہلے اس میں سر کا ذکر کیا گیا ہے جسے خدا نے  انسانی تقدس عطا فرمایا ہے۔ سب سے پہلے سر کو اللہ تعالی کے سوا کسی کے لئے نہ جھکایا جائے یہ اللہ سے حیا ہو گی اور نہ سر کو تکبروغرور میں بلند کیا جائے۔ سر کے ساتھ کئی چیزوں سے مراد زبان آنکھ کان ہیں۔ اور ان کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ ان اعضاء کو گناہوں سے بچایا جائے جسے زبان سے جھوٹ غیبت چغلی   عیب جوئی ، زبان درازی نہ کی جائے۔ اسی طرح آنکھ سے  گناہ سے بچا جائے آنکھ سے گناہ کی چیزیں نہ دیکھی جائیں۔ کان سےکسی کی غیبت اور جھوٹ نہ سنا جائے یا گانےو فحش باتیں نہ سنی جائیں۔ بالکل اسی طرح پیٹ کے ساتھ کی چیزوں سے جسم کے وہ حصے اور اعضاءا مراد ہیں جو پیٹ سے ملے ہوئے ہیں جیسے ستر ہاتھ پاؤں دل وغیرہ۔ ان سے یہ مطلب ہے کہ جسم کے اعضاء اور حصوں کو بھی گناہ سے حتی الامکان محفوظ رکھا جائے۔  جیسے ستر کی حفاظت کی جائے۔ پیروں کو گناہ آلود ہونے سے بچایا جائے دل کو برے عقائد برے نظریات گندے خیالات اور اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی یاد سے پاک رکھا جائے۔ کیوں کہ یہ فانی جسم خواہ کتنا ہی حسین وجمیل،خوبصورت،کم عمر،لچکدار،محنتی، باعظمت باعزت کیوں نہ ہو آخر ایک دن قبر کی آغوش میں سلا دیا جائے گا جہاں گوشت اور ہڈیاں تک بوسیدہ ہو جائیں گی۔اسی لئے اللہ تعالی سے حیا کرنے کا حکم دیا گیاہے۔

2۔لوگوں سے حیا: لوگوں  سے حیا  یہ ہے کہ حقوق العباد کو ہر ممکن طریقے سے ادا کئے جائیں۔ والدین کے حقوق، اساتذہ کے حقوق،میاں بیوی کے حقوق، اولاد کے حقوق، دوست، احباب، ساتھ چلنے اٹھنے بیٹھنے والے ،ہمسایوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق بزرگوں کے حقوق شامل ہیں جس سے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اسلام کے احکامات پر عمل کرنا  بالکل فطرت کے عین مطابق ہے۔ ان تمام لوگوں کے سامنے جن باتوں کے اظہار کو معیوب اور برا سمجھا جاتا ہے ان کے اظہار سے بچنا دراصل حیا ہے۔ان تمام معاشرتی افراد کے حقوق ادا کرنا ہیں دراصل حیا ہے۔ ان  لوگوں کے حقوق میں دست درازی کرنا یا ان کے حقوق ادا نہ کرنا دراصل بےحیائی ہے۔ 3۔اپنے نفس سے حیا: اپنے نفس سےحیا یہ ہے کہ نفس کو ہر برے، قابل گناہ ،قابل مذمت اور قابل شرم کاموں سے بچایا جائے۔ہر معصیت کےکاموں پر روک تھام کے لئےنفس لوامہ کی بات سنی جائے۔ اپنے نفس کو نفس امارہ بچنے سے روکا جائےاور نفس مطمئنہ جیسے نفس کی جانب راغب کیا جائے تاکہ ابدی قیام کی جنتوں میں  ہمیشگی کی زندگی ممکن ہو سکے۔

جس طرح پیٹ ،دماغ ،بدن ،زبان اور جسم میں موجود تمام نعمتوں  کے استعمال میں اللہ سے  حیا کرنی چاہیے ۔بالکل جسم سے اٹھنے والے خیالات کے بارے میں بھی اللہ سے حیاکرنی چائیے۔حضرت ابو امامہ ؓنے روایت کیاہے کہ محسن انسانیت ﷺنے فرمایا:    ’’جس مرد مومن کی کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کر لے تو ﷲ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی لذت و حلاوت اس مرد مومن کو محسوس ہو گی۔‘‘حضرت ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں کہ میں اور حضرت میمونہ  ؓمحسن انسانیت ﷺکے پاس بیٹھی تھیں کہ ایک نابینا صحابی ابن ام مکتوم ؓحاضر خدمت اقدس ہوئے تو ہمیں حکم ہوا کہ ’’تم (دونوں)ان سے پردہ کرو‘‘۔ہم نے عرض کیا: یارسول اﷲﷺ!کیا وہ نابینا نہیں؟پس محسن انسانیت ﷺنے فرمایا:’’کیا تم (دونوں)بھی نابینا ہو؟کیا تم (دونوں)انہیں نہیں دیکھتیں؟‘‘۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:پہلی بار دیکھنا غلطی ہے، دوسری بار دیکھنا جان کر گناہ کرنا ہے اور تیسری بار دیکھنا ہلاکت ہے، انسان کا عورت کے جسمانی محاسن دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے جس مسلمان نے اسکو اللہ کے خوف سے اور اللہ کے پاس موجود انعامات کے حاصل کرنے کی امید میں چھوڑ دیا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائیں گے، جو اس کو اپنی عبادت اور نظر کی پاکیزگی کا مزہ نصیب کرے گی۔جہاں ہر طرف بے پردگی، بے حجابی، عریانی اور فحاشی کا بازار گرم ہو، ایسے میں اپنی نگاہوں کو بچانا مشکل ہوجاتاہے۔  مگر جن اللہ کے نیک بندوں کو ایمان کی حلاوت حاصل کرناہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت ہوتی ہے اور جن کو باطن کی صفائی و طہارت مدنظر ہوتی ہے وہ اس کڑوے گھونٹ کو ہمت کرکے پی جاتے ہیں اور جب ان کو عادت ہوجاتی ہے تو وہ لوگ اس کی حلاوت محسوس کرتے ہیں اور چین و سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر بے انتہا انعامات کی بارش فرماتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ یہ نگاہ اور خیالات کی حیاہے۔ روز اول سے شیطان کا یہی مقصد ہے کہ وہ انسان کی حیا پر وار کرے اس لیے دشمنان اسلام بھی اسلام ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے مسلمانوں کی حیا ہی پر وار کرتے ہیں۔ دشمنان اسلام تحقیق کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان کی حیا کہاں کہاں متاثر ہوسکتی ہے اسی لیے اسمارٹ فون،انڈووژول ڈوائسز کا تصور آ یا ۔اسمارٹ فون میں  انسان اکیلے میں اگر اللہ کا خوف نہ ہو تو باآسانی گناہ کی طرح راغب ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھناہےکہ ہمارا رب اور ہمارا خالق و مالک تنہائیوں میں بھی ہمارے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔اج کے دور میں  ایک بندہ مومن کے لئے پہلے کی نسبت حیا بچانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔خوف للہیت کی ضرورت پہلے کی نسبت اب بہت بڑھ گئی ہے۔کیونکہ مسلمان کو بھٹکانے کے لئے نت نئے آلات جنم لے رہے ہیں اس کے علاوہ ڈراموں فلموں مارننگ شوز، مختلف ٹی وی پروگراموں کے ذریعے معاشرے میں بےحیائی پھیلائی جا رہی ہے تاکہ مسلمانوں کی حیا ختم ہو جائے اور جب حیا چلی جائے گی تو ایمان خودبخود رخصت ہوجائے گا ۔

 جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز وسامان ہے او ر سازو سامان، موسیقی کے آلات ہیں۔اس کے علاوہ ہر وہ چیزجو انسان کو خیر او ربھلائی سے غافل کر دے اور اللہ کی عبادت سے دور کردے لہو الحدیث ہے۔ لہو الحدیث میں بازاری قصے کہانیاں ، افسانے ، ڈرامے، ناول اورسنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پر چار کرنے والے اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات، ریڈیو، ٹی وی،وی سی آر ، ویڈیو فلمیں ،ڈش انٹینا وغیرہ  اسی میں شمار ہوتے ہیں۔آج میڈیاپر دن رات یہی راگ الاپے جاتے ہیں  کہ یہی زندگی ہے۔کھالے پی لے جی لے،جیسے چاہو جیو،زندگی کا مزہ لووغیرہ۔ایسی باتوں کی تکرار اور قرآن سے دوری کے سبب آج پاکستانی قوم ناچاہتے ہوئے بھی اپنے رب کے پیغام کو بھولتی جارہی ہے۔اسلام کے نام پر بننے والی ریاست کئی قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی مدینہ ثانی  ریاست کے باشندے اپنے اصل پیغام کو کیسے بھولتے جارہے ہیں اسکا ایک سبب یہی  میڈیا اور بےلگام فحش انٹر نیٹ مواد ہے۔جو ہر خاص و عام ،چھوٹے بڑے،بوڑھے جوان،عورت و مرد کو باآسانی مہیا کیاجارہاہے۔اسکے لئے اپکو زیادہ محنت بھی نہیں کرنی پڑتی بس ایک کلک کیجئے اور دنیا آپکی انگلیوں پہ ہے۔ ۔اور جب حیا ختم ہوجائے تو ایمان آہستہ آہستہ خود بخود رخصت ہوجاتا ہے

حیاء کے فوائد: روایات میں حیاء کے بتا سے فوائد  ذکر  ہوئے ہیں خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی، فردی ہوں یا اجتماعی، نفسانی ہوں یا عملی، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں
1۔خدا کی محبت:
2۔عفّت اور پاکدامنی:
3 ۔گناہوں سے پاک ہونا:
جو صفات حیاء سے پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:نرمی، مہربانی، ظاہر اورمخفی دونوں صورتوں میں خدا کو نظر میں رکھنا، سلامتی، برائی سے دوری، خندہ روئی، جود وبخشش، لوگوں کے درمیان کامیابی اور نیک نامی، یہ ایسے فوائد ہیں جنیں  عقلمند انسان حیا سے حاصل کرتا ہے.حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے شاگرد ”مفضل ” سے فرماتے ہیں: اے مفضل! اگرحیا ء نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی ضرورتوں کو پورا نہ کرتا، نیکیوں سے دور ہو تا اور برائیوں کا ارتکاب کرتا. بہت سے واجب اور لازم امور حیا کی وجہ سے انجام دئے جاتے ہیں، بہت سے لوگ اگرحیا نہ کرتے اور شرمسار نہ ہوتے تو والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے، کوئی صلہ رحمی نہ کرتا، کوئی امانت صحیح وسالم واپس نہیں کرتااور فحشاو منکر سے باز نہیں آتا۔

حیا سے پیداہونے والےصفات:نرمی، مہربانی، ظاہر اورمخفی دونوں صورتوں میں خدا کو نظر میں رکھنا، سلامتی، برائی سے دوری، خندہ روئی، جود وبخشش، لوگوں کے درمیان کامیابی اور نیک نامی، یہ ایسے فوائد ہیں جنہیں  عقلمند انسان حیا سے حاصل کرتا ہے۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے شاگرد ”مفضل ” سے فرماتے ہیں: اگرحیا ء نہ ہوتی تو انسان کبھی مہمان قبو ل نہیں کرتا، اپنے وعدہ کو وفا نہیں کرتا، لوگوں کی ضرورتوں کو پورا نہ کرتا، نیکیوں سے دور ہو تا اور برائیوں کا ارتکاب کرتا. بہت سے واجب اور لازم امور حیا کی وجہ سے انجام دئے جاتے ہیں، بہت سے لوگ اگرحیا نہ کرتے اور شرمسار نہ ہوتے تو والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے، کوئی صلہ رحمی نہ کرتا، کوئی امانت صحیح وسالم واپس نہیں کرتااور فحشاو منکر سے باز نہیں آتا۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ حیاء اسلام کی شریعت ہے ،جسے حیاء کی چادر ڈھانپ لے لوگوں پر اس کے عیب مخفی ہو جاتے ہیں ، حیاء بُرے کاموں سے روک دیتی ہے ،حیاء پاکدامنی کا سبب ہے ،حیاء آنکھوں کو بند کرنا ہے ،حیاء ایمان کا جزو ہے اور ایمان (کا مقام) بہشت میں ہے ،بے حیائی ظلم و جفا کا حصہ اور ظلم و جفا (کامقام ) جہنم ہے ۔

جس کے پاس حیاء نہیں اس کا کو ئی دین نہیں ،جس کے پاس حیاء نہیں اس کا کو ئی ایمان نہیں ،انسان میں حیاء کی کثرت ،اس کے ایمان کی دلیل ہے ،ہر دین کا ایک اخلاق ہے اور دین اسلام کا اخلاق حیاء ہے ،حیاء نور ہے جس کی اصلیت صدر ایمان ہے جس کی تفسیر ہر موقع پر نرمی پر ہے توحید اور معرفت جسے جلا بخشتی ہے ،حیاء ہر اچھی بات کا سبب ہے ،حیاء صرف بہتری لاتی ہے ،دنیا کے خوبصورت لباسوں سے حیاء و شرم (ایک بہترین لباس ) ہے ،حیاء مکمل کرم اور بہترین عادت ہے ، حیاء تمام اچھائیوں کی کنجی ہے۔حیا کے حوالے سے کچھ ابلاغ عامہ کے رہنماوؤں کی رائے بھی ہم نے معلوم کی جو آپکی خدمت میں پیش ہے۔عربی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی اور سعودی عرب میں رہائش پذیر مصنفہ ڈاکٹر میمونہ حمزہ سعودی عرب سے کہتی ہیں کہ حیا ایک اندرونی ا حساس ہے جو کچھ عیاں کرنے پر شرم محسوس کرتا ہے خواہ اسکے جسمانی محاسن ہو( کہ ان کے اظہار کی حدود قرآن وسنت میں واضح کر دی گئی ہیں) یا انسان سے صادر ہونے والے اعمال جو دوسروں کے سامنے آنے پر وہ حیا محسوس کرتا ہے۔ پسندیدہ صفت ہے اور کسی کو حیا سے روکنا نہیں چاہیے ایک انصاری کسیب کوحیاسے روک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور کہا حیا تو خیر ہی لاتی ہے۔ جسم کے معاملے میں حیا برتی جائے تو وہ دوسروں کو فتنے سے بچاتی ہے اور معاشرے کو انتشار سے دور رکھتی ہے۔

 بچوں کی کہانیوں کی مصنفہ فرحت  نعیم کراچی سے کہتی ہیں حیا دل کا وہ پردہ ہے جو دراصل حجاب کے لئے سب سے پہلی ضرورت ہے۔ خواہشات نفسانی کو پورا کرنے میں رکاوٹ ہے۔ ہے جو ہر گناہ کو کرنے سے روکتی ہے۔ ہر برائی کی  آڑہے۔ انسانیت کی فطرت ہے۔ حیوانیت کی نہیں جس میں جتنی حیا ہے وہ اتنا انسان ہے اور جتنی کم حیا ہے وہ اتنا حیوان ہے۔ اگر ایک طرف حیا انسانیت کا جوہر ہے تو دوسری طرف ایمان کی ایک شاخ کے اگر ہری بھری رہے تو ایمان سلامت رہے گا۔ مگر اگر یہ شاخ کٹ گئی تو ایمان بھی رخصت ہو جائے گا۔  اور اس حیا کا مستحق سب سے پہلے اللہ ہے۔ اسی سے حیا کرتے ہوئے ہر برائی سے دور رہنا چاہیے۔ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والی شاعرہ عنبرین راشد کہتی ہیں حیاکے معنی شرم کےہیں اسلام کی مخصوص اصطلاح میں ہر وہ کام جسے کرنے سے دل میں جھجک، شرمندگی یا بے قراری پیدا ہواس کا نام  حیاہے۔ ایمان کی ایک شاخ ہے حیا مرد کی زینت اور عورت کا زیور ہے۔ جس چیز میں بھی ہو ا سے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اور جس میں حیا نہیں ہوتی اسے عیب دار کر دیتی ہے۔ قرآن میں جہاں بھی مومنین کا ذکر آیا ہے وہاں یہ ضرور آیا ہے حیا دار مرد اور حیا دار عورتیں۔ دنیا کی دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی یہ خاصیت ہے کہ اس میں حیا کو اسلام کا جز قرار دیا ہے۔

صدرحریم ادب پاکستان عالیہ شمیم کہتی ہیں حیا نصف ایمان ہے۔  حیا ہی لاتی ہے۔ حیا صرف آنکھ کا حجاب نہیں بلکہ دل میں بسنے والے خیال جذبات کے اظہار ، زبان اور چال چلن کا  نام بھی حیا ہے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے جب تجھ میں حیا نہ ہو تو جو تیرا دل چاہے کر۔ حیا ایمان کا تقاضہ ہے اعمال میں نکھار پیدا کرتی ہے شرم و حیا عورت کا زیور ہے جس میں نسوانی وقار کا تحفظ مضمر ہے۔
مصنفہ نصرت یوسف  کراچی سے کہتی ہیں ہیں انسان کے اس فطری رویے کا نام ہے آدم اور حوا کے ستر کھلنے سے نافرمانی رب کے احساس کے بعد پیدا ہوا۔ ستر پوشی سے تنسیخ  گناہ کی طلب کے درمیان کا ہر رویہ حیا ہے چاہے وہ مستور ہو نہ ہو یاخطاپر شرم ساری۔ وہ خالق کےلئےہویاخالق کے فرمان پراس کی مخلوق کے لئے سراسر حیا ہے۔ڈاکٹر اور ادبی شاعرہ و مصنفہ عزیزہ انجم کہتی ہیں حیا عورت اور مرد دونوں کو ظاہری اور باطنی حسن سے نوازتی ہے۔ اللہ نے انسانی فطرت میں کچھ معاملات اور رویوں میں   حیا جھجک اجتناب رکھا ہے۔

عورت میں حیااس کی نسوانیت کو مکمل کرتی ہے۔ اس کی شخصیت میں وقار اور ملکوتی حسن پیدا کرتی ہے اللہ تعالی کے  دیئے ہوئے اصول اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق حیا کی حدود کی پاسداری مومن اور عورتوں کے لئے باعث افتخار بھی ہے اور دنیا کی بھلائی اور آخرت کی نجات کا سبب بھی ہے۔مشہور کالم نگار،شعبہ ابلاغ عامہ سے فارغ التحصیل مصنف  شاہنواز فاروقی کہتے ہیں حیا حیا کو ہمارے معاشرے میں صرف خواتین سے متعلق کرلیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ حیا بہت وسیع تناظر رکھتی ہے۔ حیا ایمان  کی کیفیات میں سے ایک کیفیت ہے۔ احکام شریعت کی پابندی سے متعلق ہےاللہ نے  انسان کی فطرت میں جو خیر اور شر  کا مادہ ودیعت کیا ہے انسان کو  فطری طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے جائز ہے اورکیا چیز ناجائزہے  یہی حیا ہے۔  حیا کے معنی اپنی فطرت کے اس تعین پر لبیک کہنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے جس میں حیا نہیں ہے اس میں ایمان نہیں ہے۔حیا کا تصور صرف عورتوں پر منطبق نہیں ہوتا بلکہ مردوں پر بھی اتنا ہی منطبق ہوتا ہے ۔

 حیا کے بارے میں ہمیں حدود و قیود کا تعین ہونا چاہیے لیکن  کچھ رشتے ایسے ہیں جن میں حیا کی حدود بدل جاتی ہیں مثلا میاں اور بیوی کا رشتہ، اور اسی حیا کی پابندی کرنا حیا کے تقاضے۔ ہمارے احیاء کا جو تصور ظاہری طور پر عورت کا حجاب لینا ہے مرد کا اسلامی لباس زیب تن کرنا تصور کہلاتا ہے جبکہ اپنی وسعت کے اعتبار سے ظاہری اور باطنی دونوں طور پر نافذ العمل ہوتی ہے۔ حیا اور دقیانوسیت میں فرق ہے۔ حیا ہم تصور رات خیالات پر اس طرح اثرانداز نہیں ہو رہی جس طرح ہونا چاہیے۔ ہمارے لئے ظاہری طور پر تو موجود ہے ہمارے معاشرے میں لیکن باطنی طور پر ہم اس تصور کو نہیں سمجھ پاتے۔ دین کو بسر کرناہی اہم ہے۔ مذہبیت اور قدامت پسندی دو الگ چیزیں ہیں۔علوم و فنون کے دائرے میں رکاوٹیں ڈالنا قطعی مذہبیت نہیں بلکہ قدامت پسندی ہے۔ کیونکہ اگر آپ علم حاصل نہیں کریں گے تو آپ انسانوں کو کیسے لے کر چلے گے ۔ ہمارے معاشرے میں حیا کا تصور بہت محدود ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر مغربیت غالب آتی جا رہی ہے۔ ہماری زندگی کا کوئی گوشہ گوشہ مغربی تصورات سے پاک نہیں ہے ہمارے کلچر ہمارا معاشرہ ہماری معیشت کوئی چیز مغربیت سے پاک نہیں ہے ۔

ہماری تہذیب لفظ پر کھڑی ہے جبکہ مغربی تہذیب تصویر پر کھڑی ہوئی تہذیب ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب پہچاننی ہے۔  دین کو اسکے اصل تناظر میں دیکھناہے۔اپنے رشتوں کے وقار کو پہچاننا ہے۔اپنی تہذیب و ثقافت کی  تشیہر کرنی ہے۔جبھی ہم اپنے تصور حیا کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔گزشتہ اقوام کی تباہی ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ گناہ کے کام مل کر اجتماعی طورپرکیاکرتے تھے۔اﷲتعالی کا ہر عذاب اگرچہ بڑا عذاب ہے لیکن سب سے سخت ترین عذاب قوم لوط پر آیا جو اجتماعی عذاب بھی تھا اور انفرادی عذاب بھی۔اس قوم کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ شرم و حیا سے عاری ہو چکی تھی اور بے حیائی کے کام بھری محفلوں میں سرعام کیا کرتے تھے۔قوم لوط کے لوگوں کی گفتگو ئیں،ان کی حرکات و سکنات، اشارات و کنایات اور ان کے محلے اور بازارسب کے سب عریانی و فحاشی اور برائی و بے حیائی کا پرچار کرتے تھے۔آج کی سیکولر تہذیب نے بھی انسانیت کوحیاکے لبادے سے ناآشنا کر دیا ہے اور انسان کوثقافت کی آڑ میں اپنے خالق و مالک سے دور کر کے توتباہی و بربادی کے دہانے پر لاکھڑاکیاہے۔

بقول اقبال
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صُحبتِ زاغ
حیا نہیں زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

Add Comment

Click here to post a comment