Home » رمضان اللہ کی پہچان – عمبرین راشد
بلاگز

رمضان اللہ کی پہچان – عمبرین راشد

اللہ تعالی نے انسانوں اور جانوروں دونوں میں کچھ تقاضے رکھے ہیں حیوانی تقاضے اندھے اور بہرے ہوتے ہیں جبکہ انسانی تقاضے شریعت کے پابند ہوتے ہیں جسمانی ضروریات جسم کی تسکین چاہتی ہے جیسے بھوک میں کھانا لیکن یہ کھانا جائز بھی ہوسکتا اور ناجائز بھی اس کے لیئے روزہ ایک مشق و تربیت فراہم کرتا ہے،

یعنی ان چیزوں سے رک جانا جنکی شریعت اجازت نہیں دیتی جب ایک مہینہ اللہ کے خوف سے حلال سے رکیں گے تو بقیہ گیارہ مہینے حرام سے بچنے کی کوشش ضرور کریں گے یہ کوشش ہی دراصل ضبط نفس ہے جو تقوی کی صفت کو بڑھادیتی ہے تقوی قلب و روح،شعور أگہی،عزم و ارادہ،ضبط و نظم اورعمل و کردار کی اس قوت کا نام ہے جسکے ذریعے ہم ان غلط کاموں سے رک جاتے ہیں جو ہمارے لیئے نقصان دہ ہیں جتنا انسان لایعنی فضول مشاغل سے پرہیز کرتا ہے اسکا اسلام اتنا ہی خوبصورت ہوجاتا ہے اللہ رب العلمین کی ذات کتنی مہر بان ہے اسنے اپنے بندوں کے تزکئے کا کسقدر وسیع انتظام فرمادیا نبی کریم کی امت کو رمضان المبارک عطا کیا جسکی برکت بلاشبہ عظیم ہے اس مبارک مہینے میں قرآن پاک کا نزول شروع ہوا نزول قرآن کا عظیم الشان واقعہ اس بات کا متقاضی ہوا کہ ا سکے دنوں کو روزہ اور راتوں کو قیام اللیل کے لئے مخصوص کردیا “جو شخص اس مہینے کو پاۓ لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے” (بقرہ۱۸۵) یہ دوسروں کو نہ نظر انے والی عبادت اثرات و نتائج کے اعتبار سے صحیح معنوں میں جہاد اکبر ہے لہذا ترک خواہشات کو ہم دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپ سکتے روزہ تو خالص اللہ پر یقین سے قائم ہوتا ہے کہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یہ ہے وہ ایمان جو ہر وقت رب کے ہونے کا یقین دلاتا ہے

اللہ کے کتنے ہی نیک بندوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت اور رضا کی خاطر اپنے جسم کی جائز خواہشات اور اسکے ضروری مطالبات ترک کرکے گواہی دیں کہ صرف اللہ ہی ا نکا رب ہے جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے اسکی رضا ہی زندگی کی اصل بھوک و پیاس ہے اسکی خوشنودی ہی دلوں کی سیری ہےلہذاروزہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ اصل چیز اطاعت الہی ہے صرف حکم الہی ہی کسی عمل کے صحیح یا غلط ہونے کی سند ہے نیکی اور ثواب کھانے میں نہیں ہے نہ بھوکے رہنے میں ہے نہ جاگنے اور نہ سونے میں ہے یہ تو اللہ کی اطاعت اور فرمابرداری میں ہے قیام اللیل،قرأن پاک،اپنا احتساب اور استغفار تقوی کا حصول دراصل متقین کی صفت ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ”متقین ہی ہیں جو رات کو کم سوتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار پڑھتے ہیں “جس نے ایک دفعہ سحر گاہی کی لذت پالی تو وہ رمضان کے بعد بھی اس لذت کے پیچھے بھاگے گا رمضان المبارک ایسا نیکیوں کا موسم بہار لیکر اتا ہے جسمیں فضا بھلائیوں کے لئیے سازگار اور برائیوں کے لئے سد راہ بن جاتی ہے اس مبارک مہینے میں جہاں عبادتیں خوبصورت ہو جاتی ھیں وہاں دعا کا اہتمام بھی بہت ضروری ہے یہ نفل کی ایک صورت ہے مگر اس مہینے میں نفل فرض کے برابر فرض ستر گنا بڑھ جاتا ہے ذکر وازکار سے غفلت دور ہوتی ہے رمضان کی خیروبرکت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز ہوتی ہے

ذکر کی ایک صورت دعا ہے کہ سب کچھ اللہ ہی سے مل سکتا ہے سارے خزانوں کامالک صرف وہی ہے دعا اپنے سراپا محتاج اور فقیر ہونے کا اقرار ہے یہی اصل میں عبودیت کی روح ہےدعا مومن کا ہتھیار ہے اور دعا ہی عبادت کا مغز ہے اسلییے اپنی نمازوں کے بعد رات کی تنہائیوں میں سفر کی حالت میں ہوں یا بازاروں می چلتے ہوۓ ہوں ہمہ وقت امت مسلمہ کی پستی سے نکلنے کی دعا ملک کے استحکام و سالمیت کی دعا امت مسلمہ کے اتحاد کھوۓ ہوۓ مقام کو واپس لانے کی دعا خاص طور پر اس رمضان بھر پور فائدہ اٹھانے کی دعا کیجئے اس بات کو بھی یاد رکھئے کہ جبریل امین نے کہا
“اس آدمی پر ہلاکت ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنے گناہوں کی بخشش حاصل نہ کر سکا اور پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے جواب میں آمین کہا”

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。