Home » ہم پھول ہیں رنگ ہیں – ثروت اقبال
بلاگز

ہم پھول ہیں رنگ ہیں – ثروت اقبال

اگر ہم تاریخ دیکھیں تو ادبی نشستوں کی روایت بہت پرانی ہے کہانی افسانے اور شاعری ادبی نشستوں کی زینت ہوتے ہیں ادبی نشستیں سنجیدہ ادب کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں اہل ذوق انہیں اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔یہاں ایسی ہی ایک ادبی نشست کا ذکر ہے۔ اصلاحی ادبی انجمن خواتین “حریم ادب” ادب کی ایک شگفتہ کونپل ہے جس نے بااہتمام یہ خوبصورت ادبی نشست سجائی۔

جس میں ناقدین کی نشست پر بڑی سخن ور اور سخن شناس غزالہ عزیز،صائمہ نفیس، ناہید عظمی،نگہت فرمان صاحبہ تشریف فرما تی اس کے علاوہ بانئ حریم ادب عقیلہ اظہر صاحبہ اور عالیہ شمیم صاحبہ بھی تشریف فرما تھیں۔یہاں مجمع کثیر نہیں تھا مختصر لوگ مدعو تھے۔ ادبی نشست سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ شرکاء کو تحریک ملتی ہے اور ناظرین و سامعین کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔اس نشست میں ہم سامعین میں شامل تھے یعنی ہم سن کر سیکھنے والوں میں تھے اور ہم نے اس کا بھرپور فائدہ بھی اٹھایا۔ ہر افسانے پر کھل کر بحث و تنقید کی گئی جو قلمکاروں کی اصلاح کے لئے تھا تنقید و تعریف کے دور سے گزرتے ہوئے قلمکاروں نے ادب سے تنقید برداشت کی کیونکہ یہ ادب، ادبی روایات کا حصہ ہے۔ گو کہ طنز و مزاح لکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں مگر ادبی نشست کے درمیان میں طنزومزاح کا بھی ایک حصہ ہونا چاہیے جس سے ماحول مزید گرم اور خوشگوار ہوجائے گا اور نشست کی آب و تاب میں اضافہ ہوگا۔ محفل عروج پر تھی اور سامعین ہمہ تن گوش تھے تب ہی ایک لفظ” ٹیبو” سننے کو ملا یہ لفظ میرے لئے نیا تھا۔پاپولر فکشن اور ادبی افسانے کے فرق کا ذکر بھی ہوا صائمہ نفیس کے ذریعے شہر میں ہونے والی کچھ ادبی محفلوں کی معلومات بھی ہم تک پہنچیں۔

جیسا کہ “حلقہ ارباب ذوق” آرٹس کونسل میں منعقد ہوتا ہے اور جامعہ کراچی میں نسیم شاہین لائبریری میں باقاعدہ ادبی نشست ہوتی ہے اگر ہمیں کبھی موقع ملا تو انشاءاللہ یہاں سے بھی استفادہ کریں گے۔
پروگرام کے آخری حصے میں شاعری نے اپنا رنگ جمانا شروع کیا تو محفل کا رنگ ہی کچھ اور تھا جہاں بہترین شاعری سننے کو ملی۔شرکاء کو خوب واہ واہ اور داد ملی۔وہاں سے ملنے والے تحائف اس ادبی نشست کی یاد دلاتے رہیں گے بلکہ اس نشست کے اختتام پر وہاں سے اٹھنے لگے تو ہمیں لگا کہ ہماری تخلیقی قوت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ہمارا گمان ہے کہ دوسرے سامعین بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہوں گے ویسے اس نشست کے بارے میں میرا زیادہ زور سیکھنے اور فائدہ اٹھانے پر اس لئے ہے کہ میں اور میرے دائیں بائیں علمی و ادبی ذوق رکھنے والی خواتین اسی غرض سے وہاں موجود تھی اور ہمارے ہاتھ میں نوٹ بک کے لکھے ہوئے صفحات اس بات کا ثبوت دے رہے تھے۔ اس ادبی نشست کے بارے میں تاثرات قلمبند کرتے ہوئے میری دلی تمنا ہے کہ ادبی حلقے، ادبی مجالس اور ادبی نشستیں پروان چڑھتی رہیں اور حریم ادب کے ستارے آسمان ادب پر چمکتے اور جھلملاتے رہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment