Home » مقام ۔۔ زارا ثمین
بلاگز

مقام ۔۔ زارا ثمین

اسما نے سبزی کاٹتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا تو بچوں کے آنے کا وقت ہونے والا تھا۔ اس نے جلدی سے کچن کا رخ کیا۔ اس نے جلدی جلدی سالن چڑھایا کہ اس کی بہن کا فون آگیا۔ فون بند کر کے رکھنے لگی تو ڈھیر سارے میسجز پر نگاہ پڑی، دیکھنے پہ معلوم ہوا کہ آج اس کی شادی کی سالگرہ ہے۔ وہ مدھم سا مسکرا دی۔ کتنا وقت گزر گیا تھا نہ۔ دل اچانک ہی خوش ہونے لگا، اندر کا موسم اچھا ہو تو باہر بھی بہار سی چھا جاتی ہے۔ اس نے خوامخواہ ہی کھانے میں کھیر کا اضافہ کرنے کا سوچا کہ شوہر محترم کو بہت پسند تھی۔

ارم نے غصے سے فائل ٹیبل پر پھینکی۔ آج تیسرا روز تھا مینیجر نے اسے دوبارہ سے کام کرنے کا کہہ دیا تھا۔ اس کا سر شدید دکھ رہا تھا تبھی سارہ ہاتھ میں کافی کے دو مگ اٹھائے نظر آئی۔ ” مجھے پتہ تھا تم یوں ہی سر پکڑے بیٹھی ہوگی۔” سارہ نے کافی کا مگ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔ ” یار، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، کل اس کام کے چکر میں میری علی سے بھی لڑائی ہوگئی، میں نے اسے بھی کہہ دیا کہ اگر اس نے مجھے جاب نہ کرنے دی تو میں اپنے گھر چلی جاؤں گی۔” اس نے رنج سے کہا۔ ” تمہیں کیا مل رہا ہے آخر،جب علی بھائی تمہیں کہتے ہیں کہ تم جاب نہ کرو تو تم کیوں خود کو مشکل میں ڈالتی ہو” اس نے افسوس سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ “سارہ پلیز مجھے لیکچر مت دینا، میں ایم بی اے اس لئے نہیں کیا تھا کہ گھر بیٹھ کر ہانڈی روٹی اور بچے پالنے میں اپنی زندگی ضائع کر دوں۔” ارم نے ماتھے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے نخوت سے کہا اور کافی کا مگ تیز لال رنگ کی لپسٹک سے رنگے ہونٹوں سے لگایا۔ سارہ چپ ہوگئی۔ سارہ ایک غریب گھر سے تھی، والد کی وفات کے بعد کوئی بھائی نہ تھا، اس لئے اسے جاب کرنی پڑی۔ ارم سے اس کی دوستی جاب کے دوران ہی ہوئی تھی، ارم ایک ماڈرن فیملی سے تھی۔وہ ایک کیرئیرسٹ لڑکی تھی لیکن جاب اور گھر میں گھن چکر بن کر رہ گئی تھی۔
____
اسما بچوں کو کھانا کھلا کر دوپہر میں سلانے کیلئے لیٹی تو دماغ میں بیتے سال ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ اسے یاد تھا ابھی اس نے گریجویشن کے پیپرز ہی دئیے تھے کہ اس کا رشتہ آگیا تھا۔امی ابو نے نیک اور صالح لڑکے کو دیکھ کر ہاں کرنی چاہی تو اس سے مرضی معلوم کی، جس پر اس نے رضامندی کا اظہار کردیا۔ اس کی زندگی کے یہ چند سال بہت خوبصورت گزرے تھے، لڑائی جھگڑے روٹھنا منانا تو تھا ہی، لیکن کبھی وہ خاموش ہو جاتی تو کبھی دوسری طرف سے سکوت اختیار کر لیا جاتا۔
____
ارم گھر میں داخل ہوئی تو بچوں کے کمرے سے آتی آوازوں پر رک گئی۔ یہ اس کی نو سالہ بیٹی سنبل اپنی گیارہ سالہ تایا زاد بہن عافیہ سے بات کر رہی تھی جو ساتھ والے گھر میں رہتی تھی۔”نہیں آپ غلط بتا رہی ہو،تمہاری ٹیچر کو نہیں پتہ ہوگا۔” سنبل نے زور سے کہا۔ “پیاری بہن! یہ تو حدیث ہے الجنۃ تحت الاقدام الامہات، دیکھو امی ہمارے اتنے سارے کام کرتی ہیں ہمارے لئے کھانا بناتی ہیں، ہمارے بال بناتی ہیں، ہم۔سے پیار کرتی ہیں، اس لئے ہمیں اپنی کی عزت کرنی چاہیے اور ان سے بہت محبت کرنی چاہیے۔” عافیہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ لیکن سنبل کے جواب نے عافیہ کو ہی نہیں بلکہ باہر کھڑی ارم کو بھی اپنی جگہ پر ساکت کر دیا۔” عافیہ باجی! آپ کو پوری ٹھیک بات نہیں پتہ، میری جنت تو میڈ کے پاس ہے، کیونکہ ہمیں تو کھانا بھی میڈ دیتی ہے اور سکول کی تیاری بھی وہی کرواتی تھی، ہے نہ؟ ”
____
سارہ نے گھر میں داخل ہو کر نقاب اتارا اور امی کی گود میں سر رکھ لیا۔ وہ بہت حوصلہ مند لڑکی تھی لیکن آج ارم کی باتوں سے وہ پریشان ہوگئی تھی۔ “سارہ بیٹی نماز تو پڑھ لو میری بچی، پھر میں کھانا لگاتی ہوں تمہارے لئے” ناہید نے سلائی مشین کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔ ارم نے سر ہلایا اور کمرے میں چلی گئی۔ سجدہ کرنے کی دیر تھی کہ اس کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ ہچکیوں سے رو پڑی۔ دل کا بوجھ آنسوؤں کی صورت میں نکل گیا تو اس نے سر اٹھایا۔ کھانا کھا کر اس نے چھوٹی بہنوں سے کچھ دیر باتیں کی اور پھر امی کے پاس چارپائی پر بیٹھ گئی۔ “امی….!” وہ بولی۔ “ہاں میری بچی تو کیوں پریشان ہے؟” وہ ایک جہاندیدہ خاتون تھیں، انہوں نے اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔”امی اگر ابو اتنی جلدی نہ چلے جاتے تو میں کبھی جاب نہ کرتی، میں مجبور ہوں، لیکن امی عورتیں کیوں جاب کی خاطر اپنا گھر برباد کرنے پر آجاتی ہیں؟” اس نے سرخ چہرہ لئے کہا۔”سارہ تمہیں پتہ ہے نہ کہ ہمارے معاشرے میں مغرب کی اندھی تقلید کرنے والے خود کو محترم سمجھتے ہیں،

اور مغرب نے اس ضمن میں سب سے زیادہ بے وقوف عورت کو بنایا ہے۔” انہوں نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔”لیکن امی عورت کیسے بیوقوف ہوسکتی ہے وہ تو آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے؟” اس نے نا سمجھی سے کہا۔ناہید سارہ کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے کہنے لگی، “بیٹی عورت کو سب سے زیادہ آزادی اسلام نے دی ہے، یہ پیسے کمانا تو مرد کا کام ہے وہ کیونکر اس میں آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے، اب دیکھو عالیہ میٹرک کر رہی ہے تو کیا وہ چاہے گی کہ کوئی او لیولز میں ٹاپ کر لے، نہیں نہ, تو یہی بات یہاں بھی ہے۔” ” یعنی عورت نے خود ہی خود کیلئے مشکلات کھڑی کر لی ہیں، وہ خود ہی پابند ہوگئی ہے” اس نے دھیرے سے بولا۔” تم ٹھیک سمجھی ہو میری بچی، اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے، بس تم بھی باہر نکلتے ہوئے خود کی بہت حفاظت کیا کرو” انہوں نے سارہ کی پیشانی چوم کر کہا۔
_____
رات کے کھانے کے بعد اسما نے کھیر کا باؤل ٹیبل پر رکھا تو ارسلان نے کہا”واہ، بیگم آج تو لگتا ہے کوئی خاص بات ہے۔” ” جی جناب آج ایک خاص دن ہے، ذرا تاریخ تو دیکھئے۔” اس نے شرارت سے ہنستے ہوئے کہا۔”ارے ارے، ملکہ عالیہ آج تو ہمارا تاحیات قید ہونے کا دن ہے۔” ارسلان نے موبائل نکال کر تاریخ دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا۔” اب تو ہوگئے آپ قید،امی ابو اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں، آپ یہ کھیر کی ٹرے وہیں لے جائیں میں بھی آتی ہوں۔” اس نے ساس سسر کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ارسلان کے جانے کے بعد وہ سوچنے لگی کہ واقعی اس کا گھر ہی اس کی جنت ہے۔ اس نے ایک مطمئن سی سانس بھری۔ ” بیٹی آ بھی جاؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں” ساس کی آواز پر اس نے کمرے کی جانب قدم بڑھائے۔
_____
اگلے روز سارہ دفتر گئی تو ارم غیر حاضر تھی، وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ارم کا فون آیا اس نے کال پک کر کے فون کان سے لگایا، دوسری طرف سے ارم بولتی ہی جا رہی تھی اور سارہ پر تو جیسے خاموشی چھا گئی۔ وہ آفس سے چھٹی لے کر ارم کے گھر پہنچی۔” ارم تم سوچ نہیں سکتی میں کتنا خوش ہوں تمہارا فیصلہ سن کر” سارہ نے سلام کے بعد ارم سے پرجوش طریقے سے گلے ملتے ہوئے کہا۔” ہاں کیونکہ میں جان گئی ہوں کہ رب کی مرضی میں ہی تمام حکمتیں پوشیدہ ہیں” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔”واہ بھئی، یہ تبدیلی تو بڑی اچھی ہے” سارہ نے ہنستے ہوئے کہا۔” تمہیں پتہ ہے ارم مجھے سمجھ آگئی ہے کہ میری اصل جگہ کیا ہے اور میرا اصل کام کیا ہے۔” اس نے سر ہلا کر جواب دیا۔” بس یہ ادراک ہی تو لازم ہے،میں تمہارے لئے بہت خوش ہوں، لیکن یہ سب ہوا کیسے” سارہ نے خوشی سے کہا۔” آؤ کچن میں چلتے ہیں، میں چائے بھی بنا لوں ساتھ ساتھ پھر بتاتی ہوں” ارم نے جواب دیا۔” نیکی اور پوچھ پوچھ، چلو” سارہ نے جواب دیا۔

Add Comment

Click here to post a comment