Home » قوموں کی عزت ۔۔۔۔۔ افشاں نوید
بلاگز

قوموں کی عزت ۔۔۔۔۔ افشاں نوید

وہ میں ہی تو تھی۔۔۔۔۔میدان جنگ تھا پیچھے کیوں رہتی!!اطلاع ملتی ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ چھ عورتیں غزوۂ خیبر میں شرکت کے لیے نکلی ہیں!مگر کس سے پوچھ کر؟؟سوال کیا جاتا ہے۔۔۔
حاضر کی جاتی ہیں۔۔سوال ہوتا ہے کس کی اجازت سے نکلیں ؟کیا کروگی میدان جنگ میں؟؟

سوال تو بجا ہے زندگی یا موت۔۔ گھمسان کارن پڑے گا۔۔خاک و خون۔۔۔ تیر اور نیزے،چمکتی تلواریں اور گھوڑوں کی ٹاپیں۔۔ سر پر کفن باندھ کر جاتا ہے مجاھد میدان جہاد میں۔۔ چھ میں کی چھٹی ام زیاد آگے بڑھتی ہیں۔ “اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ہم سوت کات کر مجاھدین کی مالی مدد کردیں گے۔۔ ہمارے پاس زخمیوں کی دوادارو،مرہم پٹی بھی ہے۔۔۔ اچھا ہم مجاھدین کو ستو گھول کر دے دیں گے۔ آپ سب لڑیں گے تو ہم تیر تھماتے جائیں گے۔۔۔”(بخاری شریف) ان معصوم خواہشوں ہر زندگی کی سب خواہشیں قربان۔۔ کتنے تو آپشنز رکھتی ہیں۔ پھر نہ روکی جاتی ہیں نہ ملامت کی جاتی ہیں۔ یہ جذبے تو صدیوں کا تسلسل ہیں۔

آج بھی ہم میں سے بہت سی سوت کات کر خاندانوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ گھر بسانے کے لیے خود اپنے زخموں کو بھی سیتی ہیں۔ پھر بھی اوروں کی دوا دارو سے پہلو تہی نہیں برتتیں۔۔ ستو بھی عورت ہی گھولتی ہے۔ مامائیں اور ماسیاں کب ماں کے ہاتھ کا ذائقہ رکھتی ہیں۔۔۔ کل خیبر کے میدان میں تیر تھمانے کی آرزو مند تھیں۔ آج بھی جہاد زندگانی میں چاھے باپ ہو یا شوہر بیٹا ہو یا بھائی حوصلہ تو ماں بہن بیوی اور بیٹی سے ہی پاتا ہے۔۔ وہی جذبے جوان رکھتی ہے۔۔ ہم خوب جانتی ہیں اپنا مقام و مرتبہ۔۔۔ام زیاد رضہ۔۔۔ آپ پر ہزاروں سلام ۔۔۔ آپ کے جذبے چودہ سو برس سے چھن کر ہم تک پہنچے ہیں۔۔ ہاں!ہم نے تو میدان جہاد تک میں اپنے مردوں کو تنہا نہیں چھوڑا ہے۔ ہم تو دائیں ہیں،بائیں ہیں آگے ہیں اور پیچھے ہیں اس لیے کہ ہم ام عمارہ ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

Add Comment

Click here to post a comment