Home » سفرِ تاریکی – افرا ٕ انصار
بلاگز

سفرِ تاریکی – افرا ٕ انصار

ہردم روشنیوں کا شہر….. ہمارا شہر کراچی جو لاکھوں لوگوں کو روزگار، تعلیم اور کاروبار کی سہولت فراہم کرتا ہے ایک بار پھر چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا گڑھ بنا دیا گیا۔ جان مال عزت آبرو کچھ محفوظ نہیں ہے۔ دن دہاڑے ہو یا رات…. سنسان جگہ ہو یا رش کہیں بھی اب لوگ محفوظ نہیں ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ میں سات ہزار سے زائد ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی وارداتیں کی گئی۔ جس میں متعد افراد زخمی اور کچھ جان کی بازی ہارگئے۔ آئے دن چھوٹی بڑی وارداتوں کا سننے میں آتا ہے لیکن حال ہی میں ایک صحافی اطہر متین کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ کورنگی کازوے پر ناکہ لگا کر ڈاکوٶں کے آٹھ رکنی اسلحہ سے لیس گروہ نے سو سے زائد شہریوں سے لوٹ مار کی جس میں عورتوں کے ساتھ بدتمیزی اور زیورات کی چھینا جھپٹی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ اتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کوئی عام بات نہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ پولیس اہلکار کہاں سو رہے ہیں کیا عوام کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔کیا سارے سیکیورٹی حکومت اور ان سے منسلک افراد کے لیے محدود ہے۔ عوام الناس کس کا دروازہ کھٹکھٹائے؟ اتنی بھاری مقدار میں ٹیکس دینے والا شہر پہلے ہی کئی مسائل سے دوچار ہے اور اب یہ لوٹ مار شہریوں پر ایک عذاب کی طرح ہے۔ کیا اس شہر کا کوئی پرسان حال ہے؟ آخر میں میں حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا ایک رحم کی نظر شہر قاٸد پر بھی ڈالے اور زبانی دعووں سے ہٹ کر کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائیں۔