Home » قرار داد پاکستان ۔۔۔۔تعمیر پاکستان سے تکمیل پاکستان تک – قانتہ رابعہ
بلاگز

قرار داد پاکستان ۔۔۔۔تعمیر پاکستان سے تکمیل پاکستان تک – قانتہ رابعہ

مملکت خداداد پاکستان ایک معجزہ ہے ۔۔ خدا پر یقین کا اظہار ہے خدا موجود ہے وہ بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے وہ سزا دینے سے زیادہ معاف کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اس بات کا ثبوت پاکستان کا محض سات سال سے بھی کم عرصے میں جدوجہد اور اس کا حصول ہے پاکستان کا قیام اس زمین پر بہت سے لوگوں کے سوالوں کا جواب ہے کہ جب کوئی بھی قوم متحد ہوجائے اور ایک نظریہ کو لے کر ایک پرچم تلے جدوجہد کرے تو انہونی ،ہو کر رہتی ہے نا ممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے

زمین پر کشمیر ،فلسطین سمیت درجنوں اقوام ہیں جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جس کی جدوجہد کا نتیجہ صدیوں بعد نہیں چھے ساڑھے چھے سال میں سنا دیا گیا بہت سی وجوہات تھیں بہت سے اسباب تھے لیکن ان سب میں سب سے اوپر پاکستان کا حصول دو قومی نظریہ کے تحت حاصل کرنا تھا دو قومی نظریہ۔۔۔۔کلمہ توحید و رسالت کا ترجمان ہے ہزار سال اکھٹے رہ کر پڑوسی ہونے کے ناطے غمی اور خوشی میں ایک دوسرے کے طور طریقے اپنائے جا سکتے ہیں لیکن حاکم اعلی ایک ہی ہے اس کی حاکمیت کے اقرار کو ہی دو قومی نظریہ کہتے ہیں جس دو قومی نظریہ کے تحت یہ ملک حاصل کیا گیا اس کو مان لینے کے بعد مسلمان کسی کی غلامی میں زندگی نہیں بسر کر سکتا اس دو قومی نظریہ کے اقرار کے بعد مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صرف ایک ہستی کو جوابدہ یے بس ایک ہستی سے مدد طلب کر سکتا ہے جو قادر مطلق ہے پھر طرح طرح کے دیوتا ،بھگوان اور نظام ہائے زندگی سے بے نیاز ہو جاتا ہے

مسلمان کے لیے گلاس میں زمزم کا پانی متبرک ہے اور ہندو کے لیے گائے کا پیشاب متبرک ہے جس طرح ایک انسان دونوں چیزوں کو بیک وقت متبرک نہیں سمجھ سکتا تو ہندو اور مسلمانوں کے ایک ہونے کا نظریہ بھی بیکار ہےدونوں کا صرف مزہب ،معیشت سیاست تجارت میں ہی نہیں مردوں کے دفنانے کفنانے تک میں اختلاف ہے دونوں ایک قوم ہو ہی نہیں سکتے ایک زمین کو گائے ماتا کہتا ہے دوسرا ،ہر ملک ماست کہ ملک خدائے ماست ،کا علمبردار ہے پھر دونوں اکھٹے کیسے رہ سکتے تھے اس چیز کا احساس تو صدیوں پہلے سے ہی ہو چکا تھا لیکن اس پر باضابطہ مہر 23،مارچ1940ء کے منٹو پارک کے جلسے نے لگائی جس جوش جزبے اور شان و شوکت سے اس میں شیر بنگال نے علیحدہ مملکت کا تصور پیش کیا اس کے حق میں قرارداد منظور کروائی اسے وہی حیثیت حاصل ہے جو انسان کے جسم میں سر کو ،تکمیل پاکستان یا قیام پاکستان قرار داد پاکستان کے بغیر ابھی تک نامکمل حالت میں ہوتے ۔

بسا اوقات قدرت بندے کے اخلاص والے عمل کو اپنے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے جیسے تئیس مارچ والے جلسے کو قرارداد لاہور کا نام دیا گیا لیکن ہندوؤں نے واویلا مچا کر اسے قرارداد پاکستان قرار دلوایا یعنی پاکستان کے قیام کے اشتہار دینے کا کام فطرت نے از خود دشمنوں سے لیا سوال یہ ہے کہ جس نظریہ پر یہ قرارداد منظور کی گئی اور اس ملک کا قیام عمل میں آیا کیا اس آزاد ملک میں زندگی اسی کے تحت گزاری جارہی ہے ؟ یاد رکھئیے کچھ لوگ کھلم کھلا دشمنی کرتے ہیں اور کچھ پیٹھ پیچھے ۔۔ہندو نے جنگوں کے ذریعے کھلم کھلا دشمنی کر کے دیکھ لی اس کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے تو اس نے پیٹھ پیچھے دشمنی کر کے پیٹ میں چھرا گھونپنے کا کام شروع کردیا ہے جب کسی کو ختم کرنا ہو تو دو طریقے اپنائے جاتے ہیں 1 ۔۔ اس کو گرا دیا جاتا ہے 2 ۔اس کی بنیادوں کو کمزور کردیا جاتا ہے تاکہ عمارت اپنے سہارے پر قائم نہ رہ سکے آج ہندو نے اپنی ثقافت ہم پر اس غیر محسوس انداز میں مسلط کی یے کہ عوام ہوں یا خواص شادی بیاہ میں انہی کے طریقے اپناتے ہیں تیل مایوں مہندی ،یہ سب ہندووانہ رسومات ہیں اور جس انداز سے ان تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ کسی طور بھی مسلمان ثقافت کے زمرے میں نہیں ہے

ہندو اپنی فلموں ڈراموں سے جو کمارہا ہے جو دکھا رہا ہے آہستہ آہستہ ہماری ثقافتی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے اور اس پر ایک نفع بخش صنعت کے طور پر ہمارے سرمائے سے ہمارے کشمیری عوام پر اسلحہ خرید رہا ہے ! کیا یہ دو قومی نظریہ کے خلاف عمل نہیں ہے ؟ قرآن مجید کے آغاز میں ہی بنی اسرائیل کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر میں اللہ رب العزت نے ،واشربو فی قلوبھم العجل،اور ان کے دلوں میں بچھڑا گھول کر پلا دیا گیا وہ یہی تو ہے ہماری رگوں میں وہاں کے فلمسٹاروں سے محبت ،ہمارے خون میں ان کے ڈرامے فلمیں ان کی رسمیں یہاں تک کہ اب تو دیوالی یا ہولی تک ان کے انداز میں منانے کا اہتمام ،کیا بچھڑے اور اس کو پوجنے والوں کی محبت نہیں ہے؟ اپنی صاف ستھرے ثقافتی ورثہ کا ہمیں معلوم ہی نہیں ،اور معلوم ہے بھی تو آنکھوں پر پٹی بندھ گئی ہے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت با رڈر لائن ،کولکیر کہہ کر اس کو نعوذ باللہ ظلم قرار دیا جاتا ہےیاد رکھیئے اللہ احسان فراموشی کو پسند کرتا ہے نہ ہی احسان فراموش لوگوں کو۔۔۔

اور کسی بھی نعمت کے ملنے پر قوم سبا کی طرح شکر گزاری تو دور کی بات اعتراض جڑنا اس نعمت کے چھننے کا باعث بن سکتا ہے دسمبر 1971ء کی جنگ میں ادھی نعمت واپس لے لی خدارا اب چاقی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے دوبارہ 1940ء کی طرح متحد ہو جائیں ایک کتاب ایک خدا ایک رسول کو ماننے والے مزید تفرقہ بازی سے ںچیں تاکہ تا قیامت پاکستان سلامت رہے –

2 Comments

Click here to post a comment