Home » اخلاقی برائی – زویا کامران
بلاگز

اخلاقی برائی – زویا کامران

تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسی بہت سی قوموں کے واقعات نظر سے گزریں گے جن کے زوال کا سبب ان میں موجود اخلاقی برائیاں تھیں۔۔ باقی قوموں کی طرح ہم میں بھی کچھ اخلاقی برائیاں موجود ہیں جن کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں روکنا ناگزیر ہے۔۔ ہماری اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائی ہر بات کا مزاق بنا کر اسے آگے بڑھانا اور اس کو برائی سمجھنے کے بجائے اس دے محظوظ ہونا ہے.

حال ہی میں ایک مزاحیہ تصویر نظر سے گزری جس میں بلاول صاحب کے کہے گئے الفاظ “کانپیں ٹانگ جاتی ہیں” کو مزاق بنایا گیا تھا قور اس سے محظوظ ہوتے ہوئے ٹھٹھے لگائے جارہے تھے۔ بڑے سے لے کر چھوٹے تک ہر ایک کی زبان پر بس یہی جاری تھا کہ کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کی لڑائی سیاسی ہے اور اسی سیاسی ہی رینا چاہیئے۔ سیاست کے نام پر کسی کی کمزوری کو پکڑ کر مزاق اڑانا انتہائی بدتہذیبی ہے۔۔ مزاق اور مزاح میں واضح فرق ہے جسے سمجھ لینا انتہائی ضروری ہے تاکہ ہم اس برائی کو پہچان کر اس سے بچ سکیں۔۔ مزاق وہ ہوتا ہے جو کسی کی دلآزاری کرکے یا کسی کو نشانہ بنا کر اس پہ کیا جائے اور مزاح وہ ہے جو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے یا کسی کے دل کو تسکین پہچانے کے لئے کیا جائے اور اس میں کسی کی بھی دل آزاری نا ہو. سورہ الضجرات آیت نمبر ۱۱ میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں.” اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرد دوسرے مردوں کا مزاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مزاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔”اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں واضح الفاظ میں فرمادیا کہ ایک دوسرے کا مزاق نا اڑایا جائے۔

ضرورت اس چیز کی ہے کہ مزاق کو مزاق سمجھ کر اسے روکنے اور دوسروں کو بھی احساس دلانے کی ہے۔ اللہ ربی نے ہمیں اس دنیا میں امت وسط بنا کر بھیجا ہے اور ہمیں یہ فریضہ عطا کیا ہے کہ ہم امر باالمعروف ونہی عن المنکر کرنے والے ہوں۔ اس فریضے کو سمجھتے ہوئے اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہمیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائی کو روکنا ہے۔ سب سے پہلے زبان کے ذریعے روکیں پھر ہاتھ کے ذتیعے روکیں اور اگر نا رکے تو دل میں برا جانیں۔ برائیوں کو زور پکڑنے سے پہلے روکنے کی اشد ضرورت ہے کہیں ایسا نا ہو کہ ہم بھی برائی کے چنگل میں پھنس کر اسے برائی سمجھنے کا احسا بھی کھو بیٹھیں۔