Home » ہوں گہر آبدار میں – زارا ثمین
بلاگز

ہوں گہر آبدار میں – زارا ثمین

ایک عجب احساس ہے، کچھ انوکھا سا، جسے شاید الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ جسے صفحہ پر نہیں اتارا جا سکتا۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب میں خود سے چھوٹے بھائی کے پیچھے بائیک پر بیٹھتی ہوں اور وہ کہتا ہے سنبھل کر بیٹھنا۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب ابو کھانے سے پہلے میرا انتظار کرتے ہیں کہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھانا کھاؤں گا۔

میں خود میں جذبات کا ایک امڈا ہوا سمندر محسوس کرتی ہوں جب سکول کالج کے دروازے پر ابو یا بھائی کو پاتی ہوں جو مجھے بحفاظت گھر پہنچا دے۔ مجھے بے ساختہ پیار آتا ہے جب کبھی اونچی آواز میں بولنے پر بھائی کہتا ہے آہستہ بولو، آواز باہر جائے گی۔ میں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہوں جب میری ہر ضرورت گھر میں پوری ہو جاتی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب میرے تعلیمی ادارے میں مجھے قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے۔ مجھے اپنا آپ قیمتی محسوس ہوتا ہے جب مکمل مستور رہنے کے باوجود بھی میری کارکردگی پر اساتذہ مجھے شاباش دیتے ہیں۔ مجھے خاطر خواہ حوصلہ ملتا ہے جب مجھے ہر وہ سہولت ملتی ہے جس سے میں آرام سے رہوں۔ مجھے اطمینان ہوتا ہے جب کوئی اپنے کسی ٹیچر کو سیکولرازم کی تائید کرتا نہیں پاتی۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب بچپن سے مجھے پک اینڈ ڈراپ دینے والے رکشے والے انکل میرا نام لیتے ہوئے باجی کا لاحقہ لگاتے ہیں۔
مجھے اپنی زندگی بہت آسان لگتی ہے جب میں بینکوں کے سامنے بل بھرنے والی لمبی قطاریں دیکھتی ہوں۔ مجھے زندگی سہل معلوم ہوتی ہے جب مجھے ضرورت زندگی کی ہر چیز گھر میں مل جاتی ہے۔

میں نہیں لکھ سکتی کہ کتنا پیارا احساس ہوتا ہے جب چچا، تایا اور ماموں مجھے میری کامیابیوں پر پیشانی چوم کر شاباش دیتے ہیں۔مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے جب عید تہوار کے موقع پر جب ابو نماز پڑھ کر آتے ہیں تو میں انہیں اپنی تیاری دکھاتی ہوں۔مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جب میں باہر نکلتے ہوئے خود کو چھپا لیتی ہوں، پتہ ہے کیوں، کیونکہ میرا خدا سب کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں ان پر اپنی زینت ظاہر کر دوں۔مجھے دنیا اپنے حق میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ میں اپنی حدود میں رہ کر بہت آرام دہ محسوس کرتی ہوں۔مجھے روز شو پیس بن کر نہیں نکلنا پڑتا۔ مجھے اپنی زندگی پر ناز ہے کہ میں وہ سب کرتی ہوں جو ایک ترقی پسند لڑکی کر سکتی ہے، میں پڑھتی ہوں اور میں ٹاپر ہوں، میرا نقاب کبھی اس میں حائل نہیں ہوا۔
میں لکھتی ہوں کیونکہ مجھے شوق ہے، میں ایک بہتر سپیکر ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ کب کہاں کیا بولنا ہے۔ مجھے بہتسکون محسوس ہوتا ہے جب میں خود کو یہ آیت سناتی ہوں

“وقرن فی بیوتکن”

پتہ ہے کیوں، کیونکہ مجھے ٹینشن نہیں ہے نہ کہ باہر نکلنا پڑے گا، جاب کرنی پڑے گی۔میرا دائرہ کار تو بڑا خوبصورت سا ہے، مجھے یہ سوچ کر ہی بہت مزہ آتا ہے کہ میں اپنے گھر کی پاور آف اٹارنی ہوں گی، اپنی مرضی سے گھر ڈیکوریٹ کروں گی، اپنی مرضی کے کھانے بناؤں گی۔میں اپنی ذات پر بہت نازاں ہوں کہ مجھے کئی مرتبہ میرا معاشرہ محسوس کرواتا ہے کہ میں سیپ میں بند موتی کی طرح قیمتی ہوں۔پتہ ہے یہ سب کیوں ہے؟ کیونکہ میں ایک مسلمان طالبہ ہوں نہ۔ میں بہت ماڈرن ہوں۔ میں پرانے لوگوں کی طرح بے پردہ نہیں گھوم سکتی نہ، میری ذات اتنی ازراں نہیں ہے۔ میں تو وہ بیٹی ہوں جسے زندہ درگور کرنے کے واقعے پر میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہچکیوں سے روئے تھے۔ اسلام نے تو مجھے اتنا زیادہ تحفظ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو سورۃ نور نازل کر کے مجھے اس قدر معتبر کر دیا۔میرے لئے تو اقبال نے کمال شگفتگی سے یہ فرمایا تھا

ہے گُہرِ آب دار تُو
نامحرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تُو!

اور یہ سارے ناز، سب نخرے مجھے اسلام نے دئیے ہیں۔ میں آج بیٹی ہوں تو شہزادی ہوں، بہن ہوں تو محفوظ ہوں۔میں ماں ہوں گی تو جنت میرے قدموں تلے ہوگی۔ میں بیوی ہوں گی تو اپنے گھر کی ملکہ ہوں گی۔ اور یہ سب آسائشیں، میرا اتنا محفوظ دائرہ کار، اتنی محبت کرنے والے رشتے مجھے اسلام سے ملے ہیں۔ پتہ ہے کیوں کیونکہ وہ کہتا ہے

فاذکرونی اذکرکم “تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔”

Add Comment

Click here to post a comment