Home » دو قومی نظریہ کی پکار – شفا ہما
بلاگز

دو قومی نظریہ کی پکار – شفا ہما

کرناٹک میں بے خوف اور بہادر طالبہ کے جے شری رام کے مقابلے میں اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کے بعد سے بھارتی ہندو توا کو آگ لگ گئی ہے اور بھارتی ریاست مسلمان دشمنی میں سینہ ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے. دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے ملک میں عدالت عالیہ انصاف فراہمی کے بجائے مسلم دشمنی میں حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے .

کرناٹک میں حکومت نے طالبات کے حجاب پہن کر تعلیمی اداروں میں آنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے خلاف جہاں کرناٹک سمیت دیگر ریاستوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں وہیں طالبات نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے لیکن ریاستی عدالت عالیہ نے اس پر فوری فیصلہ سنانے کے بجائے سماعت کو ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلے تک تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس پہننا ممنوع ہے. عدالت عظمیٰ نے کہا کہ حجاب سے متعلق کیس کی سماعت کی کوئی جلدی نہیں اس معاملے کو قومی سطح پر نہ پھیلایا جائے، مناسب وقت آئے گا تو مداخلت کریں گے. اس سے پہلے بھی بھارتی سپریم کورٹ نے مسلم طالبات کی حجاب سے متعلق کیس کی سماعت کی درخواست مسترد کر چکی ہے جبکہ بابری مسجد اور افضل گورو کی پھانسی سمیت بھارتی سپریم کورٹ کی تاریخ ایسے متنازعہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے جس کا اعتراف اس عدالت کے سابق جج دیپک گپتا بھی میڈیا کے سامنے کر چکے ہیں.

بھارت سے امن دوستی کے خواہاں اور کشمیر کو بات چیت کے ذریعے لینے کی باتیں کرنے والے پاکستانی حکمران کیا اتنے کوتاہ نظر ہیں کہ انہیں بھارت کی پاکستان پر مسلط کی گئی تین جنگیں یاد نہیں رہیں جن میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں کی جانوں کا خراج وصول کیا گیا تھا، سینکڑوں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئی تھیں. ان جنگوں کے نتائج پاکستان آج بھی برداشت کررہا ہے. مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکی کیا ان کو نظر نہیں آتی؟ چھ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج کے سنگین مظالم، بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں میں فرق کئے بغیر ظلم و استبداد کی حدیں پار کردینا کیا اب بھی ثبوتوں کا محتاج ہے. بھارتیوں سے بات چیت کے خواہان کو کیا بابری مسجد کی شہادت یاد نہیں رہی؟ کیا انہیں 71 میں سقوط ڈھاکہ کے المناک سانحہ کے بعد اندرا گاندھی کی وہ تقریر بھی بھول گئی ہے جس میں اندرا گاندھی نے فخریہ کہا تھا کہ ہم نے ہزار سالہ بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریہ کو خیلج میں ڈبو دیا ہے جب کہ اس وقت پاکستان کو وجود میں آئے صرف 24 برس گزرے تھے.

آج بھارت نوازی کے بجائے ہمیں محمد بن قاسم، احمد شاہ ابدالی، محمود غزنوی اور غازی علم دین شہید کی ضرورت ہے جو چانکیہ کے وارثین کو ان کے اصل مقام پر رکھ سکیں. یہ میر صادق اور میر جعفر کے جانشین بھارت سے وفاداری نبھانے میں اپنی غیرتِ ملی اور حمیت کو بھی فراموش کرچکے ہیں. بھارت سے شوقِ محبت میں کردار کے غازی تو دور کی بات گفتار کے غازی بھی نہ رہے. ہندؤں کی مختلف ذاتوں میں تقسیم ہونے کے باوجود ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے مسلمان سے نفرت لیکن جتنا یہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اتنا ہی ڈرتے بھی ہیں. اس کی تازہ ترین مثال کرناٹک میں پیش آنے والا واقعہ ہے. ایک دخترِ اسلام کے نعرہ تکبیر نے بھارت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا. ان کی بزدلی کی شہادتیں تاریخ سے بھی ملتی ہیں. ہندوؤں کے سورج ونسی راجپوت راجے مہاراجاؤں نے مسلمان حکمرانوں کی ہیبت سے لرزاں اپنی بہنیں اور بیٹیاں ان کے نکاح میں دیں. راجہ جے چند جو جہلم سے پشاور تک کا حکمران تھا چار بار احمد شاہ ابدالی سے پوری تیاری کے ساتھ لڑا. ہر بار احمد شاہ ابدالی اسے شکست دے کر کابل لے جاتے، راجہ جے پند سے اپنے پاؤں دھلواتے اور اسے رہا کرکے واپس بھیج دیتے.

مسلمان حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کے باعث بر صغیر جب انگریزوں کے ہاتھ میں چلا گیا تب ہندو نے انگریز کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرلی لیکن سلام ہو مسلمان قائدین کی بے لوث جدوجہد پر، کہ جس کا ثمر پاکستان کی صورت دنیا کے نقشے پر امر ہوچکا ہے. لیکن پاکستان کے وجود میں آنے کا صدمہ ہندو کیسے برداشت کرلیتا! تاریخ کی دوسری بڑی ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں کی شہادت، سینکڑوں عورتوں کی آبرو ریزی سمیت بہت سے واقعات ہندوؤں کی بربریت کے گواہ ہیں. نوزائیدہ مملکتِ پاکستان کو معاشی طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کے حصے کا سرکاری  روپیہ ادا کرنے سے بھی انکار کر دیا اور پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کا اسلحہ ضبط کرکے گولہ بارود کا حصہ دینے سے بھی انکار کر دیا. کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا اور کشمیری مسلمانوں پر ایک نہ ختم ہونے والی ظلم کی خونی داستان رقم کی جانے لگی. پاکستان کی انتہائی مختصر ایئر فورس کے جو آسٹر اور ہاورڈ جہاز جو تقسیم کے وقت بھارت میں تھے انہیں لانے کے لئے جب پاکستانی پائلٹ بھارت گئے تو ان جہازوں کے پیٹرول ٹینکس میں چینی ڈال دی گئی چنانچہ وہ جہاز بھارتی حدود میں ہی گر کر تباہ ہوگئے. سازشوں  کے ذریعے 71 میں پاکستان کو دولخت کردیا.

اب بھارتی مسلمان بھارت میں نچلے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں بھارتی مسلمانوں کو زک پہنچانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا جاتا. ہندو اکھنڈ بھارت چاہتا ہے اور یہود و نصاریٰ مسلمانوں کا نام صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں. بھارت کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں آخری نہیں بلکہ آغازِ سفر ہے اور نہ ہی ابھی صلیبی جنگ ختم ہوئی ہیں۔ بوسنیا، مصر، فلسطین، عراق اور ایران یہودونصاریٰ کے در پردہ عزائم کی بڑی مثالیں ہیں. کچھ عرصہ قبل یو این او میں ایک مسلم مندوب کی تقریر کا ایک فقرہ یاد رکھنے کے قابل ہے :You demand peace at the cost of Muslims (آپ مسلمانوں کی زندگیوں کے عوض امن طلب کرتے ہی‍ں) آج پاکستان کو شاہین کا جگر پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے. حجاب کا تنازعہ بھارت میں پھیلتا جارہا ہے اور ہندو مسلم فسادات میں بھی تیزی آتی جارہی ہے. یہ تمام حالات دو قومی نظریہ کی اہمیت کے غماز ہیں. بھارت میں مسلمانوں کی بد سے بدتر ہوتی حالت اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دو قومی نظریہ کی اہمیت آج بھی قائم و دائم ہے. مسلمانوں کو ہندو معاشرے میں بہتر مقام بنانے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جارہی ہے جب وہ ہندو کو اپنا ذہنی و فکری آقا مان لیں.

تقسیمِ ہند سے اب تک بھارت میں اچھا ہندوستانی اسی مسلمان کو سمجھا جاتا ہے جو اسلامی شریعت سے بیزاری اور پاکستان سے دشمنی کا کھل کر اظہار کرتا ہے. کرکٹ اور فلم انڈسٹری سے منسلک بھارتی مسلمان فن کی بلندیوں پر ہونے کے باوجود اس وقت تک درخشاں ستارے نہ بن سکے جب تک انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا نہ کرلیا. کرکٹ میں اظہر الدین، عرفان پٹھان، بھارتی فلم انڈسٹری میں موسیقار نوشاد، یوسف خان المعروف دلیپ کمار اس کی روشن مثالیں ہیں. خود کو ہندوؤں کا وفادار ثابت کرنے کی خاطر شاہ رخ خان لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پہنچے تو اسلامی شریعت سے ہی کھلواڑ کر بیٹھے اس اداکار نے جب مغفرت کے لیے دعا ئیہ کلمات پڑھ کر لتا کی قبر پر پھونکے تو اس عمل کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنماؤں نے تھوکنا قرار دے دیا اور پورے بھارت میں مسلم دشمنی کا نیا طوفان کھڑا ہو گیا.

بھارتی مسلمانوں کے لیے اب پیغام تو واضح ہوگیا ہے کہ وہ جتنا بھی بھارت نوازی اورخود کو دین بیزار ثابت  کرنے کی کوششیں کرلیں وہ ہندو کی نظر میں ہمیشہ نیچ اور ملیچھ رہینگے. آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بننا منافقت ہی نہیں، اپنے ساتھ ظلم ہے. ان بھارتی مسلمانوں کو اب اپنے لئے واضع راستہ منتخب کرلینا چاہیے۔ موجودہ حالات میں دو قومی نظریہ کو دوبارہ پوری قوت سے کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمنوں کی بے تحاشا کوششوں کے باوجود پاکستان کی محبت کو وہ مسلمانوں کے دلوں سے نہیں نکال سکا ہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور مسلم امت کو سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ غداروں نے پہنچایا ہے۔ پاکستان تو اللہ تعالی کے خصوصی کرم اور اس سے محبت کرنے والوں کے دم سے سلامت رہے گا لیکن تاریخ کے اس  دوراہے پر بھارتی مسلمانوں کو اپنا مثبت اور مضبوط کردار ادا کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ 
تیرے سینہ میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے
کتابِ ملتِ بیضا   کی     پھر  شیرازہ بندی ہے
کہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا