Home » میرا وطن سنوار دو – قدسیہ ملک
بلاگز

میرا وطن سنوار دو – قدسیہ ملک

“پاکستان کا پاسپورٹ دنیا بھر کے بُرے پاسپورٹ کی فہرست میں تاحال موجود ، یہ فہرست ہر سال ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے شائع کی جاتی ہے ۔ اسے دنیا کا 5واں برا ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے”۔عاشر زور زور سےیہ خبر اپنےپیچانوے سالہ دادا کو سنا رہا تھا،جوبڑے دکھ اور کرب سے عاصم سے یہ خبر سن رہے تھے۔”

داداآپ آسٹریلیا میں کیوں نہیں سیٹل ہوجاتے؟،چاچو آپ کو کتنی دفعہ بلاچکے ہیں،میں ہوتاتوپہلی دفعہ بلانے پر چلاجاتا اور واپس کبھی ناآتایہاں”عاشر نے جوش سے کہا۔دادا بولے “بس بیٹے یہی تو فرق ہے مجھ میں اور آپ میں،میں یہاں سے اس مٹی سے جانا نہیں چاہتا اور آپ یہاں رہنا نہیں چاہتے”عاشر بولا،” دادااس پاکستان نے ہمیں دیا کیا ہے ؟”بیٹا آپ کی سوچ سے زیادہ دیا ہے”،دادا نے کہانہیں دادا ہمیں تو کچھ نہیں دیا، جب  بھی ہم دوست ورلڈ ٹور پر جاتے ہیں  تو وہاں  پر امریکہ اور سوئٹزرلینڈ، فرانس، سپین، اٹلی، برطانیہ اور بہت سے ممالک کے ہوائی اڈوں پر پاکستان سے گئی ہوئی فلائٹ کا کاؤنٹر ہی الگ ہوتاہے۔ ہم پاکستانی مسافروں کو کئی کئی گھنٹوں کی غیر ضروری چیکنگ کا سامنا کرنا پڑا کئی مرتبہ تو ہم پاکستانی مسافروں کو ایسی شدید حزیمت بھی اُٹھانی پڑتی ہے جو کسی اور یورپی یا امریکی شہری کواُٹھانی نہیں پڑتی؛ کیونکہ اُن کے لیے چار سے پانچ کاؤنٹر ہوتے ہیں جن پر مسافروں کو چند منٹوں میں بھگتا دیا جاتا ہے۔جو فلائٹ پاکستان سے آتی ہے اس کیلئے صرف ایک کاؤنٹر ہوتا ہے اور وہ بھی 400 سے 500 مسافروں کیلئے، دو دو گھنٹے لائن میں لگےرہناپڑتاہے، سب سے آخر میں ہم پاکستانیوں کی باری آتی ہے۔

ہماری اتنی بےعزتی ہوتی ہے، اس گرین پاسپورٹ کی وجہ سے، میں آپ کو بتانہیں سکتا،اور پھر بھی آپ اس ملک کو اچھا کہتے ہیں۔دوسرے ممالک کو دیکھیں ،ہمارے بعد آزاد ہوکر اتنی کتنی ترقی کرلی ہے۔جاپان کو ہی دیکھ لیجیئے،اور ہم ابھی تک اپنے عید کے چاندہی میں الجھے ہوئے ہیں”عاصم خفگی سے بولا اور کمرے سے نکل گیا۔اگلے دن دادا نے سب گھر والوں شام کی چائے پر اپنے کمرے میں بلایا۔سب عصر کے بعد دادا کے کمرےمیں جمع ہوگئے۔دادا نے سب کے لئے امی سے گفٹ منگواکر پیک کروائے ہوئے تھے۔سب بچے بڑے گفٹ کی میز کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔امی نے شام کی چائے کے ساتھ بسکٹ اور سموسے بنائے تھے۔دادا باری باری اپنے سب پوتے پوتیوں  کےپاس جاتے ماتھا چومتے اور ایک گفٹ پیک اسے دے دیتے۔عاصم چونکہ سب  سے بڑا تھا پہلے اسکی باری آئی۔دادا بولے”بیٹاتمہیں پڑھنے کا شوق ہے اس لئے تمہارے لئے شہاب نامہ منگوایاہے۔تم نے ہمیشہ غیر ملکی رائٹرز کو پڑھا کبھی پاکستان کی کہانی اس کے مکینوں سے سنو”عاصم مارے شرمندگی کے خاموش رہا کیونکہ وہ اپنی پچھلے واقعے پر شرمندہ تھا۔دادا نے سب کو گفٹ دیئے پھر کہنے لگے “آؤ بچوں !میں آپ کو ایک ایسی کہانی سناتا ہوں جو اس صدی کا سب سے بڑا سچ ہے،اور وہ ہے میرا پاکستان۔یہ کہہ کر دادا آبدیدہ ہوگئے سب کی نظریں دادا کو دیکھ رہی تھیں جواپنے چشمے سے آنسو صاف کررہے تھے۔

تھوڑے توقف کے بعد دادا گویا ہوئے”انگریزوں کی آمد سے قبل یہاں مسلما ن حکمرانوں نے اس ہندوستان کو خوبصورت،دیدہ زیب ،سونے کی چڑیااور پرکشش بنانے میں پوری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔مسلمان اگرچہ ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے آئے لیکن اجنبی حکمرانوں کی طرح انھوں نے اس کو محض تجارت کی منڈی اور حصولِ دولت کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اس کو وطن بناکر یہیں رس بس گئے اور مرنے کے بعد بھی اس کی خاک کے پیوند ہوئے ۔اس لیے کہ انھوں نے حکومت و سیاست، علم وفن، صنعت وحرفت، زراعت وتجارت، تہذیب و معاشرت، ہر حیثیت سے اس کو ترقی دے کر صحیح معنوں میں ہندوستان کو جنت نشاں بنادیا۔“دادا مجھے یہ تو معلوم تھا کہ انگریزوں سے پہلے ہندوستان میں مسلمان حکمران تھے لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہہ انہوں نے ہندوستان کو خوبصورت اور تہذیب یافتہ بنایا تھا”۔فائز جو کافی انہماک سے دادا کی بات سن رہاتھا،بولا۔     دادااپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولے”برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے قبل ہندوستان عدم مرکزیت کا شکار تھا۔ ذات پات کی تقسیم نے ہندو معاشرے کو تاریکی میں دھکیل رکھا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے عہد میں ہندوؤں کے طرز معاشرت پر دوررس اثرات مرتب کئے۔ مغل دور میں اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار تک سیاسی استحکام کے ساتھ ہندوستان کی معاشرتی کیفیت بھی حد درجہ بہتر تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ رنگ زائل ہوتا گیا، یہاں تک کہ مسلمان اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے”۔ 

 عاصم بولا” داداانگریز ہندوستان پر مکمل قابض کب ہوئے؟”دادا نے کہا”ء 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی پر آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کی لال قلعے تک محدود حکومت بھی قائم نہ رہ سکی۔ اب ہندوستان کے کاروبارِ حکومت اور ریاستی نظم و نسق کو چلانے کے لئے برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند کا عہدہ تخلیق کیا اور ہندوستانی حکومت کو برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت کردیا۔انگریزوں کت اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد ہی بنگال اور ہندوستان کے چند زرخیز ریاستوں میں اس شدت کا قحظ پڑا کہ کم از کم ڈھائی کروڑ افراد بھوک سے مرگئے۔فائز دکھ سے بولا”لیکن اتنے لوگ کیسے مر گئے دادا؟جبکہ ہندوستان تو ہر لحاظ سے بہت زرخیز تھا”۔دادا نے کہا”کیونکہ انگریز یہاں بسنے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ اس خطے کی زرخیزی اسکا سونا اسکے وسائل لوٹنے آئے تھے۔ان کے اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ مسلمان تھے۔اسی لئے انہوں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر ہندوستان کے کونے کونے میں سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھایاتاکہ ساری معدنیات سارے ہیرے جواہرات اپنے ملک باآسانی  منتقل کئے جاسکیں۔مسلمانوں کو تکلیفیں دی گئیں۔بچے کچے مسلمان شہزادوں کو پھانسیاں دی گئیں۔انکو اذیتیں اور بھوک و پیاس کی مشقت دی گئی۔

اور تڑپاتڑپا کر موت کے گھاٹ تاراگیا۔اور اسی وجہ سے شدید قحط کے باعث کروڑوں لوگ جان سے گئے”داود کرب سے بولا”یعنی ہمارا سارا سونا اور معدنی وسائل انگیز لوٹ کر لے گئے؟”دادا بولے”جی بیٹا ماہرِ معاشیات اور صحافی منہاز مرچنٹ کی تحقیق ہے۔ ان کے مطابق 1757 سے لے کر 1947 تک انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کو پہنچنے والے مالی دھچکے کی کل رقم 2015 کے زرمبادلہ کے حساب سے 30 کھرب ڈالر بنتی ہے”۔”اففف میرے خدااتنی بڑی رقم” مائرہ بولی۔دادا نے کہا میں نے اخبار میں ہندوستانی وزیراعظم کا بیانیہ پڑھاتھا انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اور ماہرِ اقتصادیات من موہن سنگھ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:’اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف ہماری شکایات کی ٹھوس بنیاد موجود ہے۔ 1700 میں انڈیا تنِ تنہا دنیا کی 22.6 فی صد دولت پیدا کرتا تھا، جو تمام یورپ کے مجموعی حصے کے تقریباً برابر تھی۔ لیکن یہی حصہ 1952 میں گر کر صرف 3.8 فیصد رہ گیا۔ 20ویں صدی کے آغاز پر ‘تاجِ برطانیہ کا سب سے درخشاں ہیرا’ درحقیقت فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کا غریب ترین ملک بن گیا تھا”۔سائرہ بے چینی سے بولی”دادا پھر پاکستان کیسے بن گیا ؟دادا نے کہا”بیٹا اتنی تکالیف اور اذیتیں اور اپناسب کچھ لٹواکر مسلمان اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ نگریز یا ہندو کبھی ہمارے دوست نہیں بن سکتے۔

 انگریزوں کی اذییتوں اورآقاو الی ذہنیت کے باعث لوگ ان سے منحرف ہونے لگےاور آہستہ آہستہ 1940 کی دہائی میں جاری انگریزوں کے متشدد رویوں اورفرقہ وارانہ تشدد کے درمیان برطانوی راج اپنی ساکھ کھونے لگا۔ مسلم لیگ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انیس سو چالیس میں محمد علی جناح کی نمائندگی میں مسلم لیگ نے تقسیم اور انڈین مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنانے کے خیال کو پیش کیا۔ایک خوبصورت امید ۔ایک حسین خیال ،جسکانام سنتے ہی مسلمان اپنی ساری تکالیف بھول جاتے”۔”دادا یہ اتناانوکھانام مسلمانوں کے ذہن میں کیسے آیا؟”ذیشان نے داداسے تجسس سے سوال کیا۔دادا مسکراتے ہوئے گویا ہوئے”بیٹا جس خطے میں ہم رہتے ہیں اسی کے خوبصورت شہروں کے ناموں کا ایک ایک حروف لیا اور پاکستان بن گیا۔جیسے کہ ‘پ’ سے پنجاب، ‘ا’ سے شمال مغربی سرحدی علاقوں کے افغان، ‘ ک ‘ سے کشمیر، ‘ س، سے سندھ، اور ‘تان’ کا مطلب بلوچستان تھا۔ لیکن اس نام کا مطلب بھی بہت خوبصورت ہےیعنی پاکستان کا مطلب پاک ملک ہے”۔عاصم نے پوچھا”دادا انگریزوں نے اتنی آسانی سے ملک کوچھوڑدیا”؟ “نہیں میرے بچےبرصغیر سے برطانوی استعمار کے خاتمے کے بعدبرطانوی سامراج کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی سابقہ نو آبادی کو معاشی،سیاسی،تہذیبی ،ثقافتی اور عسکری شعبوں میں اپنا دست نگر رکھ کر اس قدر دباؤ ڈالیں کہ اس خطے کے باشندے ہمیشہ ان کے تابع بن کر رہیں”۔پھر تقسیم ہوگئی؟؟

سائرہ نے پوچھا۔دادابولے”مارچ 1947 میں انڈیا میں آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کی آمد کا مقصد تھا کہ ہندوؤں کے پاس زیادہ سے زیادہ اقتدار کی منتقلی ہو سکے۔جون 1947 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے تقسیم کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔برطانوی جج سر سرل ریڈکلف کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان لکیر کھینچنے کے لیے بلایا گيا”۔دادا برطانیہ سے کیوں بلایا ؟کیونکہ وہ اپنی مرضی کی تقسیم کرنا چاہتے تھےانکا مقصدبھی یہی تھا کہ انھیں انڈیا کے دو سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ آبادی والے صوبوں پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرناریڈکلف اس سے پہلے انڈیانہیں  آئے تھے  اس لئے جوسرحدیں انہوں نے طے کیں وہ سراسر ناانصافی پر مبنی تھی جس سے لاکھوں مسلمان اور سکھ ناراض ہوئے” ۔ دادا تقسیم میں ناانصافی کس طرح کی گئی”؟فائز نے پوچھا۔دادابولے “میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تقسیم کے وقت بر صغیر کی قدیم ترین اور اہم بندر گاہ کلکتہ (Kolkata) کو بھارت کے حوالے کر دیاگیا۔ یہ بندر گاہ ایسی تھی کہ اس میں تقسیم سے پہلے مشرقی بنگال کے مسلمان تجارت کرتے تھے۔میں خود اپنے ابو کے ساتھ وہاں  جاتاتھا۔ اس کے علاوہ پنجاب میں گورداس پور اور بٹالہ کی جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم تحصیلیں بھارت میں اس لیے شامل کی گئیں کہ کشمیرپر بھارت کے غاصبانہ تسلط کی راہ ہموار کی جا سکے۔

 ریاست جونا گڑ اورحیدرآباد دکن کے علاوہ کئی ریاستیں جن میں مسلم اکثریت میں تھے لیکن وہ بھارت کے حصے میں دے دی گئی”اوہ تو اس طرح ہمارا ملک چھوٹارہ گیا”فائز بولا۔دادابولے” جی ہاں!پاکستان جومسلم اکثریتی ملک مشرقی اور مغربی پاکستان سے مل کر بنا تھاجن کے درمیان 1500 کلومیٹر سے زیادہ طویل بھارتی خطہ تھاجو سراسر زیادتی تھی”۔لائبہ بولی “تو اس پر مسلمانوں نے احتجاج نہیں کیا”؟۔دادا بولے “انگریز تقسیم پر راضی تھے ،یہی بات مسلمانوں کو امید دے رہی تھی۔اتنی طویل نوے سال پر محیط بر صغیر کے مسلمانوں کی جد جہد آزادی کے بعد بر طانوی سامراج کی بد دیانتی کے باعث جوعلاقے مسلمانوں کو مِلے،ان میں جغرافیائی اعتبارسے ربط ہی نہ تھا۔پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے میں ایک ہزار میل کا علاقہ بھارت کی تحویل میں تھا پھر وہاں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔تقسیم ایسی کی گئی کے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا آسان ہو۔تقسیم ہند کے منصوبے میں جانب داری اور برطانوی سامراج کی کینہ پروری کے باعث برصغیر کے مسلمانوں پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹُوٹ پڑے۔سکھوں اور ہندوؤں کی بے رحمی سے لوٹ مار اور قتل غارت گری کا یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا ہی رہاا۔کئی مسلمان اس ہجرت کے نتیجے میں ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ۔ نو آزاد مملکتوں میں سر حدوں کے تعیّن میں جو نانصافی اور بد دیانتی کی گئی اس کے باعث نہتے مسلمان مہاجرین کے قافلوں پر جن میں عورتیں ،کم سِن بچے اور معمر افراد بھی شامل تھے قاتلانہ حملے کیے گئے اور لُوٹ مار کی گئی ۔

تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے، ہزاروں خواتین کا استحصال ، انہیں اغواء کرلیا گیا اور ایک کروڑ سے زیادہ لوگ جوبے انتہا جاگیروں اور جائیدادوں کے مالک تھے،اچانک لٹے پٹے  مہاجر بن  گئے انتقالِ آبادی کے نتیجے میں پاکستان میں پس ماندہ اور مفلوک الحال طبقے کا معیارِ زندگی غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلا گیا ۔ ملک کی معیشت، دفاع ، تجارت ، صنعت اور دیگر تمام امور حالات کے رحم و کرم پر تھے  ۔ان تمام مسائل کے پس پردہ ریڈ کلف کی بد دیانتی کارفرماتھی جس نے تمام اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال کر ظلم اور انتقام کی درد ناک داستان رقم کی۔ پاکستان کی نوزائیدہ حکومت میں  اتنی جلدی اور اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کو سبنھالنے کی حالت میں نہیں تھیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوںمسلمان  بےگھر اور ہزاروںمسلمان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس تکلیف دہ صورتِ حال میں ملی درد اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے والے دیانت دار، مخلص اور جذبۂ ایثار سے سرشاربے لوث کارکنوں کی کمی شدت سے محسوس ہو نے لگی سب سے بڑا مسئلہ یہ تھاکہ پاکستان کی نو آزادمملکت کو مصائب کے کوہ ِگراں کے نیچے سسکتے ہوئے بے یارو مددگار تارکینِ وطن کے مسائل کے فوری حل اور ان کی آبرو مندانہ بحالی کا کٹھن مرحلہ درپیش تھا ۔

آزادی کے چند ماہ بعد ہی پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر میں جنگ چھڑ گئی۔تقسیم کے قانون کے تحت کشمیر مسلم اکثریتی صوبہ ہونے کے باعث پاکستان  کا حق تھا۔ کشمیریوں کی اکثریت مسلمان تھی لیکن وہاں کے ہندو راجہ نے ظالمانہ طریقے سےانڈیا سے الحاق کا فیصلہ کیا۔جب سیزفائر لائن کےپاربھارت کی ناجائز ریاست   جس میں بھارت نے زبردستی اپنی 7لاکھ فوج بھیج کر کشمیریوں پر ظلم و ستم کررہاتھا اچانک پاکستان نے کشمیر میں خفیہ کارروائی کی۔انڈیا نے جواب میں انٹرنیشنل سرحد پار کر کے لاہور پر حملہ کر دیا۔یہ لڑائی تین ہفتے تک جاری رہی جس میں انڈیا کی جانب سے ایک لاکھ اور پاکستان کےساٹھ ہزار فوجیوں نے اس میں حصہ لیا۔ دادا مشرقی پاکستان ہم سے کیوں جدا ہوا؟عاصم نے پوچھا۔دادا نے جواب دیا “بیٹا بنگالی بڑی محبت کرنے والی قوم ہے۔ ان کے دلوں میں نفرت کا بیج بویا گیا۔ بھارت نے اپنی دشمنی میں یہ مذموم کھیل کھیلا۔ عدم مفاہمت اور دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ملک کو دولخت کرنے کا سبب بنتا ہے”۔”لیکن دادا تقسیم کے وقت تو بنگال نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔یہ کیسے ہم سے الگ ہوگئے”فائز نے دادا سے پوچھا ۔دادا نے اداسی سے جواب دیا”بیٹا نفرت اور بدگمانی چیز ہی ایسی ہیں کہ اگر کسی کے دل میں آجائیں تو پیار ،محبت،خلوص سب کو نکال پھینکتی  ہیں ۔بھارت نےرفتہ رفتہ  اپنی کینہ پروری اور نفرت کے باعث مشرقی پاکستان میں اپنی سازشوں اور مکارانہ عمل سے  سورش برپا کی۔

ان کے دلوں کو مغربی پاکستان کے عوام اور حکمرانوں سے بدظن کردیا۔دشمن کا کام ہی دشمنی ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمراں دشمن کی دشمنی کے آگے بند باندھنے کے بجائے دشمن کو ایندھن فراہم کرتے رہے۔بھارنے سازگار حالات کافائدہ اٹھایااورمکتی باہنی بنائی اور اسمیں بنگال و بھارت  کے ہندووبنگالی افراد کو بھی شامل کیا اور انہیں تربیت دی۔  یہ فوج مشرقی پاکستان بھیجی گئی،جہاں یہ فوج محب وطن نھتے پاکستانی  اور مغربی پاکستان کےنھتے رہائشی  پاکستانی خاندانوں کو  بڑی سفاکیت سے چن چن کرقتل کرتی رہی۔”دادا ہمارےحکمرانوں نے کچھ نہیں کیا”سائرہ بولی۔دادا نے کہا،”جب ہمارے حکمرانوں نے کچھ کرنا چاہا تو حالات قابو سے باہر ہوچکے تھے۔پاکستان نے اپنی نوے ہزار فوج مشرقی پاکستان بھیجی لیکن عاقبت  نااندیش حکمرانوں کی لالچ،وسائل کی کمی،ہندوانہ مداخلت اور ذرائع ابلاغ کی کمی  کے سبب فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔کچھ  قید کرلیے گئے۔پاکستانی فوج اور پاکستان سے محبت کرنے والے بے دردی سے مار دیئے گئے۔شملہ معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ ہندوستان کی براہِ راست جارحیت کے باعث مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا تھا اور مغربی پاکستان کے لوگ اس پر بہت دکھی تھے جن پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی”۔”دادا اس جیت میں بھارت تو بہت خوش ہوگا ؟

“عاصم نے دادا سے پوچھا۔دادا بڑی اداسی سے بولے “میں اس وقت عاصم جتناہی  تھا سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان دیا کہ ’’آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے”۔یہ کہہ کر دادا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ابو نے کہا”اس وقت سے لے کر آج تک پاکستانی عوام کفر کے تسلط سے آزاد نہیں ہوپائے۔کیونکہ ہمارےحکمران کچھ اپنی غفلت  کے ہاتھوں میں آج تک کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں”۔دادا نے پھرکہناشروع کیا”لیکن ایک امید کا سورج تم ہو۔میری آنے والی نسل ،میری نوجوان نسل۔قائد اعظم کی طرح مجھے بھی اپنی اس نسل سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔میں اسی لئے ایک پل کے لئے بھی اس مٹی سے الگ نہیں ہوناچاہتا”۔یہ کہہ کردادا چپ ہوگئے۔ ابونے سائرہ کو ایک کاغذ پڑھنےکےلئےدیا۔اور سائرہ لہک لہک کر سب کواحمدندیم قاسمی کی دعائیہ نظم سنانے لگی۔اور دادا مسکرانے لگے۔

خدا کر ے کہ مری اَرضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل جسے َاندیشہ ٔ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
خداکرے کہ نہ خم ہو سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک فر د ہو تہذیب و فن کا اَوجِ کمال
کوئی مَلُول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خداکرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جُرم نہ ہو زِندگی وَبال نہ ہو

Add Comment

Click here to post a comment