Home » ہوم اسکولنگ کا سفر کیسے طے کریں ؟ نگہت حسین
بلاگز

ہوم اسکولنگ کا سفر کیسے طے کریں ؟ نگہت حسین

اکثر مائیں معلوم کرتی ہیں کہ ہم کو نہیں معلوم کہ ہوم اسکولنگ کیسے کی جاتی ہے ؟ان کے لئے جو اہمیت تو سمجھتی ہیں ہمت نہیں کر پاتی ہم ہوم اسکولنگ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دیکھیں گے تو بات سمجھنے میں اور آسان ہوجائی گی ۔ ۔۔۔۔ہوم اسکولنگ کے دو بنیادی عناصر ہیں ۔۔۔۔۔

1. تعلیم
2. تربیت
اور ان دونوں عناصر کا مرکز آپ کا بچہ ہے ۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ بچہ فطرت پر پیدا ہوا ہے ۔۔۔۔اپ کی تعلیم و تربیت دونوں کا بنیادی نکتہ اس فطرت کو قائم رکھنے ۔۔۔۔۔۔۔مزید خوب صورت بنانے اور نکھارنے کا ہے ۔سب سے پہلے ابتدائی عمر کی تعلیم جس کو عرف عام میں پری پرائمری مونٹیسوری کے جی جو بھی نام دے کر پڑھوایا جاتا ہے اس کے لئے والدین اسکول کا رخ کرتے ہیں ۔ ابتدائی عمر کے تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ ابتدائی عمر کے سات سال انتہائی اہم ترین ہیں ۔جس کے لئے سب سے تباہ کن چیز ہی اسکول ہیں ۔۔۔۔۔۔جہاں جبری مشقت ، موڈ و مزاج اور نفسیات کے تقاضوں کو سمجھے بغیر غیر فطری ماحول میں کچھ لکھنے پڑھنے کی تو مشق کروادی جاتی ہے لیکن اس کا تعلق علم اس کی محبت اور علم کی لذت سے نہیں ہوتا ۔

والدین اسکول میں داخل کیوں کرواتے ہیں ؟
اس لئے کہ ہم اسکول کو تعلیم کا مرکز سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جبکہ اسکول نہ تو تعلیم کا مرکز ہیں نہ تربیت کا ۔۔۔۔ اس کے بجائے گھر بچوں کے لئے وہ ساز گار جگہ ہے جہاں بچے فطری انداز میں ہر چیز سیکھ سکتے ہیں ۔۔۔اسکول علم کے بجائے ڈگریوں کی ترغیب دیتے ہیں ۔۔۔۔علمی لحاظ سے ناکارہ اور محتاج بناتے ہیں ۔جب کہ بچے کو علم حاصل کرنے کی لگن دے کر خود انحصار کرنا ترغیب لذت و تڑپ پیدا کرنا ہی اصل مقصود ہے ۔ اسی لئے ابتدائی عمر کے بچوں کی تعلیم فطری ماحول۔۔۔فطری طریقوں اور فطری انداز میں ہی موثر ہوگی ۔۔۔۔۔ان کو سات سال تک کاغذ اور پینسل پکڑوانے کی جبری مشقت اور اے فار ایپل پڑھنے کی بیگار کے ساتھ پری کلاسس میں پڑھنے کے ثبوت کے طور پر دئیے گئے مختلف کرتب دکھانے کی کوششوں سے بچنا چاہیے ۔ جو کہ اسکولوں کا معمول ہے ۔ ابتدائی عمر بچے کو خاص الخاص پیار دینے ۔۔۔۔۔باتیں کرنے۔۔۔سوالات کرنے ۔۔۔۔۔تجربات کرنے ۔۔۔۔۔۔مختلف لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے ۔۔۔۔خاندان رشتےدار ۔سےقربت اختیار کرنے ۔۔۔۔۔۔قدرت کے نظاروں ، مختلف جگہوں کی سیرو تفریح کرنے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ رنگوں سے کھیلنے ۔۔۔۔برش ۔۔۔۔ رنگین پینسلز۔۔۔۔۔کتابیں ۔۔۔۔۔کہانیاں ۔۔۔۔۔مکالمے ۔۔۔۔۔۔ڈرامے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ٹیبلو ۔۔۔۔۔۔نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کھیل کود کے لئے مختص کریں ۔۔۔۔اس کے لئے اوقات کار متعین کر یں یا صبح سے کچھ روزمرہ کے معمولات کا تعین کرلیں ۔۔۔۔۔یہ آپ کے حالات اور بچے کے مزاج کے اوپر منحصر ہے ۔لیکن ان معمولات پر گھڑی کہ سوئیوں جیسی پابندی کرنے کا مطلب سیکھنے کے ماحول کو بوجھل کرنا ہے ۔

اس ضمن میں والدین کی زمہ داری کیا ہے؟
پہلی زمہ داری یہ ہے کہ والدین کو بچے کی تعلیم کے حوالے سے خود کو پر اعتماد بنانے دوسروں پر انحصار کی کیفیت سے بچنے سے نکلنے کے لئے ابتدائی عمر اور اس کی تعلیم کی اہمیت طریقہ کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچوں کے دماغ کی نشوونما اور سیکھنے کی استعداد کیوں کیسے پر کوشش کر کے خود پڑھنا چاہیے سمجھ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ان تمام کوشش کے بغیر بغیر ہوم اسکولنگ بے کار ہے اس مقصد کے کے لئے ایسے لوگوں سے ملاقات کریں جو آپ کو بچے کی سیکھنے سکھانے کی استعداد اور طریقہ کار پربتاسکیں ۔۔۔۔یو ٹیوب میں مختلف اسکالز کی ۔۔۔۔ گفتگو سنیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ مختلف تحریریں پڑھیں۔۔۔۔۔۔ کسی ان لائن یا قریبی سوشل سرکل کو جوائن کریں جوبچوں کی تعلیم و تربیت کے مقصد کے لئے بنائے گئے ہوں ۔مقصد یہ ہے کہ سیکھنا سکھانا تربیت اور علم ایک مسلسل عمل ہے جس کے لئے والدین کو بھی اپنے آپ کو حصہ لے کر تیار کرنا چاہیے ۔ایک بچہ اس کی تربیت اور تعلیم ایک پراجیکٹ ہے جو والدین کے حصے میں آتا ہے ۔اس کے لئے والدین کا اپنے ذہنوں کو جلا بخشنا ۔۔۔۔معلومات لینا علم میں اضافہ کرنا ایک ذمہ داری ہے ۔کوشش کر کے ا بتدائی عمر کی تعلیمی ضروریات کے حوالے آن لائن ان سائٹ مختلف کورسس کی سہولت سے بھی فایدہ اٹھانا چاہیے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے) ۔۔۔۔۔

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。