Home » شجرِ سایہ دار – افرا ٕ انصار
بلاگز

شجرِ سایہ دار – افرا ٕ انصار

”عشال خدا کا واسطہ ہے اپنے کام وقت پر کیا کرو تم جس طرح کی حرکتیں کرتی ہو نا سسرال میں ایک دن نہیں ٹِکو گی“۔ عینی نے اسے ٹوکا عشال اور عینی نہ صرف بہنیں تھی بلکہ بہت اچھی دوست اور ایک دوسرے کی ہمراز تھیں۔ عینی کچھ دن کے لیے اپنے میںکے عشال کی شادی کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی۔

” توبہ ہے تم بس ہر وقت سسرال لے کر بیٹھ جاتی ہوں یار مجھ سے یہ سب ہینڈل نہیں ہوتا“ بابا آپ سمجھاٸیں ماما اور عینی کو ہر وقت مجھے سسرال میں رہنے کے طریقے بتاتی رہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عشال بڑے پیار سے اپنے بابا کے بغل گیر ہوٸی۔ حماد صاحب نے بھی اپنی لاڈلی بیٹی کو ماتھے پر بوسہ لیا۔” تم لوگ میری چھوٹی کو کیا کیا سکھاؤ گے بس کر دو پیچھا چھوڑ دو میری بیٹی کا چلو آؤ میں تمہیں شاپنگ پر لے جاتا ہوں تم نے کہا تھا نہ کہ کچھ ضروری سامان خریدنا ہے“۔ عشال عینی کو منہ چڑا کر وہاں سے نکل گئی۔عشال اور عینی کی والدہ امینہ بیگم ایک نہایت سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ان کی صرف دو بیٹیاں عشال اور عینی تھیں۔ وہ اپنی بیٹیوں کو معاشرے کے ہر طور طریقے اور سلیقے سکھانا چاہتی تھیں۔ عینی تو ہو بہو ماں کا ہی عکس تھی اور سسرال میں بھی سب کے لیے بہت عزیز تھی کیونکہ اس نے جس طرح اپنی ازدواجی زندگی کو بھرپور طریقے سے نبھایا بہت کم عرصے میں ساس اورنندیں اس کے گن گانے لگی تھیں۔ مگر عشال کو باپ کے لاڈ پیار نے بہت لاپرواہ بنا دیا تھا۔ اسے گھر کے کاموں سے کچھ خاص دلچسپی نہ تھی۔ میگزین فیشن اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہی اس کا مشغلہ تھا۔

”عینی دیکھو بابا نے مجھے اتنی ساری شاپنگ کرواٸی ہے۔ مزہ آ گیا آج تو“۔ عشال تمہیں پتا ہے سسرال میں یہ سب نہیں چلتا جب تک بابا کے گھر ہو ایک آزاد زندگی گذار رہی ہو سسرال میں ذمہ داریاں ہوتی ہیں وہاں ہر وقت اپنی مرضی نہیں ہوتی۔”اُف اوہ تم تو بس ایسی ہی باتیں کرتی ہو یار تم دیکھنا میں وہاں بھی ایسے ہی رہوں گی تمہیں پتا ہے مجھ سے یہ کام وام نہیں ہوتے“ یہ بولتے ہی عشال وہاں سے اٹھ کر موبائل ہاتھ میں لیے نکل گئی۔”ماما آپ عشال کو سمجھایا کریں کہ شادی کے بعد لائف میں بہت کچھ بدل جاتا ہے اس طرح تو وہ کیسے رہے گی“۔ عینی نے فکر مندی سے کہا۔” عینی میں اس سے بہت بار کہہ چکی ہوں لیکن تمہارے بابا کے بےجا لاڈ پیار نے اسے بہت بگاڑ دیا ہے۔ بس اب تو اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ سسرال میں اچھے سے رہے“۔وقت گزر گیا اور عشال کی شادی کا دن آگیا۔ اپنی شادی کے دن عروسی لباس پہنے حددرجہ حسین لگ رہی تھی۔ حماد صاحب نے اپنی لاڈلی بیٹی کے نکاح کی تقریب میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رکھی ۔ایسی شاندار تقریب کا انتظام کیا گیا کہ ہر دیکھنے والا تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔

اب ایک نئی زندگی اس کی منتظر تھی۔ شروع میں تو سسرال میں خوب ناز نخرے اٹھائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عشال کے آگے ذمہ داریاں آئیں تو وہ بہت پریشان ہو گئی۔ اب ساس اور نندوں کے طعنے اور شوہر جس پر عشال کو بہت ناز تھا اب آہستہ آہستہ عشال کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پریشان ہو گیا اور آٸے دن جھگڑے ہونے لگے۔ ٹھک ٹھک کی آواز پر یکدم عشال کی آنکھ کھلی۔ اٹھتے ہی موبائل میں وقت دیکھا دوپہر کا ایک بج رہا تھا باہر سے مستقل کوئی دستک دے رہا تھا۔ بمشکل اپنے آپ کو سنبھالتی دروازے تک آئی اور دروازہ کھولا۔ اس کی ساس دروازہ کھولتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔ ”وقت دیکھا ہے میڈم آپ نے دن چڑھ گیا ہے اور آپ ابھی بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں“۔ عشال کو غصہ تو بہت آیا اور اسے شدت سے اپنے بابا کی یاد آئی۔ ان کے جانے کے بعد عشال نے دروازہ بند کیا اور اپنے بابا کو کال کی۔ جیسے ہی حماد صاحب نے کال اٹینڈ کی عشال نے کچھ کہے بغیر رونا شروع کر دیا۔ حماد صاحب نے اسے بمشکل خاموش کروایا۔ ” بابا میں گھر آ رہی ہوں آپ گاڑی بھیجیں“۔اور یوں عشال اپنے میکے آ گئی۔امینہ بیگم اس ساری صورتحال سے بہت پریشان ہو گئی اور عینی کو ان سب سے آگاہ کیا۔

عینی نے فوراً ہی اپنے شوہر سے اجازت لی اور ایک بار پھر اسلام آباد سے کراچی اپنے میکے آئی۔ اور گھر آتے ہی ماں نے اسے ساری صورت حال بتائی جس پر عینی کو بہت افسوس ہوا۔عشال کمرے میں میگزین لیے بیٹھی تھی جب عینی کمرے میں آئی۔ عینی پر نگاہ پڑتے ہی اس نے اپنا رخ پھیر لیا اور اپنی توجہ میگزین کی طرف کرلی۔” عشال تم ایسا کیوں کر رہی ہو ہو احد سے ڈائیورس کیوں لینا چاہتی ہو؟ احد بہت اچھا لڑ کا ہے۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا شادی کے بعد اپنے آپ کو چینج کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں پتا ہے اسطرح تم خود اپنی زندگی خراب کر رہی ہو“۔” پلیز تم یہاں سے چلی جاؤ ہزار دفعہ کہا ہے یہ لیکچر مجھے مت دیا کرو۔ جب بابا کو اعتراض نہیں ہے تو تم بھی اس بات سے دور رہو ویسے بھی یہ میری لائف ہے“۔ عینی کو عشال کی اس بات پر بہت دکھ ہوا وہ تو اسے جان سے بھی زیادہ چاہتی تھی۔” عشال ایک بات یاد رکھنا جب تک بابا کا سایہ سلامت ہے زندگی میں بہاریں ہیں لیکن ان کےبعد زندگی بڑی تلخ ہوجائے گی۔ اس لیے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا“۔اگلے دن صبح فجر کی نماز کےبعد جب امینہ بیگم حسبِ معمول حماد صاحب کےلیے چاۓ لے کر ان کے کمرے میں گٸ تو وہ نیم بیہوشی کی حالت میں تھے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے عینی کو آواز لگاٸی۔ کچھ ہی دیر میں انہیں ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں پہنچا دیا گیا۔ فوری طبی امداد کی وجہ سے جان تو بچ گٸی۔

لیکن دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سےڈاکٹرز نے مکمل آرام کا مشورہ دیا۔ محلے اور خاندان کے لوگ مستقل عیادت کے لیے آتے رہے۔ ہر آنے والے کی زبان پر عیشال کے حوالے سے گفتگو ہوتی ۔”امینہ بیگم لگتا ہے حماد بھاٸی کو اپنی لاڈلی بیٹی کے گھر واپس آنے کا غم لگا ہے۔ورنہ کچھ دن پہلے تک تو ٹھیک تھے“۔ یہ سنتےہی عیشال کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گٸی۔ عینی اس کے پیچھے گٸ اور جب کمرے میں داخل ہوٸی تو دیکھا عیشال تکیے میں منہ چھپاۓ رو رہی ہے۔ عینی نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اس کے قریب بیٹھ گٸی۔ ”عیشال میں نےتم سے کہا تھا نہ کے باپ کے بعد زندگی کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ ابھی تو ہمارے بابا سلامت ہیں پھر بھی لوگوں کی باتیں تم سے برداشت نہیں ہو تی۔“عینی کے جانے کے بعد عیشال پوری رات انہی سوچوں میں گم رہی کہ کہیں دور سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہوٸ تو جیسے عیشال کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا۔اٹھ کر و ضو کیا اور پھر جاۓ نماز پر اپنے رب آگے سجدہ ریز ہوکر معافی مانگی۔ آنسو ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے جاری ہو گۓ۔ اگلا سارا دن وہ کمرے میں بند رہی اور سوچتی رہی کے وہ احد سے کیسے بات کرے۔ بالآخر ہمت کر کے اس نے احد کو کال لگاٸی۔کچھ ہی دیر میں احد کے سلام کی آواز نے عیشال کو چونکہ دیا لیکن پھر اپنے کو فوراً سنبھالتے ہوا کہا۔

”احد میں گھر آنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے رویے پر بہت شرمندہ ہوں“۔یہ سن کر احد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گٸی۔اور مہینوں کی تھکن پل بھر میں دور ہوگٸ۔ ”عیشال یہ گھر تمہارا منتظر ہے۔ تم جب چاہو آسکتی ہو“۔ عیشال کو یقین نہیں آ رہا تھا کے احد اس سب کے باوجود اس سے اتنی محبت کرتا ہے۔ فون بند کرنے کے بعد کتنی ہی دیر وہ بے یقینی کی کیفیت میں وہیں بیٹھی رہی۔ رات کےکھانے بعد عشال حماد صاحب سے ملنے انکے کمرے میں آٸی۔کچھ دن سے وہ عیشال کو اداس دیکھ کر بہت پریشان تھے لیکن آج جب وہ ان سے ملنے آٸی تو بہت خوش تھی۔ ”بابا میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہو اور پھر انہیں احد اور اپنی گفتگو کے بارے میں بتایا۔“ حماد صاحب اپنی بیٹی کے فیصلے پر بہت مطمئن ہوۓ اور اسے گلے لگا کر ڈھیروں دعائيں دی۔ عیشال کے جانے کے بعد حماد صاحب کو اپنا آپ بہت بہتر محسوس ہوا۔امینہ بیگم اور عینی کو جب عیشال نے اپنے فیصلے سے آگاہ لکیا تو دونوں بہت خوش ہوۓ اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اگلے دن عشال احد کے ساتھ اپنے گھر چلی گٸی اور ایک نٸی زندگی کا آغاز کیا۔

Add Comment

Click here to post a comment