Home » بچوں کی تعلیم و تربیت میں حکمت – زویا کامران
بلاگز

بچوں کی تعلیم و تربیت میں حکمت – زویا کامران

طہورہ کے امتحانات اختتام ہوچکے تھے وہ اسی کشمکش میں تھی کہ نویں جماعت میں کیا رکھا جائے اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کوئی اس کی اس فیصلے میں مدد کرنے والا نا تھا۔۔ بہت سوچ بچاڑ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ چلو کیوں نا بایو رکھی جائے۔۔ کلاسز شروع ہوچکی تھیں اسے شروع میں بہت مشکل اٹھانی پڑی۔۔

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا پڑھ رہی ہے۔۔ وہ ٹوٹتی پگر خود کو جوڑتی۔۔ اپنی آنکھوں میں آئے آنسو اور پریشانی چھپائے بس دعا کرتی رہی۔۔۔۔ مگر کب تک۔۔ اب وہ تھک چکی تھی اپنے اندر چلنے والی اس جنگ سے اب وہ کہہ دینا چاہتی تھی کسی سے۔۔ اس نے اپنی والدہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے کہ ضرور وہ اس کی مدد کریں گی اپنی پریشانی کہہ دی۔۔ اس کی بات سن کر والدہ نے بجائے ہمت بڑھانے کے کہہ دیا کہ کیا ہوا تم کونسا انوکھی ہو۔۔۔چپ کرکے کرلو اب جو لے لیا اسے چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ ۔۔۔۔رضا جو کہ اپنے گھر میں درمیانے نمبر پر تھا۔۔ اس کا شمار نا بڑوں میں ہوتا اور نا چھوٹوں میں۔۔ وہ اپنی سکت کے مطابق ہر طرح اپنے گھر والوں کی مدد کرنے کو تیار رہتا۔۔ بغیر کچھ کہے اور بغیر کسی جواب توجہ کی امید کے بس وہ کرتا رہتا۔۔ ایک دفعہ اس کے گھر میں کچھ مسئلہ ہوگیا وہ بیچارہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہر کسی کی مدد کرنے میں مگن رہتا اور خود کو بھلا دیتا۔۔

اس کے بڑے بھائی نے وادہ سے کہا کہ یہ تو آپ کو بہت اچھا لگتا ہوگا کیوں کہ سب کے کام میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔۔ رضا بڑے انہماک سے والدہ کے جواب کا منتظر تھا اسے لگا شاید آج اسے اس لگن پر کوئی محبت بھرا جواب ملے گا لیکن جواب نے اس کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔۔ اس کی والدہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہی کہ یہ تمھارے دماغ کا خلل ہے اسے نکال دو۔۔ وہ معصوم نم آنکھیں لئے معلوم نہیں کتنے دن رات سو نا سکا۔۔۔۔۔۔اطہر جو کہ اپنے والدین کی توجہ کا منتظر تھا۔۔ وہ گھر میں کوئی بات کرتا تو عموماً اس کی بات کا مزاق اڑایا جاتا وہ کسی معاملے میں کچھ کہتا تو اسے ڈانٹ کر چپ کرادیا جاتا۔۔۔۔یہ چند واقعات جو عموماً معاشرے میں نظر آتے ہیں عدم توجہ کی طرف مبذول کرتے ہیں۔۔ اوپر واقعات میں والدین کے کہے جانے والے الفاظ اولاد کے دل کو چھلنی کردیتے ہیں۔۔ بات ایک ہی ہے کرنے کا طریقہ اور انداز مختلف اور دل کو زخمی کردینے والا ہے۔۔ بچے میں اعتماد کی کمی کی بڑی وجہ بھی یہی جملے ہیں جو تقریباً سب جگہ سننے میں آتے ہیں۔۔ بات سمجھانے اور حوصلہ دینے کے لئے بچے کو اچھے اور منفرد انداز میں بھی سمجھایا جاسکتا ہے۔۔

بچے کو قرآنی آیات سنا کر یا صحابہ کے واقعات سنا کر بھی ہمت اور حوصلہ دیا جاسکتا ہے۔۔ بچے اپنے والدین کے کہے ہر لفظ سے کچھ نا کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔ اگر والدین اولاد جو سمجھانے کے لئے حکمت اور دانائی کا استعمال کریں تو بچے بھی بڑے ہوکر معاشرے میں امن اور محبت کا پرچار کریں گے اور آئندہ آنے والی نسل بےراہ روی سے دور ہوگی۔۔ دوسروں کو ہمت اور حوصلہ دینے کے لئے بہترین الفاظ کا چناؤ کرے گی اور گھر سے نکل کر باہر دوست بنانے یا کسی اور سے اپنے مسائل کہنے سے بچ جائے گی۔۔ سو اپنے بچوں کو حسن اخلاق اور احسن گفتگو سے اپنے قریب کریئے اور ان کے دوست بن جائیے۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment