Home » مستحکم خاندان – صبا احمد
بلاگز

مستحکم خاندان – صبا احمد

گھر یا آشیانہ جو انسانی فطرت کی ضرورت ہے ۔یہ یونٹ یا اکائی کلیدی حیثیت و ایمیت رکھتا ہے. انسانی زندگی میں اینٹوں اور گارے سے بنی اس کی چا دیواری اور چھت سائبان ھوتا ہے .جہاں وہ سارےدن کی محنت و مشقت کے بعد چند پل سکون اور محبت میں گزارنا چاہتا ہے۔ یہ دونوں مرد اور عورت کی خواہش اور ان کا خواب اور حقیت ھوتی ہے گھر یا گھوندا دنیا کے ہر محل سے زیادہ خوبصورت اور ھر قسم کی آرائش سے معین ہوتا ہے جو میاں بیوی اس محبت سے بناتے ہیں ۔

امن و امان اور ایک دوسرے کو سمجھنا دکھ سکھ میں ساتھ دینا ان کا فرض ھے ۔اللہ تعالی نے پہلا گھرانہ زمین پر حضرت آدم اور حوا السلام کا بنا اور رشتہ میاں بیوی کا اور یہی سب سے مضبوط اہم اور کمزور ہوتا ہے ۔ دڑاڑیں بھی شیطان ان میں جلدی ڈلواتا ہے ۔حدیث ہے ” کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہیں ۔یعنی میاں اور بیوی .”مگر محبت بھی ان کے درمیان اللہ نے بہت رکھی ھے ۔اور پھر ایک خاندان کی تشکیل پاتا ھے ۔ان میں بچے والدین کی محبت اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں ۔اس میں سب سے اہم ان کی تربیت کے لیے ماں اہم ہے ۔اور ان کی زندگی کے اسرار و رموز اور نشیب و فراز سمجھانا احترام ہر رشتے کا ۔ جس میں والدین بہن بھائی بچے اوردسرے بزرگوں کا اور اپنے قریبی رشتے ۔اور مسلمان ہونے کے ناتے قرآن وسنت کے مطابق بیٹے اور بیٹی کے رشتے کے حوالے سے جس میں شرم وحیا دونوں کے لیے اہم ہے۔جیسے چڑیا اپنے بچوں کا انڈے سے پیدائش اور پھر کھلانے اور اڑان بھرنے تک ان کی دیکھ بھال کرنا ان کو خود مختار ہونے تک ۔چڑا اور چڑیا کی کہانی میں چڑا لایا دال کا دانہ چڑیا لائی چاول کا دانہ مل کر کھچڑی بنائی ۔

چڑا نہانے چلا گیا۔چڑیا کو بھوک لگی اس نے ساری کھچڑی کھا لی ۔چڑا واپس آیا اس نے ڈھکنا اٹھایا تو دیگچی خالی تھی ۔چڑے کو غصہ آیا اس نے چڑیا کو برا بھلا کہا ۔ان کی لڑائی ھو گئی ۔تو غلطی چڑیا کی تھی کے اسے چڑے کے لیے بھی کچھ بچا کر رکھنا چاہیے تھا ۔بس احساس اور مروت اور احترام کی ضرورت ہوتی ھے ۔ہر رشتے میں ۔مرد اور عورت بھی اسی رشتے میں اعتبار سے جوڑے ہیں اور گاڑی کے دو پہیوں جیسے کے دونوں کے بغیر چلنا مشکل ایک پہیہ گاڑی نہیں چلا سکتا ۔دونوں میں ہم آہنگی بہت ضروری ہے اسی لیے اللہ تعالی نے مرد کو قوام بنایا خاندان کے لیے تحفظ اور خوراک کی اور جسمانی پرورش کی ضرورت پوری کرنا ہے . اور اسی سے بچوں کی تربیت آسان ہو جاتی ہے ۔میاں بیوی ایک دوسری کے لیے قربانی دہتے ہیں تو اولاد بھی ان کے نقشے قدم پر چلتی ھے ۔اگر اسلام نے مرد کو قوام اور عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ھے ۔تو مرد کی غیرموجودگی میں گھر کی اور بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت بھی اہم ھے ۔مال و عزت کی ۔

امہات المومنین ان کی بے نظیر مثالیں ہیں ۔حضرت خدیجہ رضی تعالی عنہا پیارے بنی ﷺ سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھی کامیاب تاجر تھی ۔ ۔مگر آپ صہ سے بہت محبت و عقیدت کرتی ۔ نبوت ملنے کے بعد عورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اپنا مال و دولت سب راہ حق میں اللہ کی خوشنودی کے لیے صرف کیا ۔حضرت فاطمہ الزہرہ رضی تعالی عنہا آپ ﷺ کی پیاری بیٹی اور حضرت علی رضی تعالی عنہ شریک حیات کےساتھ غربت اور مفلسی کی زندگی گزاری نبی صہ کی بیٹی ہونے کے باوجود سارے گھر کا کام خود کرتی ۔چکی پیس پیس کر ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے ۔مگر کبھی اف تک نہ کی ۔ان کی زندگی مشعل راہ ہے یہ روشنی کے مینار ہیں جن سے ہم ھدایت رشد کی روشنی لے سکتے ہیں ۔ہماری آج کی عورت صرف ان کرداروں کو سامنے رکھیں بحیثیت مسلم عورت تو ہمیں دنیاوی کسی قوم اور آزادی کی ضرورت نہیں ہمارا مقصد تو اخروی ابدی زندگی کا حصول ہے ۔ کیونکہ ہمارا آخرت پر ایمان ہے ۔باقی چیزیں ثانوی اور مصنوعی ہیں ۔عورت گھر کا مرکز ہوتی ہے تناور درخت اسکی جڑیں جتنی زمین کی میں گھیری ھونگی اتنا ہی درخت مضبوط اور توانا ھوگا ۔اسی طرح عورت اپنے خاندان سے مخلص ہو گی اتنا ہی اسکا گھرانہ مضبوط اور خوشحال ھوگا ۔

مالی و اخلاقی اور مذہبی طور پر نماز اور قرآن فحاشی شیطانی وسوسوں سے برائی سے بچا کر رکھتی ہے ۔ کیونکہ بچوں کا خلاق ان کی تربیت کی عکاسی ہوتی ھے ۔آج کی ماں تعلیم یافتہ ہے ۔مگر وہ نوکری کرنا اور آزاد رہنا پسند کرتی ہے ۔اپنے اسٹیٹس کے چکر میں وہ بچوں کو نوکروں کے سپرد کر دیتی ہے ۔تو اس کے بڑے برے نتائج سامنے آئیں ہیں بچے جھوٹ بولنے کو چوری کو اور دوسری اخلاقی برائیوں اور سب سے بڑا نوصان معو بائل ان کا ٹیرینر بن گیا ہے ۔جس ھماری آنے والی نسلیں تباہ ھوگئی ہیں . بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے جو وہ ماں سے سیکھتا ہے بیٹی ماں کا عکس اور بیٹا والد کا ۔ بچوں کو دونوں کی توجہ ضروری ھے والد ان کی جسمانی پرورش اور ماں ذھنی اور روحانی پرورش کی ذمدار ھوتی ہے ۔

بہت سی ڈاکٹر اور انجنئر خواتین نے جاب نہیں کی صرف بچوں کی ےعلیم تربیت کے لیے ہماری تعلیم کا کیا فائدہ اگر ہمارے بچے لائق نہ ھوں ۔انہوں نے اپنے کیریر کی بجائے بچوں کو اہمیت دی تو ان کا کامیاب گھرانہ خوشحال رہا نسبتسا”دونوں ورکنگ شوہر اور بیوی کے ۔بچوں کع پرئم وقت چاہیے ھوتا ہے جو ان کا حق اور تربیت کا خاصی ہوتا ہے ۔اور یہی مستحکم خاندان کا راز ہے ۔

Add Comment

Click here to post a comment