Site icon نوک قلم

اَلَم نَجعلِ الاَرضَ مِھٰدا؟ ہمایوں تارڑ

صدیاں گذریں۔ جبرائیلِ امین خلائے بسیط کی وسعتیں پھلانگتے پیغمبر رسالتمآبؐ کے حضور پیش ہوئے، اور سورۃ النّباء کا یہ مختصر جملہ آپ کے حضور پیش کیا۔ اللّہ کہتا ہے: اَلَم نَجعلِ الاَرضَ مِھٰدا؟ کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنا دیا؟

بندہ سوچے، یہ کون سی خاص بات ہے جس کا ذکر کرنا اور جتانا ایسا ضروری تھا؟ جس خاطر قاصد کو کروڑوں کلومیٹرز کا فاصلہ طے کرایا گیا ۔۔۔؟دوسری طرف یہ جان کر حیرت ہوتی ہے۔ اِس قدر پُرمعنی بات کی پرتیں کھولنے میں حضرتِ انسان کے شعوری و فکری سفر نے چودہ صدیاں گذار دیں۔ کل پُرزے جوڑ کر دُوربینوں کی مدد سے، اورخلائی مِشن پر کیا سے کیا سیٹلائٹ چھوڑ کر، اور سپیس کرافٹس بھیج کر اِس نے پتہ چلایا کہ آس پاس کا ماحول شریف کیا ہے؟آپ سیارہ مشتری پر چلے جائیں۔ اگرچہ یہ ہمارے سولر سسٹم کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اس قدر بڑا کہ 13 سو زمینیں اِس میں سما جائیں۔ نظامِ شمسی کے تمام سیارے پکڑ کر اس میں بند کیے جا سکتے ہیں۔ مگر ـــــــ آپ اس پر ایک قدم رکھ کر دکھا دیں۔

پہلی بات یہ کہ سارا مشتری ہائیڈروجن اور ہیلئم گیس سے بنا ہے ( دیگر چند گیسز کی مقدار معمولی ہے)۔ آکسیجن کا نام و نشان نہیں۔ پھر اس کی سطح ہی ایسی نہیں جس پر قدم جم سکے۔ گیسز سے بنے سیارے میں آپ دھنستے چلے جائیں گے۔ اوپر سے اس کا منفی 145 درجہ حرارت آپ کو قُلفی بنا ڈالے گا۔ امریکی خلائی ادارہ ناسا میں بیٹھی خلّاق ذہانتیں اب تک بےبس ہیں کہ ایسی کوئی ٹیکنالوجی متعارف کرا سکیں جو اِس درجہ حرارت کو compensate کر کے دکھائے۔پھر اس کی کششِ ثقل زمین سے تین گنا زیادہ ہے ۔۔ آپ کاباڈی ویٹ اگر زمین پر 100 پاؤنڈز ہے تو سیارہ مشتری پر 240 پاؤنڈز ہو جائے گا۔ بالفرض اس سیارے کی سطح زمین جیسی سخت ہو بھی تو آپ کا ہر قدم من من بھاری ہو گا۔

دیگر سیاروں پر بھی آکسیجن، پانی اور سبزہ ناپید ہیں۔ کششِِ ثقل والی قوّت کے مسائل الگ سے۔ گرمی سردی والے مسائل الگ سے۔ سیارہ زہرہ پر ایک دن ہمارے والے 243 دنوں کے برابر ہے کہ وِینس اپنے ایکسز پر بہت سست روی سے گھومتا ہے (اگرچہ سورج کے گرد اس کا چکر زمین کی نسبت بہت جلد مکمل ہو جاتا ہے، یعنی وینس کا ایک سال 225 دن کا ہے)۔ہِر پھر کر مریخ وہ واحد سیارہ ہے جس کی سطح پر اترا جا سکتا ہے، یہاں آکسیجن کیبن بنا کر رہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس پر باقاعدہ کام کا آغاز بھی ہو چکا، مگر یہ کس قدر مہنگا ہے، اِس کا تصوّر بھی محال ہے۔ نہ پانی، نہ سبزہ، نہ کچھ۔ سب مصنوعی انتظامات ہوں گے۔

انٹرنیٹ کی مدد سےسورج سمیت اِس پورے خاندان کی تفصیل دو تین روز میں پڑھی اور دیکھی جا سکتی ہے۔ خوب اطمینان ہو جائے ، تب سمجھ شریف میں یہ بات اترے گی کہ چار لفظی اِس مختصر جملے میں مالِکُ المُلک نے کس قدر بھاری احسان جتایا ہے: اَلَم نَجعلِ الاَرضَ مِھٰدا؟کیا ہم نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا نہیں بنا دیا؟ یعنی رہن سہن کے قابل۔ اور اس بیش قیمت آگاہی پر حلق سے درج ذیل آیتِ کریمہ تقریباً چیخ بن کرنکلے گی:فَتَبَارَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللّہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر–

Exit mobile version