Home » عورت،مستقبل کی تابناک ہستی – ریطہ طارق
بلاگز

عورت،مستقبل کی تابناک ہستی – ریطہ طارق

آج کے دور جدید میں عورت کو جس انتشار کی طرف دھکیلا جارہا ہے،اس میں سب سے پہلا ہدف عورت کے حقوق کے نام پر آزادی کی بے ڈھنگی تصویر اور شانہ بشانہ کی منطق لگاکر اس کی اصل شناخت کو دھندلا کردینا ہے۔ اہلِ مغرب کی انتھک محنت یہ ہے کہ اس روئے زمین پر تعمیرِ نسلِ نو کی تباہی کے لیے عورت کے تشخص کو جدت پسندی کے نام پر لبرل اور سیکولر طرز پر منظم کیا جائے.

اس امر کے لیے چاہے مقصدِ خداوندی کے تمام رجحانات کو بھلایا جاسکے۔ ایک مسلمان عورت جسکا محاذ اسکے گھر کی چار دیواری ہے،اسکی نس نس میں آج گریلو ذمہ داریوں کی تحقیر کو اجاگر کرکے آزادی کا انجکشن دے کر مفلوج کردیا گیا تاکہ وہ اپنی زندگی کے اصل مقصد کو بھلادے اور اسلام کے اس قلعے کی یہ روشن کڑی تاریکی میں ڈوب جائے۔ مغرب میں ہم نے دیکھا عورت کی آزادی خود اسکی حرمت اور ذلت کا سبب بنی،وہ آج بھی ایک لاچار اور پسپائی کا نمونہ ہے۔ اس مغربی معاشرے میں عورت کا وقار اسکی شخصیت میلی نظروں کے محور کے سوا کچھ نہیں۔ ہم ہر دور میں دیکھتے ہیں،امت مسلمہ کا پلیٹ فارم عورت کے کردار کے ساتھ ایک بھرپور اور جامعہ شکل میں ہے،عورت بحیثیت ماں اپنا دلفریب اور منفرد کردار ادا کرکے نسل نو کو پروان چڑھاتی ہے،اپنی آغوش میں بچوں اور شوہر کے لیے ایک سائبان ہے،اسکی زبانی روز محنت کے پھل کے پس پردہ اسکی عظیم صلاحیت مشقت کار فرما ہوتی ہے۔ ام عیسیٰ علیہ السلام ہو چاہے وہ ام موسیٰ علیہ السلام ،وہ خدیجتہ الکبری رضہ ہو یا آج کی مسکان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر روپ میں وہ ایک طوفان ہے،جو اپنی تجلی سے ان گنت چمن پیدا کرتی ہے،اسکی آبیاری کا سامان کرتی ہے۔

جب حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حقِ رفاقت ادا کرتے ہوئے بے آب و گیاہ صحرا میں اسماعیل علیہ السلام کو لیے ہوں،یا اسلام کی سر بلندی کیلیے حضرت سمیہ رضہ نے اپنے خون کا نذرانہ دیا ہو،تو شمعیں طوفانوں میں جلائے جاسکتی ہیں،بے مثال ثابت قدم ام عبیس رضہ،ام عمارہ رضہ اور زنیرہ رضہ۔۔۔۔۔۔حضرت بلال و یاسر کے شانہ بشانہ دکھائ دیتی ہیں،تو یہ کہنا عین حق ہے کہ اسلام کی ڈالی ڈالی اپنے عہد کو سچا کر دکھانے کی جانباز مجاہدہ ہے۔ اسی طرح ہم دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز ازدواج کا خاکہ کھینچیں تو وہاں حضرت خدیجہ کا حقِ رفاقت ایک بہترین کردار ہے،اپنا مال اسلام کے لیے وقف کردینا۔ غزوہِ احد میں ام عمارہ رضہ کا تلوار تان کر کھڑے ہوجانا اور نبی صلی اللہ تعالیٰ کی خاطر زخم کھانا۔ پھر حضرت ام سلمہ رضہ کا داستانِ ہجرت اور انکی علمی صلاحیتیں کہ جنہوں نے اپنے گھر پر ایک مدرسہ کھولا،حضرت شبیہ بن نواح فن قرآت میں اہلِ مدینہ کے امام تھے،ام سلمہ رضہ سے تعلیم یافتہ ہوئے،اہل مدینہ نے ان سے فن قرات کا فیض حاصل کیا۔ فاطمی بنت قیس ۔۔اسلام کی دولت سے مالا مال،عقل و کمال میں ممتاز تھیں،جنکو یہ شرف حاصل تھا کہ حضرت عمر رضہ کی شہادت کے بعد نئے امیر کو منتخب کرنے کے لیے اصحاب شوری کی مجلس انکے گھر میں منعقد ہوتی تھی۔

مشہور صحابیہ اسما بنت ابی بکر علاج معالجہ کرتی تھیں،زینب النسا۔۔۔۔شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی دختر تھیں فن خطاطی میں کمال رکھتی تھیں فقر و تصوف کی طرف طبیعت کا میلان تھا۔ عورت کی ان قابلیتوں کے پیش نظر جو قومیں چلیں انہوں نے ہی دنیا و دین میں کامیابی حاصل کی۔ قرآن کے حوالے سے سوچیں تو بھلائ کا حکم دینے والے برائ سے روکنے والے اس تہذیب کے علمبردار مرد و عورت شانہ بشانہ حدود الٰہی میں رہتے ہوئے ایک منظم معاشرہ کی تعمیر کرتے ہیں اور یہی اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔ زمانہ قدیم ہو چاہے زمانہ جدید۔۔۔۔۔جو کل دو جمع دو چار کا فارمولا تھا،وہ آج بھی یہی ہے،کل جب یہ دونوں چاند سورج تھے تب بھی وہ زمانہ اس اکائ کا پیش خیمہ تھا،اور اگر آج ہیں تو بھی ایک گھر کا محور ہیں،اس پیرائے میں عورت کی حیثیت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ چاند پر پہچنے والا مرد آج بھی عورت کے بغیر ناپید ہے۔ ہم دونوں ادوار کا جائزہ لیں تو یہ کامل ترتیب بہت سے شعبوں سے مربوط ہے،گھر سے لے تعلیمی ادارے،نرسنگ،ہسپتال سے لے کر ہر شعبہ زندگی میں اہم کردار عورت کا بخوبی نظر آتا ہے،جبکہ تخریب کار عوامل بھی نظر آئے اور اسی عورت کو شوبز،کرکٹر،پائلٹ،اشتہاری بناکر اور نجانے کتنی اغراض کے لیے کٹھ پتلی بنادیا گیا.

خود عورت نے جب جب اس بد تہذیبی کو منتخب کا تو وہ آج معاشرے میں کس نگاہ سے دیکھی جاتی ہے،اسکا اندازہ مشکل ہے،جن مقام پر مرد کی جگہ عورت کو استعمال کیا گیا،اسکی عزت اور وقار میں کمی واقع ہوئ،عورت کی اپنی شناخت اسکی اسلامی اقدار سے وابستہ ہیں۔
سب سے بڑا چیلنج کہ اس نے گھریلو مصروفیت کے بعد بھی اپنی دینی خدمات کو پیچھے نہ چھوڑا،آخرت کی مشقت سے بچنے والی باحیا باکردار صنف نازک نے گھر کے نظام میں اپنی دینی خدمات کے ساتھ ایک توازن رکھا جو قابل قدر ہے،اسکے نازک کندھوں پر گھر اور گھر کے باہر معاشرت کی فلاح کی سعی نے اسے سرخرو کیا،قران کی فیضیابی نے اسکا شعبہ ہائے زندگی میں حسین کردار نظر آتا ہے،جس سے خالد بن ولید،طارق بن زیاد اور حسن و حسین رضہ جیسے چراغ جل کر چھاتے رہے ہیں۔ عورت کے حیادار مظہر کا جائزہ لیں تو ہمیں بے حیائ عریانی میں عورت کی عزت تار تار ہوتی نظر آتی ہے،جسکی نہ کوئ منزل ہے نہ کوئ ضابطہ حیات،اسکے برعکس حجاب میں رہتی عورت نے ہر جگہ اپنا مقام بنایا،یہی نہیں شادی بیاہ کے مقامات پر بھی اس معیار کو برقرار رکھا۔ بے حجابی میں عورت کا رہنا۔۔۔یہ وہی ازلی بھول ہے جب حوااور آدم شیطان کے بہکاوے میں آکر ایک غلطی کر بیٹھے.

وہ معصوم انبیاء کی معصوم غلطی جو خدا سے مغفرت طلب کرنے کا ذریعہ بنی،بدنصیبی یہ ہے کہ آج وہ بھول بے باکی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنائ جای ہے،انسانی شکل میں شیطان کی حاکمیت نے فحاشی عریانی کے دلفریب انداز کو گلیمر(glamour)عطا کرکے عورت کے شعور کو مقفل کردیا گیا ہے،کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہے۔ آج بھی ازلی مقام پر وہی عورت حیا کے طاقچوں کو بند کرکے نام نہاد فحش عریانی سے لبریز لبرلزم کا لبادہ پہن کر آزادی کا نعرہ لگانے سڑک پر کھڑی ہے۔ وہ بھول گئ کہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمتہ رضہ نے اپنا جنازہ بھی دم کی روشنی میں اٹھانا گوارا نہ کیا کہ کہیں نامحرم کی نظر نہ اس پر پڑجائے۔ اس نے خود اپنی حدود سے نکل کر من پسند لباس و چال ڈھال منتخب کرکے اپنی مشکلات کھڑی کیں،اور جب چاہا دوپٹے کو کسی خاص فوتگی کے موقع پر استعمال کرلیا،جب چاہا اسکو اپنی زندگی کا حصہ بنادیا۔

صحت مند تعلیم سے آراستہ دینی گھرانوں کی زینت اس صنف نازک نے نکاح کے ضابطے میں اسلامی قوانین کو نافذ کرکے اپنے لیے ڈھال بنا ڈالی،بے جا اسراف سے بچنے کی کوشش نے نکاح کے فریضے کو ہر ممکن آسانی دی۔ حوا کی بیٹی کا اصل روپ معاشرے میں سادگی اور حیا کے حسن کے ساتھ آشکار ہوتا ہے تو عورت کی اصل پہچان نسلِ نو کی تابناک تصویر روشن صدی پیدا کرتی ہے.