Home » میری حیا میری جنت – ریطہ طارق
بلاگز

میری حیا میری جنت – ریطہ طارق

آمنہ کو آج چوتھا روز تھا اس محاذ کا۔۔۔استقامت کے ساتھ وہ عزم و حوصلے کے ساتھ اماں کے مد مقابل کھڑی احتجاجاً بریانی کی تین پلیٹوں کا صفایا کرچکی تھی۔لیکن اماں تھیں کہ مجال ہے انکے کان پر جوں بھی رینگے،ابا نے تو خیر سے اپنے حجرے میں ایسی پناہ لی تھی کہ باہر بھولے سے نکلنے کا بھی سوچنا درکنار جان بوجھ کر بھی پورے مشن امپوسیبل کی مووی کے کرداروں کی طرح نکلتے،گھر کے در و دیوار بھی دیکھ نہ سکتے تھے،ایسی نقل و حرکت کو،بھائ صاحب نے بھی ایسی چپ سادھ لی تھی کہ توبہ کبھی جو ایک لفظ کا لمحہ بھر امکان ہو،آمنہ کا پارہ اس چوتھے روز ایک سو پانچ سے تجاوذ کرنے لگا تھا۔

وہ ہر جتن کرچکی تھی کہ اپنی سہیلی کی بہن کی شادی پر شاندار برینڈڈ لہنگا خرید لے،مگر اس نیک ارادے(جو اس کی خیالی انڈسٹری میں ٹاپ آف دی ورلڈ تھے)کو وہ گھر والوں کی جارحانہ سوچ(جو ہمیشہ سے میرے خوابوں کے روایتی دشمن ہیں)کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا پارہی تھی،اب اسکے پاس ایک خالہ جان کا آسرا ہی بچا تھا،لے دے کر سارے دکھوں کی دوا کا سپر اسٹور خالہ جان جو آمنہ کے بچپن سے لے کر ٹین ایجز کے سفر میں ایک سہیلی سے کم نہ تھیں،بس ایک ہی مسئلہ اسکو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا کہ خالہ جان نے اپنی مصروفیت نجانے کن خواتین کی صحبت کے سپرد کردی ہے،وہ اسی خیال میں اٹھی،فون پر نمبر ملایا،دوسری طرف خالہ تھیں۔وہ سلام دعا کے بعد کہنے لگی،”خالہ مجھے آپکے پاس آنا ہے ایک مسئلہ درپیش ہے،”خالہ بھی فورا ملنے کے لیے کہہ کر آنے کا دن اور وقت طے کرنے لگیں۔اگلی شام ذرا جب دھوپ آنگن میں پڑے پودوں پر ہلکی ہلکی کم نظر آنے لگی اور شام کی سرخی بڑھنے لگی،تو آمنہ اور خال جان ایک ساتھ بیٹھ کر چائے کے مزے لینے لگیں،تب ہی آمنہ جو بہت دیر سے اپنے دل میں صبر کیے بیٹھی تھی،بولی،” خالہ جانی!اماں اور کوئ بھی مجھے میری دوست کی بہن کی شادی پر لہنگا پہننے کے لیے نہ اجازت دے رہا اور نہ مجھے خریدنے دے رہا ہے،بھلا ایسا کونسا بجٹ بتادیا ہے،ہم وہی پرانے زمانے کے لوگ ۔۔۔۔۔۔سادگی کے ساتھ جینے والے۔ ۔۔۔۔جدید دور ہے اسکے اپنے تقاضے ہیں۔۔۔

خالہ جان جو اسکی بات غور سے سن رہی تھیں بولی,”ہاں بلکل جدید دور کے جدید تقاضے ہیں،”اپنی دوست کی بہن کی شادی بے شک بہت خوشی کی بات ہے،مگر ہمارا پیسہ جو اللہ نے ہمیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے،اس خرچ کا انتخاب تمہارا اصل امتحان ہے،اول تو وہ تو تمہاری بہن کی شادی نہیں ہے،دوم وہ کسی شرعی حکم کے تابع نہیں یعنی اسمیں گیدرنگ مکس ہوگی،اور تمہاری زینت ہر محرم کی نظر میں محو تماشہ ہوگی،،،آمنہ جلدی سے بولی،”یہ کونسی باتیں آپ کررہی ہیں،میری تمام سہیلیاں اسکارف پہنتی ہیں،مگر شادی کی تقریب میں کبھی کبھی تو پہننا اوڑھنا ہوتا ہے،سب بہت مہنگے مہنگے لہنگے پہن کر آئیں گے،اور میں ۔۔۔اسنے اپنی شکل کا ایسا نوشی کھینچا،جیسے اس سے بڑا مظلوم انسان دنیا میں کوئی بھی نہیں،خالہ بولیں، “جب تم کسی شادی میں جاؤ تو حجاب کے ساتھ اپنی ڈریسنگ کروگی۔۔۔۔۔پتہ ہے آمنہ۔۔۔۔پھر کتنی جدت آئے گی؟۔۔۔۔ آمنہ نے سر بھی نہ ہلایا،گویا خالہ کی بات کو نظر انداز کررہی ہو،جبکہ کان تو کھلے ہی تھے اور خالہ جان بھی بلا کی اس ڈھٹائی طبیعت سے بچپن سے واقفیت رکھتی تھیں ،

تبھی بولیں ۔۔،”جو سر ننگا ہوگا,تو بھلا کون دیکھے گا،،،،شیطان بھری آنکھیں،یا وہ آنکھیں جو انہیں عریانی کو محبوب رکھتی ہونگی،باحیا بنکر پورا ستر ڈھانپ کر شرکت کرنے والی آمنہ جب اپنی سہیلیوں کے سامنے ہوگی تو وہ اپنی چال ڈھال اپنی شرم سے سب کو وہ معیار بتائے گی جو آج کے ہر فیشن پر بھاری ہے،سب سے قیمتی موتی۔۔۔۔آمنہ سن رہی تھی مگر ظاہر کررہی تھی کہ اسکو کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔خالہ جان نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔،”تم پر برینڈڈ لہنگے سے بھی کہیں زیادہ ہیرے اور سونے کے لباس کی ضرورت ہے،پتہ ہے یہ برینڈڈ ہزاروں لاکھوں خرچ کرنے والے ماں باپ تم پر آج بھی سب لٹادیں گے لیکن تمہاری قیمتی حیا تم سے چلی جائے گی،پھر جسکے پاس سے حیا چلی جائے،وہ نہ رب کی نہ ماں باپ کی ۔۔۔۔۔آمنہ نے جھانک کر خالہ جان کی آنکھوں میں دیکھا،کہ وہ بہت سکون سے اپنی بات کہے جارہی تھیں،پھر بولی،”اچھا ٹھیک ہے میں حجاب کے لونگی،مگر میرا لہنگا،خالہ جان بولیں ،” ہم چل کر خرید لیتے ہیں،مجھے تمہاری ڈگری کی خوشی میں کچھ تو دینا ہی ہے،

یہ کہنا تھا کہ آمنہ خوشی سے پھولے سمانے لگی۔اگلے دن خالہ جان اور آمنہ تھک ہار کر بازار سے گھر پہنچے ہی تھے کہ اماں ٹوٹ پڑیں،”اب تم بگاڑ رہی ہو،خالہ ہونے کا مطلب بگاڑنا ہے،اتنا مہنگا لہنگا وہ بھی دوست کی بہن،آمنہ کے ابا بھی ناراض ہونگے۔۔۔۔خالہ جان بولیں،”اسکی خواہش ہے،وہ میرے طریقے سے پہنے گی،ان شا اللہ۔۔۔۔۔۔آمنہ کے نے چونک کر دیکھا،”مگر خالہ جان!یہ کب طے ہوا کہ میں آپکے طریقے سے پہنونگی؟خالہ جان بولی،”میرے طریقے سے ہی پہنوگی،تم جب میرے طریقے سے ڈریسنگ کروگی تو تم خود دیکھنا کہ کیسا محسوس کرتی ہو،اپنے دل میں جھانکنا۔۔۔۔۔۔،اگلے روز جب بھائ صاحب آنے کو تھے پورے دس منٹ پہلے وہ مکمل تیار تھی۔۔۔۔بھائ صاحب سے طے ہوا تھا کہ وہی اسکو پک اینڈ ڈراپ کریں گے۔وہ تذبذب کا شکار تھی،کہیں سے لہنگا نظر نہ آتا تھا،چار طرف اس نے اپنے مکمل لبادے کو چادر سے ڈھانپا کر سر پر مکمل اسٹال سے ڈریسنگ کی تھی گویا اسکی آنکھیں ہی دیکھی جاسکتی تھیں،سوچا تو بہت پھر خیال آیا کہ ابھی حجاب کرلیتی ہوں ،شادی میں جاکر اتار دونگی،ویسے بھی وہاں کون دیکھ رہا ہے؟,,

اتنے میں بھائی صاحب آچکے تھے باہر سے ہارن کی آواز تواتر آرہی تھی،وہ بھاگی اور گاڑی میں بیٹھ گئ،وہ آفس سے آکر پہلے ڈراپ کرنا چاہتے تھے،تاکہ واپس گھر آکر فریش ہوکر آمنہ کو واپس لینے جاسکیں،آخر انکو بھی بہن کی دوست کی تقریب کی آٹھ دن سے اطلاع تھی،یوں یہ ذمہ داری “لے جانے والی” انکے کاندھے پر آن پڑی تھی۔۔۔۔وہ بہت خوش تھی،آج اسکی خواہش کی تکمیل جو ہونے جارہی تھی،مگر اس خوشی کے ساتھ اسکا دل کسی بے چینی کا شکار تھا،جو اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔ وہ اندر داخل ہوئے اور اندر کچھ فاصلے پر اپنی سہیلیوں کو دیکھنے لگی،تب ہی اسکی نظر پاس کھڑے کچھ اجنبی مرد حضرات پر پڑی،جو لگاتار اسکی بنی سنوری سہیلیوں کو بغور دیکھ رہے تھے،اسکو یہ سب بہت عجیب سا لگا تبھی اسکے کان میں وہی خالہ جان کی آواز آنے لگی،قیمتی لوگ،نیک مرد نیک عورتوں کے ساتھ ہونگے،اور کس کے بدلے ہمیں ہیرے سونے چاندی کے لباس پہنائے جائیں گے،،اسکا سر گھوم رہا تھا،اس سے حجاب نہ اتارا گیا،وہ وہیں ساکت کھڑی رہی،اسکی آنکھوں سے آگ نکل رہی تھی،

وہی جو عشق کی ہوتی ہے،عشقِ حقیقی کی،شاید کوئی چنگاری خالہ جان نے اسکے دل میں لگائی تھی،وہ اب آگ بن گئی تھی، آنکھوں کے طاقچوں سے جھانکتے نور کے شرارے اسکی ردا پر آپڑے تھے، برف کی صلیب پگھل کر ضمیر کے سمندر میں تحویل ہوچکی تھی۔۔۔کونسا برینڈڈ لہنگا،کونسی تیاری۔۔۔اسکو کچھ یاد نہ تھا۔۔نفس کے شرمیلے تصادم اسکو اپنی لپیٹ میں لیے تھے ۔۔وہ سارے مناظر گھومتے رہے،شادی کی تقریب نہ تھی،عورت کی عصمت کی بے حرمتی کی رونمائی تھی،دلہن اسکی دوست اسٹیج ہر بیٹھی تھی،چار اطراف کیمرہ مین کی شیطانی قوتیں اپنی بہترین زمہ داری نبھارہی تھیں مگر اس لگژری دلہن کے جوڑے میں کہیں بھی نور کا شائبہ نہ تھا،فحش عریانی کی سج دھج نے اس دلہن کو بے حیائی کا نمونہ بنادیا تھا،ہر نا محرم کی نظر نے پاکیزگی کو خیر باد کہہ دیا تھا،آمنہ کی آنکھیں پر نم تھیں خوشی سے دمکنے والے چہرے کو اس نے چھپا رکھا تھا،جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔۔۔۔

دوستیں سب کیا کہتی رہیں،اسکی باپردہ وجود کو آج کوئی بات اثر انداز نہ کرتی تھی،وہ ساری شادی ایسے ہی ایک پوشاک میں گزار دی گئی،کوئی نقصان نہ ہوا،تجارت ہوچکی تھی،خدا کی چاہت اور وفا کی پریزنٹیشن ہوچکی تھی, اس کے دل پر کوئ بوجھ نہ تھا،کونسا خمار تھا،یہ کونسا نشہ تھا،وہ نہیں جانتی تھی،بس جانتی تھی تو فقط اتنا کہ حیا اسکا ایمان ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ ماڈرنزم کی سب سے بڑی مثالی کردار ہے.

Add Comment

Click here to post a comment