Home » قدرت کا نکھار بندوں کا بگاڑ – لطیف النساء
بلاگز

قدرت کا نکھار بندوں کا بگاڑ – لطیف النساء

صبح سے اتنا اچھا موسم لگ رہا تھا۔ خامو ش خاموش، شام شام سا، اچانک آدھا پونا گھنٹہ بارش ہوئی بڑا اچھا لگا! صرف ناظم آباد ہی نہیں کافی علاقوں میں ہوئی۔ کچھ لوگوں کو تو اسکی خبر تک نہ ہوئی کہ باہر بارش ہو رہی ہے! مگر مجھے بڑا اچھا لگا۔ سبحان اللہ۔ کیونکہ بجلی بھی نہیں گئی۔

میرے گھر مہمان آنے والے تھے انہوں نے فون کردیا کہ بارش کی وجہ سے وہ نہ آسکیں گے پھر مجھے کچھ تحائف لینے تھے اس لئے تین بجے مجھے حیدری جانے کا اتفاق ہوا۔ موسم کافی خوشگوار ہوگیا نظارے حسین ہوگئے مجھے جو چیز سب سے زیادہ بھاتی ہے ہمیشہ پسند آتی ہے کہ واقعی قدرتی نکھار کی کیا بات ہے! ہم دس منٹ میں نہا دھو کر کتنے فریش ہو جاتے ہیں اور ہلکی تیز بارش سے ہمارا پورا ماحول کتنا خوبصورت حسین اور چمکدار ہو جاتا ہے پہلی نظر میں فضا صاف لگتی ہے پیڑ پودے دھل کراتنے نکھر جاتے ہیں کہ کیا بتاؤں؟ اتنے بڑے بڑے علاقوں کے کل درخت پتا پتا صاف ستھر ا نکھرا ہوا، تازہ سا چمک چمک کر قدرت کی تحسین کر رہا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ اگر آپ غور سے دیکھیں تو مٹی سے اٹی ہوئی گردوغبار سے اٹی ہوئی بلڈنگیں، عمارت، پل، پولز یہاں تک کہ درو دیوار چھجے اور  اوور ہیڈ برجز کی اندرونی بیرونی دیواریں، سائین بورڈ، ایڈز سارے کے سارے ایسا لگتا ہے کہ ابھی لگائے ہیں۔ انتہائی صاف ستھری بلڈنگیں جو گندی غلیظ ہو رہی ہوتی ہیں بہت ہی صاف ستھری نظر آتی ہیں۔ اکثراوقات ان میں پھنسی تھیلیاں، کچرا، کپڑے، چیتھڑے سب نکل جاتے ہیں اور اتنی سی دیر میں ایسی صفائی ہوجاتی ہے کہ کیا بتا ؤں.

اور تو اور چھپڑے والے، چھوٹی دکانیں تک صاف ہو جاتی ہیں مگر جوں جوں میری نظریں نیچے جاتی ہیں دل بوجھل ہوتا جاتا ہے بندوں کے بگاڑ پر رونا آتا ہے۔ بارش جیسی رحمت کو بندے خود ہی زحمت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ناظم آباد میں تو سڑکیں اتنی ٹوٹی پھوٹی کھڈے پھڈے کہ کسی بھی طرح کا سفر خطرناک ہوجاتا ہے۔ سڑکوں پر آدھا پونا گھنٹہ بارش کا اتنا برا حشر ہوتا ہے کہ کیا بتا ؤں؟ جیسے جیسے آگے بڑھے سات نمبر ناظم آباد سے سڑکوں پر اتنا پانی جو بارش کا جمع شدہ اور اس میں گٹروں کا پانی بھی شامل، ٹریفک اتنا متاثر ہوتی ہے کہ کیا بتاؤں۔ اردگرد رکشہ، چنچی میں سفر کرنے والوں کی کم بختی کہ گاڑیاں گندہ غلیظ پانی اڑاتی گزرتی ہیں اور سب کو ناپاک کر جاتی ہیں۔ پیدل چلنے والے الگ پریشان انکے لئے سڑک کے کنارے پانی بھرے ٹوٹے پھوٹے راستے  وبال جان بن جاتے ہیں نہ خود بچ سکتے ہیں نہ دوسروں کو بچا سکتے ہیں۔ نہ جانے کیوں بندوں کو ان برے حالات کی مستقل درستگی کا خیال ہی نہیں آتا! برسوں سے ہم ایسا ہی دیکھتے چلے آرہے ہیں جبکہ یہ سراسر بندوں کی اپنی کوتا ہیاں اور لا پرواہیاں ہیں ورنہ اس حسین منظر سے ہر بندہ لطف اندوز ہونا چاہتا ہے مگر نیچے ہی دیکھنا پڑتا ہے۔

گاڑی میں بیٹھ کر بھی سفر کرتے بسا اوقات ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہوجائے۔ دکانوں کے کناروں تک پانی گندگی اور راستوں کی تنگی ہمیں مزید زحمت دیتی ہے۔ قدرت تو سراسر نکھارتی ہے جبکہ بندوں کا اپنا بگاڑ صاف نظر آتا ہے۔ کہیں کچرا کونڈیاں تو کہیں ابلتے گٹر، کہیں مختلف گہرائیوں کے گڑھے تیار ہوتے ہیں جن پر رواں یہ خستہ اور ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں رکشہ چنچیاں اپنی حالتیں مزید خراب کرتی ہیں اور سفر کرنے والے الگ تکلیف کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کیسا خود ساختہ بگاڑ ہے؟ کیا اس کی روک تھام کبھی نہ ہوگی؟ کیا ہمیں ان حالات پر قابو نہیں پانا چاہئے؟ کتنی گندی مکھیاں، مچھر، کیڑے مکوڑے اور طرح طرح کے جراثیم کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھے صحت کیلئے مسلسل خطرہ ہوتے ہیں۔ اس کا دھیان کون کرے گا؟ اتنی بڑی وبا کے باوجود ہم بندوں کا یہ طرزِ عمل  قابلِ مذمت نہیں تو اور کیا ہے؟ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں بھی صفائی کے معاملے میں کئی گنا زیادہ ہونی چاہئے۔ یہ زمینی خستہ زوالی حالت کو ہر وقت رونا یا گلے شکوے کرنا بے سود ہے۔ ہم صرف تنقید کرکے اور برائیاں گنوا کر کبھی سدھار یا اصلاح کا کام کبھی بھی نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنے رویوں میں، کردار میں، اخلاق میں اور طرزِ عمل میں سنجیدہ ہونا پڑے گا.

اور قدرت  کے بخشے ہوئے نکھار کو شکر گزاری اور قدردانی سے نبھانے کیلئے خود بھی محنت اور مسلسل محنت گویا سڑکوں  اور گٹروں کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کرنی ہوگی مسلسل اور مستقل بنیادوں پر مرمت کا کام کرنا ہوگا تا کہ حادثات، ناگوار نظاروں، ڈر خوف اور سب سے بڑھکر پاکی، صفائی، طہارت کو مدِ نظر رکھکر عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ حکومتی اداروں کا ساتھ دیکر تحفظات کے ساتھ اپنی ماحول کو سدھارنا ہی ماحولیاتی تحفظ ہوگا جو بالآخر معاشرتی تحفظ ہوگا اور جب ہم اپنے معاشرتی، ما حولی تحفظ کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنائیں گے جب ہی قدرتی نکھار اور بندوں کو سنگھار نظر آئے گا۔ حسن کو چار کیا آٹھ چاند لگ جائیں گے۔ اللہ کرے وہ وقت ہم اور آپ ملکر لائیں (آمین)۔ ایس او پیز کے چکر میں کھانے پینے کی دکانوں کے باہر لوگ اِدھر اُدھر بیٹھ کر کھا پی رہے تھے، جہاں نیچے پانی پیدل چلنے والوں کو نہیں بخش رہا تھا۔ رش مکھیاں گندہ ماحول مزید دل خراب کئے دیتے ہیں۔ یقین جانئے گرمی سے بُرا حال تھا مگر پانی کا تک انتظام نہیں۔ سب مسلمان، اسلامی ملک پانی تک کے لالے پڑے ہوتے ہیں! بازاروں میں کسی قسم کی ایمرجنسی سروس نہیں نہ ہی باتھ روم یا بے بی رومز کا انتظام نہ ہی نماز کی جگہیں جو یکہ دکہ جگہیں ہیں جن تک پہنچ بڑی مشکل ہے۔

یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ ہم سب کی نا! تھوڑا شعور ہر بندے کو ہونا چاہئے کہ ان جگہوں کو صحیح طرح سے تحفظات کے ساتھ استعمال کیا جائے، لوگوں کو عوام کو آسانی دی جائے، ڈر خوف اور پریشانی سے بچایا جائے۔ اسی طرح ایک مرتبہ پاپوش میں مجھے ایمرجنسی میں واش روم جانا پڑا تو انہوں نے کہا مسجد میں اوپر انتظام ہے۔ وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے کہا دس روپے دیجئے اوپر جائیں ڈرتے ڈرتے اوپر گئی عجیب خوفناک ماحول، نہ لوٹا نہ پانی ایک بغیر ٹو نٹی والے ٹوٹے لوٹے میں آدھا لوٹا پانی رکھا ہو اور دروازے کا لاک بھی نہیں اور دوسرا کوئی بندہ وہاں نہیں۔ میں تو فوراً جلدی جلدی واپس آگئی جبکہ ادھر ہی سے لوگ گزر کر آگے نماز کیلئے اندر مسجد میں جا رہے تھے اور یہ مسجد کے ایک طرف چھوٹے سے دروازے کے ساتھ دس سیڑھیوں کے بعد واش روم نام کی چیز تھی وضو کرنے کیلئے تین بیٹھنے کے پتھر اور کائی جمی چند مٹکیاں ٹو نٹی لگی رکھی تھیں۔ نماز کا انتظام بھی نہیں تھا یہ سب بگاڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ قدرت ہمیں کیا کیا دے رہی ہے اور ہم کس طرح اس کی قدر دانی کر رہے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے ہمیں اپنے اعمال درست کرنے ہونگے، نیتوں کو درست کرنا ہوگا۔

رب کی زمین پر رب کی خوشنودی والے کاموں کو یقینی بنا کر مخلوقِ خدا کیلئے آسانیاں دینی ہوں گی ورنہ ہم کبھی بھی سکھ چین سے نہیں رہ سکتے اور قدرتی نکھار سے صحیح معنوں میں لطف اندوز نہیں ہوسکتے اللہ عمل کی توفیق دے ہم سب کو کہ اس خوبصورت حسین عظیم ماں مادر ماں اس فرش کو اس زمین کو نکھار بخشیں اور صاف ستھرا رکھ کر اس کا حق ادا کریں کیونکہ اللہ نے کل زمین کو سجدہ گاہ بنایا ہے ہم نے اس کو وہ حق کیوں نہیں دیا؟ ہمیں دنیا ہوگا اس کا حق ادا کرنا ہو گا ورنہ یہ عظیم ماں ہم سے کبھی راضی نہ ہوگی آخر ہمیں سکون بھی تو اس کی گود میں حاصل کرنا ہے نا؟  ابدی سکون! یہ تو کیسی عظیم ماں ہے؟ جو چپ چاپ ہمیں دسترخوان سجا سجا کر پالتی ہے ہر طرح کے رنگ برنگے اجناس پھل سبزیاں ترکاریاں کھلاتی پلاتی ہے.

مرنے کے بعد بھی ہمیں سمیٹ لیتی ہے اور تحفظ دیتی ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تعفن اور دیگر آلائشوں سے بچاتی اور اپنی گود میں تا قیامت سلاتی ہے اس عظیم ماں کیلئے ہمارا اپنا رویہ قابل مذمت ہی نہیں قابل شرم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ ہمارے نظارے ہمیشہ حسین سے حسین تر رہیں تمام حقوق ادا کریں اور اپنے رب کو راضی رکھیں۔ آمین

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。