Home » کیٹ واک – صبا عبدالواحد
بلاگز

کیٹ واک – صبا عبدالواحد

وہ او-پی-ڈی کی انتظار گاہ میں بیٹھی اپنے نمبر کے آنے کا انتظار کر رہی تھی. مہوش اپنی فیملی ڈاکٹر سے اپنے طبعی معائنے کے سلسلے میں ہسپتال آئی تھی. اسے یہاں بیٹھے ہوئے 10 ہی منٹ گذرے تھے کہ ایک جوان اور خوبصورت لڑکی آکر اس کے برابر والی نشست پر بیٹھ گئی .

اس لڑکی کے گلے میں ایک کارڈ تھا اور ہاتھوں میں کچھ کتابیں تھیں بظاہر وہ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ لگ رہی تھی، بالوں میں اونچی پونی بنائے ہوئے تھی, دوپٹہ وی کے انداز میں گلے میں لٹک رہا تھا, ہلکے گلابی رنگ کی چھوٹی کرتی کے ساتھ اس نے بہت تنگ اسکن کلر کی ٹائٹس پہن رکھی تھی, جو پاؤں پر پاؤں رکھے بیٹھے ہوئے عجیب تاثر دے رہی تھی.. پجامہ اسکن کلر کا انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلی نظر میں دیکھنے پر ایسا لگ رہا تھا کہ مانو یہ کپڑا نہیں بلکہ اس کی ٹانگیں نظر آ رہی ہوں …… مہوش اس لڑکی سےنظریں ہٹانے ہی والی تھی کہ اس لڑکی کے برابر میں ایک نوجوان لڑکا آ کر بیٹھ گیا جو کہ حلیے سے اس کا کُلیگ یا پھر کلاس فیلو لگ رہا تھا اور پھر دونوں بات کرنے میں مشغول ہو گئے, مہوش نے اپنے چہرے کو دوسری طرف پھیرا اور گہری سوچ میں ڈوب گئی… اس نے خود سے دل ہی دل میں سوال کیا…

کیا یہ ایک مسلمان عورت کا لباس ہونا چاہیے !!!کیا آج کی عورت بے پردگی سے بھی دو قدم آگے یعنی بے حیائی کی طرف چلی گئی ہے!!!کیا بے پرگی شرط ہے جدید دور میں جینے کے لئے!!!
نہیں نہیں نہیں…
اللہ اکبر اللہ اکبر…

اس کی آنکھوں کے آگے حجاب کے لئے لڑتی ہوئی بیشر ممالک کی ان طالبات اور اعلی تعلیم یافتہ خواتین کی جدوجہد کا منظر آ گیا جو ایسے ممالک میں رہتی ہیں جہاں حجاب اور پردہ کرنا قانوناً جرم قرار دے دیاگیا ہے.لیکن وہ کالجوں, یونیورسٹیوں اور عدالت کے ایوانوں میں اپنی جان پر کھیل کر اپنے حجاب و پردے کے لئے لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتی ہیں, اور بعض تو اپنی جان بھی گواہ دیتی ہیں..گویا جیسے اس کے دل نے ہی جواب دے دیا ہو کہ وہ دیکھو وہ بھی تعلیم یافتہ لڑکیا ہیں, پابندی لگ جانے پر کیسے تڑپ اٹھی ہیں.. کونکہ وہ جانتی ہیں کہ حجاب اور حیا تو عورت کا زیور ہے, پردہ مسلمان عورت کی طاقت ہے,مسلمان عورت کی پہچان ہے,اللہ نے اپنی اس نازک تخلیق میں ایک بہت ہی مضبوط کردار چھپا رکھا ہے اور اسے بہت ہی اعلی ذمہ دار بنایا ہے, وہ حیا کی پاسدار ہے, وہ اپنی نسل کی کامیابی اور معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہے.

ہم تو بظاہرایک اسلامی ریاست میں رہتے ہیں . یہاں تو پردے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے.. پھر کیوں!!! کیوں آج کی عورت اتنی بے باک اور بے پردہ ہو گئی!!! کیوں آج ایک مسلم اور غیرمسلم عورت کے لباس میں فرق کرنا اتنا مشکل ہو گیاہے!!! اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بیٹیوں کو زندہ درگور کئےجانے سے بچا کر رحمت قرار دے دیا, ماں کی شکل میں عورت کے قدموں تلے جنت رکھ دی, بیوی ہونے کی حیثیت سے عورت کو شوہر کے ایمان کی تکمیل کا حصہ دار بنا دیا, ایسے ایسے اونچے مقام پر اللہ تعالی نے عورت کو فائز کیا ہے.. اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو دین اسلام کے ذریعے عورت کو وہ حقوق مرتبہ بخشا ہے جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے, پھر کیوں مسلمان عورت اللہ کے بتائے ہوئے راستے کو اللہ کے دیے ہوئے احکام کو چھوڑ کر شیطان کا آلہ بن بیٹھی ہے.

کیوں!!! عورت اپنا مقام بھول گئی ہے, کیوں!!!مسلمان عورت نے خود کو اتنا بے مول کر دیا ہے…مسلمان عورت ایک بہت مضبوط کردار ہے , وہ نمود و نمائش کا سامان نہیں ہے , وہ بد نظری کا دعوت نامہ بن کر نہیں گھوم سکتی,کیوں عورت اپنا مقام بھول گئی ہے!!! آخر عورت نے خود کو اتنا بے مول کیوں کر دیا ہے!!!نہیں نہیں یہ ترقی نہیں ہے یہ زلت و رسوائی کا راستہ ہے, یہ دھوکہ ہے جو آج ماڈرن اور لبرل ہونے کے نام پر عورت خود ہی خود کو دے رہی ہے…عورت اپنا تقدس اپنے ہی پیروں تلے روند کر اسے ترقی کا نام دے کر ایک ایسے خواب میں جی رہی ہے جس میں آنکھ کے کھلنے پر اسے محسوس ہوگا کہ اس نے خود کو کتنا کمزور اور بے مول کر دیا ہے … یہ دھوکہ ہے مہوش اختر یہ صرف گمراھی ہے.. عورت کی بے پردگی و بے حیائی اس کی اور پوری نسل کی سارے معاشرے کی تباہی وبر بادی ہے… مہوش اختر… مہوش اختر…

“جی جی میں ہوں مہوش اختر…”وہ اپنا نام سنتے ہی چونک کر گہری سوچ سے باہر آگئی.. چیک اپ کے لیے آجائںیں آپ کا نمبر آچکا ہے..