Home » میڈیا اور ٹوٹتے گھر – افراء انصار
بلاگز

میڈیا اور ٹوٹتے گھر – افراء انصار

مرد و زن کی ازدواجِ زندگی سے وجود میں آنےوالی ایک ایسی جگہ جہاں ایک نسل پیار ،محبت ،اخوت اور رواداری سے پروان چڑھتی ہےاسے گھر کہا جاتاہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج کے معاشرےکا جاٸزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوتاہے کہ یہاں گھرکم اور مکان زیادہ ہیں .

کیونکہ جس گھر کے افراد کے درمیان باہمی تعلق اچھے نہ ہوں تو وہ مکان کی صورت اختیار کر لیتاہے۔ دورِحاضر میں گھروں میں بگاڑ کی ایک سب سے بڑی وجہ میڈیا ہے۔ جس نے ہمارے معاشرے کو چودہ سو سال قبل کی تاریکیںوں میں دھکیل دیا۔ عورت کو مرد سے برابری کے نعرے نے صنفِ نازک کو اتنا بےباک کر دیا کہ وہ ہر حد عبورکر چکی ہے۔چار دیواری میں رہنے والی عورت جب عملی میدان میں مرد کے برابر آٸی تو شرم وحیا کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا چلا گیااور نتیجتاًپھر ایک گھر مکان بن گیا۔

ڈراموں میں اس قدر قوسِ قزاح کے رنگ بکھیر دیے کہ نوجوان اسے اپنی زندگی سے تشبیہ دینے لگےاور جب وہ نکاح کے عظیم بندھن میں بندھے تو معلوم ہوا کہ زندگی کہ اصل رنگ کچھ اور ہی ہیں۔ اس عظیم رشتے کواتنا بے وقعت بنا دیا گیا کہ جب چاہےجوڑ لیا اور جب چاہے ختم کر دیا۔ ”زندگی کوسمجھے تھےبس اک کھیل تماشا

عملی میداں میں تھا اکِ الگ ہی تماشا“
نہ صرف یہاں تک بلکہ میڈیاسے تعارف ہونے والے نت نۓفیشن اور پر کشش ظاہری شخصیت کے لبادے نے نسل نو کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ انسان کی انسانییت اور باطنی خوبصورتی کو اس قدر روند ڈالا کہ کتنے ہی حسین رشتے اس کی لپیٹ میں آگۓ۔ دلفریب اور جاذب نظر آنے اور بےجا خواہشات کی اک دوڑ نے عورت کو خود کمانے پر مجبور کر دیا کیونکہ مرد کی کماٸی میں اس کا گزارا مشکل ہو گیا۔ میڈیا کے ذریعے عورت کے بناٶ سنگھار کی نمودو نماٸش نے مردوں کی غیر عورتوں میں دلچسپی کو حد درجہ بڑھا دیا اور یوں تعلقات میں دوری ہوتی چلی گٸی اور گھر بکھرتے چلے گۓ۔
”اُس گھر کو کبھی پھلتے نہیں دیکھا

جس گھر کے مکینوں میں محبت نہیں ہوتی“
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی میڈیا کو اک ایسے سانچے میں ڈھالا جاۓ کہ معاشرے میں خیر کا پہلو نمایاں ہو۔

Add Comment

Click here to post a comment