Home » خواتين کے حقوق اسلامی نظام میں – مدیحہ مدثر
بلاگز

خواتين کے حقوق اسلامی نظام میں – مدیحہ مدثر

ایک طرف ہم آج کے معاشرے کو روشن خیال اورماڈرن دور کے نام سے پکارنا پسند کرتے ہیں اور جو کوٸی بھی اسلامی نظام کی بات کرتا ہے ہم کہتے ہیں کے یہ جاہلوں والی باتیں ہیں ہم اکیسوی صدی میں جیرہے ہیں روشن خیالی اپنانی چاہٸے اور تیزی سے میڈیا کے زریعے اس روشن خیالی کے پیغام کو عام کیا گیا اور لوگوں کے دماغوں میں بھر دیا اور اب جبکہ اس روشن خیالی کی آگ نے پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اثرات نظر آنے لگے تو تو اس کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

میانوالی میں ہونے والا واقع باب نے پیٹی کی پیداٸش پر نومولود کو مار ڈالا اب اس واقعہ پر بھی ان نام نہاد خواتین کے حقوق کے علمبرداروں نے اچھلنا شروع کردیا جبکہ یہ واقعہ تو ہے ہی ان روشن خیالوں کے دور جاہلیت کی دی گٸی تعلیم کا نتیجہ کیونکہ اسلام کی آمد سے قبل بھی یہی سب کچھ ہوا کرتا تھا کسی بیٹی کو زندہ رہنے کی اجازت نہیں تھی اور اگر کچھ بچ جاتیں تو باندی غلام سے بڑھ کر کچھ نا تھیں پھر اسلام نے ہی عورت کو حقوق بھی دیٸے زندہ رہنے کا حق بھی دیا اور ماں جیسا مقام دیا جس کے پیروں کے نیچے جنت رکھی ، بیوی کا مقام دیا جس کو شوہر کی جاٸداد کے ساتھ ساتھ دل کا بھی حصہ دیا اور وہ مرد جو پہلے عورت کو صرف اپنی حوس کے لٸے استعمال کرتے تھے وہ شوہر کے رشتے کے ساتھ بیویوں کے زمہ دار اور محافظ بنادیٸے گٸے پھر باپ اور بھاٸی کا محبت اور ادب و احترام بھرا رشتہ بھی اس اسلام کی ہی بدولت عورت کو ملا جبکہ پہلے یہی باپ بیٹوں کو زندہ دفنا دیتے تھے۔ پھر کسی کم عقلی ہے یہ آج اگر کوٸی عورت کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے تو اسے اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ یہ عورتوں کے حقوق کے بڑھ چڑھ کر آواز لگانے والی مغربی تہذیب ہی ہے جہاں روزانہ کٸی عورتوں کا ریپ ہوجاتا ہے جہاں عورت کو نا ہی ماں کا مقام حاصل ہے نا ہی بیوی کا یا تو شادی ہی نہیں کی جاتی یا ہو بھی جاٸے تو زیادہ عرصہ چلنا مشکل ماں باپ کو اولڈ ہاوس میں ڈال دینا کو معیوب بات نہیں جہاں بیٹی باپ سے اور بہن بھاٸی سے محفوظ نہیں-

لیکن اللہ کا کرم ہے کے پاکستان میں آج بھی بڑی تعداد ایسی ہے جو جھوٹے نعروں میں نہیں آتی اور اسلامی قوانين کے قاٸل ہے آج جبکہ دنیا میں جھوٹے حقوق کے نعروں کی گونج ہے تو یہاں کی عورت ”محفوظ عورت، مضبوط خاندان، مستحکم معاشرہ “ کی آواز بلند کررہی ہے اور یہی ہماری تہذیب کی بنیاد ہے ۔