Home » “ایمان کے کہف” عصمت اسامہ
بلاگز

“ایمان کے کہف” عصمت اسامہ

“شوہر مارتا بھی ہے اور خرچہ بھی نہیں دیتا ؟ تو کس طرح رہ رہی ہو ایسے فضول آدمی کے ساتھ ،چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟”, بیگم رضیہ نے کام والی شمیم کی ساری کہانی سن کے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے پوچھا ،شمیم دو دن کی غیر حاضری کے بعد آج کام پہ آئی تھی۔ “کیا کروں بیگم صاحبہ ،پیکہ کوئی ہے نہیں ،دو بچوں کے ساتھ کہاں جاؤں ؟” شمیم دوپٹے سے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔

ہوں ،کچھ سوچتے ہیں تمہارا ،کل ضرور صبح جلدی آجانا۔ بیگم صاحبہ کہتے ہوئے گیراج میں آکے گاڑی سٹارٹ کرنے لگیں اور شمیم بھی سلام کرکے نکل گئی۔ اگلے دن شمیم جلدی آگئ اور سارے کام سمیٹنے لگی تو بیگم صاحبہ نے مطمئن ہوکے اینڈروئیڈ پکڑ لیا ، ابھی کچھ پوسٹوں کو لائیک کیا تھا کہ شمیم کے چیخنے کی آواز آئی ،وہ آواز کی سمت باہر نکلیں تو لان میں شمیم پانی سے شرابور کھڑی تھی اور پاس کھڑا نیا نوجوان مالی اپنی ہنسی ضبط کر رہا تھا ۔ “کیا مسئلہ ہے ؟” بیگم صاحبہ نے پوچھا ،”بیگم صاحبہ میں دالان دھو رہی تھی تو اس نے پودوں کو پانی دیتے ہوئے پائپ میری طرف کردیا ،اب دیکھیں میرا حال ، میں اپنے بچوں کی خاطر کام پہ آتی ہوں “مارے بے بسی کے شمیم رو ہی پڑی۔۔۔ “کیوں بھئی ؟”بیگم صاحبہ نے غصے سے گھوری ڈالی تو مالی سنجیدہ ہوگیا ۔۔۔”معافی چاہتا ہوں بیگم صاحبہ ،غلطی ہوگئ ۔۔۔جان کے نہیں کیا۔۔۔۔””دیکھو بھئی ،یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کام کا ،اگر کام نہیں آتا تو کل سے تمہاری چھٹی ہے ۔ شمیم نے کام کرکے واپس جانا تھا،اس کے بچے گھر انتظار کر رہے ہیں ،

اب یہ اس طرح بھیگے کپڑوں میں جاۓ گی تو بازار سے گزرتے ہوئے اس پہ کیا بیتے گی ،معلوم ہے تمہیں ؟اگر اس کی جگہ تمہاری سگی بہن ہوتی تو تم ایسا کرتے ؟”بیگم صاحبہ کو بھی غصہ آگیا۔ “مالی کا رنگ اڑ گیا ۔۔۔معاف کردیں ،آج واقعی مجھ سے غلطی ہوئی ہے ،آئندہ خیال رکھوں گا۔۔۔۔۔” “چلو شمیم ،میں تمہیں کپڑے دیتی ہوں “،بیگم صاحبہ شمیم کے ساتھ اپنے کمرے کو چل دیں۔ شام کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار میں جانا تھا مگر ٹریفک جام میں پھنسنے کی وجہ سے تاخیر ہوتی جارہی تھی۔ “اف، میرا تو دل گھبرا رہا ہے ،ڈرائیور گاڑی روکو ،سامنے دوکان سے جوس لادو” بیگم صاحبہ نے بیگ سے ٹشو نکالتے ہوئے کہا ۔ سامنے ریسٹورنٹ پر دو آدمی کسی غریب کو مار رہے تھے اور وہ کمزور ہونے کی وجہ سے خود کو بچا نہیں سکتا تھا۔ “ڈرائیور دیکھو ،کیا معاملہ ہے ؟” بیگم صاحبہ نے کہا تو وہ پتہ لگانے چلا گیا۔”بیگم صاحبہ ،وہ فیکا ہے ،شمیم کا میاں ۔۔۔۔کام کرتے ہوئے اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو مالکوں کے بندے اس کو مار رہے ہیں”۔ڈرائیور بولا۔”اوہو ،چھڑواؤ اس کو ، یہ لو پیسے ،کچھ دے دلا کے معاملہ رفع دفع کرواؤ”۔ بیگم صاحبہ نے پرس سے کچھ نوٹ ڈرائیور کو پکڑا دئیے۔۔۔

اچھا ،تو یہ معاملہ ہے،وہ سوچنے لگیں ،فیکے کو اس ریسٹورنٹ کا مالک اس طرح مارتا ہے تو وہ گھر جا کے سارا غصہ شمیم پہ اتارتا ہے ۔۔۔۔میں نے جلد بازی میں شمیم کو غلط مشورہ دے دیا کہ اس آدمی کے ساتھ رہنے کی کوئ ضرورت نہیں ۔۔۔مجھے فیکے کے حالات کا پتہ نہیں تھا۔۔۔۔”ڈرائیور اب گھر ہی چلو، رات کو ایک درس میں جانا ہے ،اب وہیں جانے کی تیاری کرتی ہوں”۔ڈرائیور نے گاڑی موڑ لی۔ بیگم رضیہ کے شوہر ملک سے باہر تھے ،اولاد کوئی تھی نہیں لہذا سارا وقت سماجی سرگرمیوں میں گزرتا تھا۔درس والا کمرہ کچھا کھچ بھر چکا تھا لیکن بیگم صاحبہ نے کونے میں اپنی جگہ بناہی لی ۔درس والی باجی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ “گھر اور فیملی کے تصور کے ساتھ ایک کیفیت سکون اور راحت کی ملحق ہے۔جب بھی گھر سے دور کہیں جانا پڑے تو واپس لوٹنے اور گھر میں داخل ہونے کے ساتھ جو سکھ کا سانس ہے ،وہ خود بخود آتا ہے ۔اس لئے کہ گھر جاۓ قیام ہے اور زمانے کے حوادث سے بچاؤ کی پناہ گاہ بھی ۔لیکن اس وقت یہ پناہ گاہیں اور “ایمان کے کہف” ہی خطرے میں ڈال دئیے گئے ہیں – رشتوں اور ناطوں کے تانے بانے جو میاں بیوی ،والدین اولاد ،میکہ سسرال ،بہن بھائیوں سے مل کر وجود پاتے ہیں ،ان کی بنیاد پر چوٹ لگائی جارہی ہے۔

یہ خوبصورت رشتے اور تعلق ہی تو ہمارے تمدن اور خاندانوں کی بنیاد ہیں جن سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔اگر یہ نہ ہوں تو سماج ،سماج نہیں رہتا بلکہ ایک جھاڑ جھنکار سے بھرا جنگل بن جاتا ہے ،حیوانوں اور درندوں کی آماجگاہ جس میں ہر قوی جانور ،کمزور کو کھا جاتا ہے اور کوئ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ان رشتوں میں پہلا رشتہ ،شوہر بیوی کا رشتہ ہے جس کے بارے میں کتابوں میں درج ہے کہ جب نوعانسانی کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی گئی تو وہ اکیلے پن کے سبب اداس رہتے تھے۔ان کی اداسی کو دیکھتے ہوۓ اللہ رب العالمین نے حضرت حوا علیھا السلام کو تخلیق فرمایا اور انسانی تمدن کا آغاز ہو ۔اگر شوہر بیوی کا رشتہ مضبوط اور مربوط ہو تو گھر بھی اچھا لگتا ہے وگرنہ اس رشتے میں دراڑیں پڑ جائیں تو بڑے بڑے سازوسامان سے بھرے گھر بھی ویرانے میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔اس رشتے اور تعلق کی مضبوطی کا سارا دارومدار حقوق وفرائض کے شعور،باہمی اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی پر ہے۔یہ شعور ہمیں دیناسلام کو سمجھنے سے ملتا ہے۔جب تک ہم دین اسلام کا مطالعہ نہ کرلیں ،کسی رشتے اور ذمہ داری کو نبھانے کے قابل نہیں ہوسکتے۔

جس طرح ایک مشین کو اس کی مینوئل بک کے بغیر چلانے سے خراب ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔زندگی کا سفر آسان نہیں ہے۔بہت سے نشیب وفراز ،مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر میاں بیوی ایک دوسرے کا سہارا ہوں ،ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں تو وہ اپنی اولاد کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں ،بزرگوں کی ضروریات کا خیال رکھ سکتے ہیں بلکہ کئ بے سہاروں کو سپورٹ کر سکتے ہیں ۔ہم بحیثیت مسلمان جن نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں انھوں نے ہدایت کی تھی کہ رشتہ کرتے وقت ایمان والی عورت کا انتخاب کرنا اور آپ نے نیک بیوی کو دنیا کا بہترین سامان قرار دیا۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو وہ بھی ایک ایمان والی خاتون حضرت حاجرہ تھیں جو اپنے صبر واستقامت کی بدولت “بلدامین مکہ مکرمہ”کی آبادی کا ذریعہ وسبب بنیں ۔دین اسلام کو سب سے پہلے قبول کرنے والی بھی ایک خاتون حضرت خدیجہ ؓ تھیں جو اپنے شوہر کے عظیم مشن کی پشتیبان بنیں ۔حضوراکرمﷺ کے جنت میں جانے کے بعد جو سب سے پہلے آپ سے ملیں گی وہ حضرت فاطمة الزھراء ؓ ہوں گی۔ہمارے لئے صحابیات ؓ ہی اسوہ اور رہنما ہیں جن کی روشن زندگیاں اس قابل ہیں کہ ان کی پیروی کی جاۓ جنہوں نے ہر طرح کے سرد گرم حالات میں اپنے ایمان والے شوہروں کے ساتھ زندگیاں گزاریں اوراقامت دین کی خاطر کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا،

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے باہمی حسن سلوک سے وہ مثالی معاشرہ تشکیل دیا جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے تھے اور اپنے گھروں کو اسلامی معاشرت کا عملی نمونہ بنا کے دکھاتے تھے اور پھر ایک پرسکون معاشرہ تشکیل پاتا تھا جہاں ہر فرد کے لئے علم حاصل کرنے ،تجارت و کاروبار کرنے اور ترقی پانے کے بے شمار مواقع میسر آتے تھے ،جہاں انسانی قدریں پھلتی پھولتی تھیں ،اپنے گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیے ،یہ ایمان کے کہف ہیں ۔۔۔۔!اور بیگم صاحبہ سوچنے لگیں کہ کل سے وہ فیکے کو اپنے گھر ملازم رکھ لیں گی تاکہ وہ مالکوں کے ظلم و جبر سے نجات پاسکے ،ان کو ایک کمرہ دے دوں گی کہ بچوں کو بھی یہاں ہی لے آئیں ۔ شمیم کے گھر کی حفاظت کے خیال سے وہ مسکرادیں !
~ہم بھی کرلیں جو روشنی گھر میں
پھر اندھیرے کہاں قیام کریں !

Add Comment

Click here to post a comment