Home » مجاہد کشمیر – سماویہ وحید
بلاگز

مجاہد کشمیر – سماویہ وحید

رات کی کہیں ایک یا دو بج رہے تھے۔ جب چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ستاروں کے درمیان ایک چاند جیسے کسی مجرم کی طرح جکڑا ہوا تھا۔ ارد گرد بے شمار ستاروں اور واحد چاند جو غرور کے ساتھ آسمان پر روشن تھا۔ وہ یہ خیالی تصور کر کے بے اختیار مسکرا اٹھا۔

آج پچپن برس جیل میں گزر جانے کے بعد اُس نے دوسرے جیل میں منتقل ہوتے ہوئے کھلے  آسمان کی فضا کو محسوس کیا تھا۔ آج اُسے لگ رہا تھا کہ کئی برس گزر جانے کے بعد اُس کے اندر کا شاعر جاگ اٹھا ہے۔ وہ ایک زبردست شاعر تھا. اُس کی شاعری مجموعے آزادی کی راہ کے لیے روشنی تھے۔ اُس نے شاعری 12 سال کی عمر سے لکھنا شروع کی تھی۔ اُسے معلوم تھا کہ وہ کبھی اِس جیل سے جس کی موٹی موٹی سلاخیں زنگ آلود ہو چکی تھی، ان سے زندگی ختم ہونے تک باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ ُاس کی عمر لگ بھگ اٹھتر  سال ہو چکی تھی۔ اپنی عمر سے وہ کئی گناہ بوڑھا معلوم ہوتا تھا۔ اُسے آج  اپنی پیدائش سے لے کر شادی تک کی زندگی اتنی شدت سے دل میں جذب ہوتی محسوس ہو رہی تھی کہ دل جیسے خاک تھی اور جب اُس کی گود میں ننھا بیٹا رکھا گیا تھا تو اُس نے اپنے بیٹے کا نام بھی مجاہد رکھا۔ جیسے آباؤ اجداد مجاہد کے نام سے چل رہی ہو۔ وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، جب وہ پیدا ہوا تو اُس کے باپ نے اپنے نام سے ہی اُس کا نام مجاہد رکھا۔ یہی آباؤ اجداد کا نام منتقل کرنے کے لیے اُس نے اپنے بیٹے کا نام بھی مجاہد رکھا۔ اپنی ننھی کلی کو اس نے 3 سال کی عمر میں ہی بغیر باپ کے رہنا سکھا دیا تھا۔

اُسے اپنے مجاہد کی ننھی منی معصوم شکل ایک اسکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے محسوس ہو رہی تھی۔ اُسے معلوم تھا کہ وہ اس نئے جیل میں منتقل ہونے کے بعد کچھ ہی دن کا مہمان ہے کیونکہ اُس نے بھارتی فوج کے منہ سے سنا تھا  کہ “اِسے کچھ دن دوسرے جیل منتقل کر دو۔ بعد ازاں  احکام ملتے ہی ہم اس آزاد وطن کو حاصل کرنے والے کو جہنم واصل کر دیں گے۔”  ان کی اِس بات پر اُس نے شدید زخموں کی تکلیف ہوتے ہوئے بھی چیخ  کر کہا ” اے درندوں!  جہنم کے مہمان تو  تم لوگ بنو گئے۔ جنہیں  یہ نہیں پتا کہ انسانیت کیا ہے، جو آزادی کا مطالبہ کرنے والے، لاچار انسانوں پر، جن کے پاس نہ کوئی ہتھیار ہے، نہ وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں، ان پر ظلم کرتے ہیں۔ تم لوگ تو اتنے ڈرپوک ہوکے لاچار و بے بس انسانوں پر ہی مردانگی کا اظہار کرتے ہو، غارت ہو تم لوگ، غارت ہو میرے کشمیر کے دشمن۔ اے رب میری جنت کی حفاظت فرما۔” اِس پر وہ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنسنے ” دیکھو ذرا ہمیں کہہ رہا ہے کہ غارت ہو۔ ہمیں سکھانے آیا ہے انسانیت کے حقوق۔” جن میں سے ایک شخص نے کہا ” رکو ذرا اس کو میں بتاتا ہوں کیسے زبان چلا رہا ہے۔” دوسرے شخص نے کوڑا پکڑتے ہوئے کہا جس پر ان کے افسر نے منع کرتے ہوئے کہا کہ اسے تہاڑ جیل منتقل کردو۔

اُسے اس عرصے میں بھارت کی فوج کی کافی معلومات حاصل ہوگئی تھی لیکن وہ بے بس اس جیل سے فرار ہونے سے قاصر تھا۔ اُس نے جیل میں وطن کی آزادی کے لیے چھوٹے لوہے کے ٹکڑے کے ساتھ دیواروں پر آزادی کے نغمے لکھے  تھے۔ جو کہ دیواروں پر حسرت کی تصویر بن کر رہ گئے تھے۔ اُس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ اُسے غم تھا کہ وہ آزادی کا جشن منائے بغیر ہی اس دنیا سے چلا جائے گا۔ اُسے اپنے گھر والوں سے زیادہ، اپنے کشمیر کی آزادی کا غم کھایا جارہا تھا۔ دیوار پر چھوٹے سے سوراخ سے ہلکی ہلکی چاند کی روشنی اس کی آنکھوں سے ٹکرا رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں سے آگ کے شعلے گرتے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اب دوبارہ اُس کی لاش ہی کھلا آسمان  دیکھے گئی۔ اُسے ہر چیز تپتی ہوئی دھوپ کی طرح یاد تھی۔ جب بھارتی درندوں نے اُس کے گھر پر حملہ کیا تھا۔ جب وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ فوج ان کے گھر میں داخل ہوگئی تھی، اور اُس نے اپنی بیوی کو تہہ خانے کی اوٹ میں چھپا دیا تھا اور خود وہ اپنے بیٹے کو بوسہ دے کر اور بیوی کو فکر نہ کرنے کے بول کہہ کر ُاس کی روتی ہوئی آنکھوں کو نظر انداز کر کے چلا گیا تھا اور اپنے آپ کو خود بھارتیوں کے حوالے کر دیا تھا۔

اُسے ایک دم دل میں درد اٹھا ۔اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ اُس کا دل پھٹ پڑے گا۔  اُسے اپنے خاندان کی یاد چبھنے  لگی تھی۔ وہ مختلف سوچوں سے ٹکرا رہا تھا۔ اُسے گزرتی ہوئی زندگی سمندر جیسے بہتی لگ رہی تھی۔ جو مصائب و آلام سے گری ہوئی گزر گئی۔ اُس نے ان موٹی موٹی سلاخوں والے جیل میں نہایت ہی دردناک دن گزارے تھے۔ اُسے کبھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کتنے برس زندگی جی چکا تھا اور کتنے برس وہ ان بند کمروں میں رہا تھا۔

چند دن گزرنے کے بعد اُسے تپتے ہوئے ریگستان میں لے جایا گیا تھا۔ دور دور کچھ آبادیاں دکھائی دے رہی تھی۔ سورج کی تپش سے وہ جل رہا تھا۔ تشدد کے دوران جیل میں ابلتے ہوا پانی گرانے سے اُس کے جسم پر چھالے بن گئے تھے۔ تپتی ہوئی زمین اور سورج، ننگے بدن و پاؤں سے چلتے چلتے اُس کے چھالے پھٹ پڑے تھے اور اُس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ نہایت کرب میں مبتلا تھا۔ وہ کسی نامعلوم جگہ سے گزر رہا تھا۔ اُسے شدتِ پیاس و بھوک سے  اپنی آنتوں میں زخم محسوس ہو رہے تھے.  بے اختیار اس کی زبان سے اشعار جاری ہوگئے:
اے آزادی کے نغمے گانے والے
کیا مصائب و آلام ہے تجھے جھیلنا
تو نے آخر کیا گناہ ہے کیا
جو تپتی ہوئی ریت پر ننگے پاؤں چلا

اُس نے انہیں للکارتے ہوئے کہا ” دیکھو تم ناکام ہو گئے ہو۔ کیا اگلوا سکے تم مجھ سے کچھ؟؟ اب اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے پر تم مجھے شہید کرنے آ گئے ہو؟ میرا خدا گواہ ہے کہ میں نے اپنی قوم سے کبھی غداری نہیں  کی ہے، اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی جھوٹ بولا ہے۔ تم مجھے جاسوس جو سمجھتے ہو وہ میں ہوں ہی نہیں۔” انہوں نے اُس کی بات کو نظر انداز کر دیا اور یکدم فضا میں زور دار آواز گونجی۔ گولی اُس کے دل کو چھوتے ہوئے آرپار ہوگئی تھی۔ وہ ایک زور كے دھچکے کے ساتھ زمین پر گر گیا۔ اُس کے منہ سے خون کا فوارہ جاری ہوگیا تھا۔ اُس کی آنکھیں پتھرا چکی تھی۔ اُس کی آنکھوں سے کشمیر کے لئے محبت صاف جھلکتی دکھائی دے رہی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھنے سے لگتا تھا کہ وہ کہہ رہی ہوں؛ ” اے قوم! وطن کی خاطر قربان ہونا کیا ہی اعزاز کی بات ہے۔ اے میری قوم! یقینا بہت جلد امام مہدی پیدا ہوگا  جو ہماری جنت کو کافروں کے شکنجے سے چھڑائے گا۔ اے میری قوم! آزادی کی تگ و دو ہمیشہ کرتے رہنا۔ کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا.

جلد یا بدیر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کامیابیاں ہمارے قدم چومے۔ کشمیر  زندہ باد”
جانے کیوں دبائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز
میں پوچھتا ہوں کہاں اٹھائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز